Category: پاکستان

  • سرحد پار ڈرون دراندازی، پاکستان کی مؤثر جوابی کارروائی میں 4 ڈرون مار گرائے گئے

    کوئٹہ/بلوچستان(بولونیوز)آئی ایس پی آر کے مطابق افغان طالبان حکومت کی جانب سے بلوچستان کے علاقے میں سرحد پار ڈرون پروازیں کی گئیں، جنہیں پاکستانی فضائی دفاعی نظام نے فوری طور پر نشانہ بنایا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا فضائی دفاعی نیٹ ورک مکمل طور پر متحرک رہا اور مؤثر اور بروقت کارروائی کے نتیجے میں تمام آنے والے ڈرونز کو ناکارہ بنا دیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مجموعی طور پر چار ڈرونز کو کامیابی سے مار گرایا، جبکہ علاقے میں صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

  • سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں کمی، صارفین کے لیے خوشخبری

    کراچی(بولونیوز) شہر کی الیکٹرانکس مارکیٹ میں سولر سسٹمز کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق سولر پلیٹس، لیتھیم بیٹریاں اور انورٹرز گزشتہ چند ہفتوں کے مقابلے میں ہزاروں روپے سستے ہو گئے ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ لیتھیم بیٹریوں کی قیمتوں میں تقریباً 20 ہزار روپے تک کمی آئی ہے، جبکہ انورٹرز کی قیمتوں میں 10 ہزار روپے تک کمی دیکھی گئی ہے۔ اسی طرح سولر پلیٹس بھی فی پلیٹ تقریباً 3 ہزار روپے تک سستی ہو چکی ہیں۔

    مارکیٹ ماہرین کے مطابق قیمتوں میں کمی کے باعث گھریلو اور کمرشل صارفین کی دلچسپی میں اضافہ متوقع ہے، جبکہ توانائی کے متبادل ذرائع کی جانب رجحان مزید بڑھے گا۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ دنوں میں طلب میں واضح اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

  • مون سون سے قبل انتہائی مخدوش عمارتیں خالی کرانے کا فیصلہ

    کراچی(بولونیوز)کراچی میں مون سون بارشوں سے قبل شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے انتہائی مخدوش عمارتیں خالی کرانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم اجلاس کراچی کے کمشنر سید حسن نقوی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں شہر کی خطرناک عمارتوں سے متعلق تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کراچی میں مجموعی طور پر 584 مخدوش عمارتیں موجود ہیں، جن میں سے 59 عمارتیں انتہائی مخدوش قرار دی جا چکی ہیں۔ ان 59 عمارتوں میں 29 تاریخی عمارتیں بھی شامل ہیں۔

    ایس بی سی اے کے مطابق کراچی کی 90 فیصد سے زائد مخدوش عمارتیں ضلع جنوبی میں واقع ہیں، جہاں صرف ضلع جنوبی میں 442 مخدوش عمارتیں موجود ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ انتہائی مخدوش عمارتوں کو فوری طور پر خالی کرانے کے لیے نوٹس جاری کیے جائیں گے۔

    کمشنر کراچی نے ہدایت کی کہ مخدوش عمارتوں کی مکمل فہرست فوری طور پر ڈپٹی کمشنرز کو فراہم کی جائے اور شہریوں کی آگاہی کے لیے ان عمارتوں کی فہرست باقاعدہ طور پر مشتہر کی جائے۔ مزید کہا گیا کہ اگر نوٹس پر عمل نہ ہوا تو گیس، بجلی اور پانی کے کنکشن منقطع کیے جائیں گے۔

    اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ عمارتوں کی نوعیت کے مطابق مسماری کی کارروائی کی جائے گی، جبکہ متاثرہ مکینوں کے لیے عارضی رہائش اور بحالی کے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

    کمشنر کراچی سید حسن نقوی کا کہنا تھا کہ شہریوں کی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے مخدوش عمارتوں کے خلاف ترجیحی بنیادوں پر کارروائی کی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مکینوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانا انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

  • راہگیر خاتون سے نازیبا حرکات کرنے کا مقدمہ، ملزم جیل منتقل

    کراچی(بولونیوز)کراچی میں راہگیر خاتون سے نازیبا حرکات کرنے کے مقدمے میں پولیس نے ملزم کو عدالت میں پیش کر دیا، جہاں عدالت نے ملزم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔

    پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت سجاول عرف فیاض کے نام سے ہوئی ہے، جس کی ویڈیو واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی۔ پولیس نے وائرل ویڈیو کی مدد سے ملزم کی شناخت کی اور اسے گرفتار کیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش ملزم نے اعتراف کیا کہ یہ واقعہ 22 جون کی دوپہر کو رحمت چوک کے قریب پیش آیا تھا۔ متاثرہ خاتون کی مدعیت میں ملزم کے خلاف پاکستان بازار تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    عدالتی کارروائی کے بعد ملزم کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ پولیس کے مطابق کیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔یہ واقعہ کراچی میں پیش آیا۔

  • سندھ ریونیو بورڈ نے ٹیکس وصولی میں نیا تاریخی ریکارڈ قائم کر لیا

    کراچی(بولونیوز)کراچی میں سندھ ریونیو بورڈ نے مالی سال 2025-26 کے دوران ٹیکس وصولی میں نیا تاریخی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ بورڈ نے مجموعی طور پر 370 ارب روپے سے زائد ٹیکس جمع کیا، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زیادہ اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

    ایس آر بی کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ سیلز ٹیکس کی مد میں 344 ارب روپے سے زائد کی وصولی کی گئی، جبکہ زرعی انکم ٹیکس کی وصولی پہلی بار ایک ارب روپے سے تجاوز کر گئی، جسے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

    جون 2026 کے دوران سندھ ریونیو بورڈ نے 45 ارب روپے سے زائد کا ریکارڈ ماہانہ ٹیکس جمع کیا۔ مئی کے مقابلے میں جون میں ٹیکس وصولی میں 28 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    حکام کے مطابق ملک میں جاری معاشی مشکلات کے باوجود سندھ ریونیو بورڈ کی ٹیکس وصولی میں یہ نمایاں کامیابی مؤثر پالیسیوں، بہتر انتظامی اقدامات اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کا نتیجہ ہے۔

  • نیب کی ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر اشفاق حسین کھوکھر کے خلاف خفیہ انکوائری شروع

    کراچی(بولونیوز)نیب کراچی نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر اشفاق حسین کھوکھر کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے اور مبینہ کرپشن کے الزامات پر خفیہ انکوائری شروع کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق نیب کراچی نے سیکشن 19 نیب آرڈیننس کے تحت متعلقہ افسر سے مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا ہے۔ نوٹس میں ڈی جی ایس بی سی اے کو بھی ریکارڈ کے نگران افسر سمیت طلب کیا گیا ہے، جبکہ سروس ریکارڈ، اثاثہ جات کی تفصیلات، تنخواہوں، بینک اکاؤنٹس، قرضوں، مالی مراعات، ٹیکس ریٹرنز اور ذاتی فائل کی مصدقہ نقول فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    نیب نے ہدایت کی تھی کہ اشفاق حسین کھوکھر سے متعلق تمام ریکارڈ یکم جون کو نیب کراچی کے دفتر میں پیش کیا جائے، تاہم ایس بی سی اے افسران کی جانب سے تاحال مطلوبہ ریکارڈ جمع نہیں کرایا جا سکا۔ نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ عدم تعاون، غلط معلومات فراہم کرنے یا تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کی صورت میں نیب آرڈیننس کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے، جس میں 10 سال تک سزا کی شق بھی شامل ہے۔

    نیب کا کہنا ہے کہ موصول ہونے والی شکایت پر ابتدائی جانچ کے بعد انکوائری کا آغاز کیا گیا ہے اور طلب کردہ ریکارڈ انکوائری کے لیے اہم شواہد کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایس بی سی اے حکام کو تحقیقات میں مکمل تعاون کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ ڈائریکٹر اشفاق حسین کھوکھر سمیت ایس بی سی اے کے متعدد افسران کو لیاری میں عمارت گرنے کے واقعے پر معطل کیا جا چکا ہے۔ اشفاق حسین کھوکھر پر قومی ورثہ قرار دی گئی عمارت کو بغیر اجازت منہدم کرنے پر مقدمہ بھی درج ہوا تھا، جبکہ انہیں چیف سیکرٹری کی ہدایت پر معطل کیا گیا تھا۔

  • پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضیٰ کی متنازعہ بل پر پریس کانفرنس

    لاہور(بولونیوز)پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضیٰ نے نئے متنازعہ بل کے خلاف لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت پر شدید تنقید کی۔

    پریس کانفرنس میں عثمان ملک، چودھری اختر، میاں ایوب، عائشہ نواز چودھری، روبینہ شاہین وٹو، ڈاکٹر خیام حفیظ، راؤ بابر جمیل، ملک عمران کھوکھر، فائزہ ملک، ذیشان شامی، راؤ خالد سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

    سید حسن مرتضیٰ نے کاہنہ اسکول حادثے میں 14 معصوم بچوں کی حادثاتی اموات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا حادثہ سندھ میں پیش آتا تو قوم کسی نتیجے پر پہنچ چکی ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ اس علاقے کی محرومیوں کی عکاسی کرتا ہے اور اگر بلدیاتی ادارے موجود ہوتے تو حادثے کے بعد مؤثر پوچھ گچھ ممکن ہوتی۔

    انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت کے اس مائنڈ سیٹ پر تشویش کا اظہار کرتی ہے اور مطالبہ کیا کہ پنجاب میں فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں، کیونکہ بنیادی جمہوریت کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے وہاں بلدیاتی ادارے فعال ہیں، مگر پنجاب میں بلدیاتی نظام اس خوف سے نہیں بنایا جا رہا کہ حکمرانوں کی تصویریں نہیں لگ سکیں گی۔

    پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ کبھی کابینہ کے ذریعے اور کبھی مختلف ایکٹس (2021 اور 2025) کے ذریعے قانون سازی کی جا رہی ہے، جبکہ یہ پہلی حلقہ بندی ہے جس میں پٹواری سرکل توڑ دیے گئے ہیں تاکہ اپنے لوگوں کو جتوایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار آتا جاتا رہتا ہے مگر چند من پسند لوگوں کو خوش کرنے کے لیے پورا نظام تباہ کیا جا رہا ہے۔

    سید حسن مرتضیٰ نے کہا کہ سرکاری افسر پٹواری اور منشی بنے ہوئے ہیں، پہلے سزا دی جا رہی ہے اور بعد میں ٹرائل کی بات ہو رہی ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 4 کے تحت آئین سے متصادم قوانین بنائے جا رہے ہیں اور مقدمات کی بنیاد پر ایسے قوانین کل کسی پر بھی لاگو ہو سکتے ہیں۔

    انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی ایسے قوانین کو مسترد کرتی ہے اور عوام کو اکیلا نہیں چھوڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم تحفظات کے ساتھ پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں جائیں گے، ہمارا مقصد صرف عوام کے حقوق کا تحفظ ہے، نہ کہ ذاتی مفادات۔

    سید حسن مرتضیٰ نے معاشی صورتحال پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایکسپورٹس ختم، انڈسٹری بند اور صرف چند خاندانوں کی تجوریاں بھری جا رہی ہیں۔ کاشتکار کو معیاری کھاد اور سپورٹ پرائس دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی مذاکرات پر یقین رکھتی ہے اور آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں۔

    آخر میں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خدا کے لیے عوام کی آواز بند کرنے سے پہلے انہیں ریلیف دیا جائے، کیونکہ بچوں کی لاہور میں ہونے والی حادثاتی اموات نے حکومتی دعوؤں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

  • حکومتِ سندھ کا ڈیجیٹل گورننس کی جانب بڑا قدم، بجٹ مینجمنٹ سسٹم لانچ

    کراچی(بولونیوز)حکومتِ سندھ نے ڈیجیٹل گورننس کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے بجٹ مینجمنٹ سسٹم لانچ کر دیا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت صوبے کے ترقیاتی امور کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔

    محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ سندھ نے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر دیا ہے، جبکہ مالی سال 2026-27 کا اے ڈی پی بھی اسی نئے ڈیجیٹل سسٹم کے تحت تیار کیا گیا ہے۔

    نئے نظام کے نفاذ کے بعد ترقیاتی اسکیموں میں کاغذی کارروائی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ اب ہر ترقیاتی اسکیم کو منفرد ڈیجیٹل آئی ڈی اور اے ڈی پی نمبر دیا جائے گا، جس سے ریکارڈ کا شفاف اور منظم انتظام ممکن ہو سکے گا۔

    بجٹ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے انسانی غلطیوں میں کمی اور فنڈز کی منصفانہ و شفاف تقسیم کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس خودکار نظام سے مختلف محکموں کے درمیان فیصلہ سازی، نگرانی اور مانیٹرنگ کا عمل بھی تیز تر ہو جائے گا۔

    حکام کے مطابق پراجیکٹس کی منظوری، آڈٹ ٹریل اور بجٹ بک کی تیاری اب مکمل طور پر پیپر لیس ہوگی، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ حکومتی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

  • انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی، تین مبینہ سہولت کار گرفتار

    اسلام آباد(بولونیوز)وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی نے انسانی اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تین مبینہ انسانی اسمگلرز کو گرفتار کر لیا۔ کارروائی ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی زون کی ہدایات پر اور ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی کی نگرانی میں کی گئی، ترجمان ایف آئی اے۔

    ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت ارشاد علی کلہوڑو، محمد قاسم عرف راجہ قاسم اور کامران زمان کے نام سے ہوئی ہے۔ ملزمان کو ایف آئی آر نمبر 188/2026 کے تحت مختلف کارروائیوں کے دوران حراست میں لیا گیا۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان پاکستانی شہریوں کو بیرون ملک روزگار کا جھانسہ دے کر آذربائیجان بھیجنے اور غیر قانونی امیگریشن میں سہولت کاری میں ملوث تھے۔ ملزمان نے بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد سے بھاری رقوم وصول کیں اور قانونی ورک ویزوں کے بجائے وزٹ ویزوں کے ذریعے روانگی کے انتظامات کیے۔

    ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزمان لازمی امیگریشن قوانین کو بائی پاس کرتے ہوئے غیر قانونی طریقوں سے افراد کو بیرون ملک بھجوانے میں ملوث رہے۔ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان بیرون ملک موجود اپنے ساتھیوں کے ساتھ رابطے میں تھے، جو مسافروں کے پہنچنے کے بعد ان کے قیام اور روزگار کے معاملات میں سہولت کاری کرتے تھے۔

    گرفتار ملزمان میں ارشاد علی کلہوڑو کو صدر کراچی، محمد قاسم کو سندھی مسلم سوسائٹی کراچی جبکہ کامران زمان کو گلستانِ جوہر بلاک 16 کراچی سے گرفتار کیا گیا۔

    ترجمان کے مطابق نیٹ ورک کے دیگر ارکان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • انڈیا کے ساتھ تصادم نہیں چاہتے، مگر پانی روکنا جنگی اقدام تصور ہوگا، پاکستان کی وارننگ

    اسلام آباد(بولونیوز)پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ انڈیا کے ساتھ کسی قسم کے ’تصادم‘ یا ’تنازع‘ کا خواہاں نہیں، تاہم سندھ طاس معاہدہ کے تحت پاکستان کے آبی وسائل کو روکنے یا ان کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو ’جنگی اقدام‘ سمجھا جائے گا۔

    اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے پر منعقدہ ایک بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ انڈیا کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا نہ تو کوئی جواز ہے اور نہ ہی بین الاقوامی قانون میں اس کی اجازت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی اور سفارتی راستہ اختیار کرے گا۔

    یاد رہے کہ اپریل 2025 میں پہلگام حملے کے بعد انڈیا نے الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا، جسے پاکستان نے مسترد کرتے ہوئے عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کیا۔ نیدرلینڈز کے شہر ہیگ میں قائم کورٹ آف آربٹریشن نے واضح کیا تھا کہ انڈیا معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا، تاہم انڈیا نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا۔

    اسحاق ڈار نے قومی سلامتی کمیٹی کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس پر قائم ہے کہ پانی روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوشش کو جنگی اقدام سمجھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو حاصل آبی حقوق سے محروم کرنے کی کوئی بھی کوشش علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین اور دور رس نتائج کی حامل ہوگی۔

    سیمینار میں پاکستان میں انڈس واٹر کے کمشنر سید محمد مہر علی شاہ نے بتایا کہ اپریل کے بعد سے وہ دریائے چناب کے بہاؤ میں غیر معمولی تبدیلیوں پر اپنے انڈین ہم منصب کو چار خطوط لکھ چکے ہیں، مگر تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ محض فنی نہیں بلکہ ایک تزویراتی خطرہ ہے۔

    نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ پانی پاکستان کے 25 کروڑ سے زائد عوام کی زندگی، زراعت، توانائی، معیشت اور قومی سلامتی کی بنیاد ہے، اس لیے دریاؤں کے بلا تعطل بہاؤ کا تحفظ ناگزیر ہے۔ انہوں نے انڈیا کو مشورہ دیا کہ مشترکہ آبی وسائل کو تنازع کا ذریعہ بنانے اور خطے کے امن کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کرے۔