سوویت دور کے اسلحے کی مرمت کے لیے طالبان اور روس میں معاہدہ
کابل/ماسکو(بولونیوز) روس نے ایک نئے معاہدے کے تحت افغانستان میں موجود سوویت دور کے فوجی ساز و سامان کی مرمت اور بحالی شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، جسے طالبان کی عسکری طاقت میں اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
افغان وزارتِ دفاع کے مطابق ملک میں اب بھی سوویت دور کے ٹینک، جنگی گاڑیاں اور ہیلی کاپٹر موجود ہیں۔ ان میں ٹی-55 اور ٹی-62 ٹینک، بی ایم پی-ون اور بی ایم پی-ٹو پیادہ فوج کی جنگی گاڑیاں، جبکہ ایم آئی-17 اور ایم آئی-24 ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔
افغانستان کے لیے روس کے صدارتی نمائندے ضمیر کابلوف نے بتایا کہ اس معاہدے پر گزشتہ ہفتے ماسکو میں ہونے والے انٹرنیشنل سکیورٹی فورم کے موقع پر دستخط کیے گئے۔ ان کے مطابق افغان فریق بنیادی طور پر روسی ساختہ فوجی ساز و سامان کی مرمت اور بحالی میں دلچسپی رکھتا ہے، اور یہ معاہدے پر عمل درآمد کی جانب پہلا عملی قدم ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت ولادی میر پوتن کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت روس طالبان کے ساتھ سفارتی اور فوجی تعلقات مضبوط کر رہا ہے۔ طالبان 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد مغربی دنیا سے بڑی حد تک الگ تھلگ ہیں۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ 1989 میں سوویت افواج کے افغانستان سے انخلا کے وقت بڑی تعداد میں فوجی ساز و سامان وہیں چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس جنگ میں کم از کم 13 ہزار 700 سوویت فوجی ہلاک جبکہ 40 سے 50 ہزار زخمی ہوئے تھے۔ روس خود کو سوویت یونین کا قانونی جانشین قرار دیتا ہے۔
2021 میں امریکہ کی قیادت میں نیٹو افواج کے عجلت میں انخلا کے بعد طالبان کے قبضے میں جدید مغربی فوجی ساز و سامان بھی آیا، تاہم ماہرین کے مطابق اس کا استعمال اور دیکھ بھال طالبان کے لیے مشکل ثابت ہوئی۔
نیٹو کی حمایت یافتہ سابق حکومت میں فوجی ساز و سامان کے انتظامات دیکھنے والے سابق افغان سکیورٹی اہلکار احمد شجاع جمال نے اس معاہدے کو ستم ظریفی قرار دیتے ہوئے کہا کہ طالبان کے کئی رہنما، جن میں وزیر دفاع ملا محمد یعقوب بھی شامل ہیں، ماضی میں سوویت افواج کے خلاف لڑتے رہے، جبکہ آج انہی کے ساتھ معاہدے کیے جا رہے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ چند پرانے ہیلی کاپٹر اور طیارے مرمت کے بعد قابلِ استعمال ہو سکتے ہیں، تاہم ان کی تعداد اتنی نہیں کہ خطے میں طاقت کا توازن یکسر تبدیل ہو جائے۔ اس کے باوجود روسی تعاون طالبان کے لیے عسکری اور علامتی طور پر اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔


