ڈی جی ایس بی سی اے کی تقرری کے خلاف درخواست، سندھ حکومت کا جواب جمع
کراچی(بولونیوز)سندھ ہائی کورٹ میں ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی تقرری کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت ہوئی، جہاں سندھ حکومت نے اپنا جواب عدالت میں جمع کرا دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ جواب کی نقول وکیل درخواست گزار کو فراہم کی جائیں، جبکہ درخواست گزار کے وکیل کو ہدایت کی گئی کہ آئندہ سماعت تک جواب الجواب جمع کرائیں۔
سابق اور موجودہ ڈی جیز کے خلاف درخواستوں پر بحث
سماعت کے دوران سابق ڈی جی کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ درخواست صرف موجودہ ڈی جی سے متعلق قابل سماعت ہے، کیونکہ دیگر سابق ڈی جیز اب عہدے پر موجود نہیں، اس لیے ان کے خلاف درخواستیں خارج کی جائیں۔
تاہم درخواست گزار کے وکیل نے اس مؤقف کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ سابق ڈی جی رشید سولنگی کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات جاری ہیں اور ان کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہے، لہٰذا ان کے خلاف درخواستیں بھی موثر ہیں۔
ایس بی سی اے کی تکنیکی نوعیت—’عمارتوں کا بیڑہ غرق ہوگیا‘
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ
’پورے شہر کا بیڑہ غرق ہوچکا ہے، کسی انجینئر کو ڈی جی ایس بی سی اے تعینات نہیں کیا جاتا۔‘
وکیل کے مطابق ایس بی سی اے ایک تکنیکی ادارہ ہے جس کا سربراہ سول انجینیئر، ٹاؤن پلانر یا آرکیٹیکٹ ہونا چاہیے، کیونکہ ادارہ تعمیراتی لائسنس، عمارتیں منہدم کرنے اور مخدوش قرار دینے جیسے اہم امور کی نگرانی کرتا ہے۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ عام بیوروکریٹ یا کسی اور شعبے کے انجینیئر کو ڈی جی نہیں لگایا جا سکتا۔
عدالت کی آبزرویشن اور آئندہ تاریخ
جسٹس یوسف علی سعدی نے ریمارکس دیئے کہ فریقین کے جواب مکمل ہونے دیں، کیس سن کر فیصلہ کیا جائے گا۔
عدالت نے سماعت چھ ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ڈی جی ایس بی سی اے کی تقرری کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔


