پنجاب میں زمینوں سے متعلق نیا قانون نافذ، اسٹامپ ایکٹ 1899 میں تاریخی ترمیم
لاہور(بولونیوز)حکومتِ پنجاب نے زمینوں اور جائیداد کے لین دین کو مزید شفاف، محفوظ اور آسان بنانے کے لیے 127 سال پرانے اسٹامپ ایکٹ 1899 میں ترمیم کرتے ہوئے اسٹامپ آرڈیننس 2026 (ترمیمی) نافذ کر دیا ہے۔ اس ترمیم کے تحت “قابلِ تفویض دستاویز” (Assignable Conveyance) کو پہلی مرتبہ باقاعدہ قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔
یہ اہم اقدام پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے، جس کا مقصد پراپرٹی سیکٹر میں غیر رسمی لین دین، بیانہ سسٹم اور فائل ٹریڈنگ کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے رجسٹرڈ اور قانونی طریقہ کار کو فروغ دینا ہے۔
نئے قانون کے مطابق قابلِ تفویض دستاویز پر بارہ ماہ تک صرف 1 فیصد اسٹامپ ڈیوٹی اور 0.1 فیصد سروس چارجز لاگو ہوں گے، جبکہ اس مدت کے دوران کسی قسم کے اضافی ٹیکس عائد نہیں کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ زرعی زمینوں کے انتقال اور رجسٹری فیس میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے، جس سے شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان ٹیکس کا فرق ختم ہو گیا ہے اور سرمایہ کاروں کے لیے یکساں ماحول فراہم کیا گیا ہے۔
قابلِ تفویض دستاویز دراصل جائیداد کے حقوق کی ایسی قانونی منتقلی ہے جس میں فوری حتمی بیع نامہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس دستاویز کے ذریعے جائیداد سے متعلق حقوق کسی دوسرے فرد کو منتقل کیے جا سکتے ہیں اور اس کا اندراج پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی کے ای-رجسٹریشن سسٹم میں رجسٹری کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ دستاویز حتمی ملکیت کا ثبوت نہیں، تاہم اس کے ذریعے تفویض دار کو جائیداد کے تمام حقوق آگے منتقل کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق حکومتِ پنجاب کا یہ اقدام پراپرٹی ڈیلرز اور سرمایہ کاروں کو مزید مضبوط کرے گا اور پراپرٹی سیکٹر میں سرمایہ کاری کو قانونی، محفوظ اور شفاف بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحات “شفافیت، سہولت اور تحفظ” کے اصولوں کے تحت متعارف کرائی گئی ہیں، جو مستقبل میں جائیداد کے نظام میں مثبت تبدیلی کا باعث بنیں گی۔


