Author: Nadeem Ahmed Jamal

  • کراچی اور سندھ کی عوام کو ہم نے ماسٹر پلان دیا، مگر عملدرآمد تاحال نہیں ہوا، علی خورشیدی

    کراچی(بولونیوز) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی خورشیدی نے کہا ہے کہ کراچی اور سندھ کی عوام کو ایک جامع ماسٹر پلان دیا گیا جسے سندھ حکومت پہلے ہی انڈورس کرچکی ہے، مگر بدقسمتی سے اس پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسا پلان جو پہلے ہی گزٹ ہو چکا ہے، اسے مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے جو حکومت کی نیت پر سوال اٹھاتا ہے۔

    علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ ماسٹر پلان پر عملدرآمد نہ کرنا سندھ حکومت کی غیر سنجیدگی اور ترجیحات کے بدلتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ ’’یہ شہریوں کو اُن کے بنیادی حقوق سے دور رکھنے کے مترادف ہے۔ اگر حکومت واقعی عوام کا بھلا چاہتی ہے تو منظور شدہ ماسٹر پلان پر فوری عمل درآمد کرے،‘‘ انہوں نے زور دیا۔

    انہوں نے کہا کہ کراچی کا مقدمہ ہم لڑ رہے ہیں اور لڑتے رہیں گے۔ ’’بدقسمتی سے اسمبلی میں عددی اکثریت رکھنے والے افراد کو کراچی کی کوئی فکر نہیں،‘‘ علی خورشیدی نے کہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر کی تعمیر و ترقی صرف باتوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ہوگی۔

    علی خورشیدی نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ ماسٹر پلان پر فوری عمل کیا جائے تاکہ کراچی سمیت پورے صوبے میں دیرپا ترقی کی راہ ہموار ہوسکے۔

  • شوکت خانم ماڈل اسکول شاہ فیصل ٹاؤن میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد

    کراچی(بولونیوز) چیئرمین شاہ فیصل ٹاؤن گوہر علی خٹک کی ہدایت پر شاہ فیصل کالونی نمبر 2 کے شوکت خانم ماڈل اسکول میں کراچی بابری لائنس کلب کے تعاون سے فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ کیمپ میں نیوٹریشن، فزیوتھراپی اور امراضِ چشم کے ماہر و تجربہ کار ڈاکٹروں نے طلبہ و طالبات کا معائنہ کیا اور مفت آنکھوں کا چیک اپ فراہم کیا۔

    ماہرین نے بچوں کی آنکھوں کا باریک بینی سے معائنہ کیا جبکہ جن طلبہ کو فوری علاج کی ضرورت تھی ان کے لیے موقع پر ہی مناسب اقدامات کیے گئے۔ علاوہ ازیں جن بچوں کو لینس درکار تھے، اُن کے لیے مفت لینس کی فراہمی کا بھی خصوصی انتظام کیا گیا۔

    کیمپ کے دوران ڈائریکٹر ایجوکیشن خورشید عالم نے تمام شریک ماہرین اور منتظمین، جن میں ڈسٹرکٹ گورنر 305 ساؤتھ لائنس احسن ارشد شیخ، مدد ہیلتھ کیئر کے سی ای او میجر امان اللہ، کراچی بابری لائنس کلب کی صدر آسیہ اختر، چیئرپرسن عمران پنجوانی اور اُن کی ٹیم شامل تھی، کا شکریہ ادا کیا۔

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے خورشید عالم نے کہا کہ بچوں کی تعلیم کے ساتھ ان کی صحت و تندرستی کو یقینی بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ ’’صحت مند ذہن ہمیشہ صحت مند جسم میں پنپتا ہے۔ اگر ہم ترقی یافتہ اقوام کی صف میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو جدید تعلیم اور بہتر صحت فراہم کرنا ضروری ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔

    ڈائریکٹر ایجوکیشن نے مزید کہا کہ دین اسلام نے تعلیم حاصل کرنے کی واضح ہدایت دی ہے اور ہمارے نبی کریم ﷺ نے علم حاصل کرنا ہر مرد و عورت پر فرض قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہ فیصل ٹاؤن میں قائم تمام بلدیاتی اسکولوں کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں اور مستقبل میں دیگر اسکولوں میں بھی اسی طرز پر میڈیکل کیمپ منعقد کیے جائیں گے تاکہ بچوں کی صحت اور تعلیم کے درمیان بہترین توازن برقرار رہے۔

  • مین ہول میں گرکرجاں بحق ہونےوالا ابراہیم،بچے کی لاش نکالنے والے خاکروب کوپولیس کے تھپڑ

    کراچی(بولونیوز)کراچی کے علاقے نیپا چورنگی پر کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے والے تین سالہ بچے ابراہیم کی لاش نکالنے والے خاکروب نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔نجی ٹی وی کو انٹرویودیتے ہوئے خاکروب نے بتایا کہ
    “میں نے بچے کی لاش نکال کر انکل کو دی، پولیس اہلکاروں نے پوچھا تم کون ہو؟
    جب میں نے بتایا کہ میں نے ہی لاش نکالی ہے تو وہ مجھے تھپڑ مارنے لگ گئے۔”

    واقعے کے بعد علاقے میں خوف و غم کی فضا برقرار ہے۔

    علاقہ کونسلر کبیر نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ:

    بچے نے خود لاش ڈھونڈ کر سوزوکی میں ڈلوائی

    لاش بعد ازاں اہل خانہ کے حوالے کی گئی

    کل رات سے واٹر بورڈ کے ریسکیو ادارے موقع پر موجود تھے، “مگر انہیں گٹر لائن کا ہی علم نہیں تھا”

    شہریوں نے کھلے مین ہولز کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے مؤثر اقدامات کی اپیل کی ہے۔

  • کراچی میں گٹروں کے کھلے ڈھکن حکومتی نااہلی کا پلندہ ثابت ہوچکے ہیں، حلیم عادل شیخ

    کراچی(بولونیوز) کراچی پریس کلب میں پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے پی ٹی آئی سندھ کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر مسرور سیال، پی ایس 09 شکارپور، پر پی ٹی آئی امیدوار آغا امتیاز، آغا رسلان، ایم پی اے ریحان بندوکڈا، محمد علی بلوچ معظم خان، فاروق کورائی، باثرعلی خان سمیت دیگر رہنمائوں کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات گلشن اقبال میں تین سالہ معصوم بچہ ابراھیم کھلے گٹر میں گر کر جاں بحق ہوگیا، والدین شاپنگ کے لیے نکلے تھے لیکن پیپلز پارٹی کی نااہلی کی وجہ سے کھلے گٹروں نے ایک اور خاندان کی زندگی اجاڑ دی۔

    انہوں نے کہا پندرہ گھنٹے تک متاثرین علاقوں مکینوں کی مدد کے تحت تلاش کے بعد بچے کی لاش نکالی گئی۔ سندھ حکومت کو 18 سالوں میں تیس ہزار ارب روپے ملے لیکن کراچی شہر میں گٹروں کے ڈھکن تک نہیں ہیں، میئر پیپلز پارٹی کا ہے، صوبائی حکومت پیپلز پارٹی کی ہے، انہیں ذمہ داری سے بھاگنے نہیں دیں کے اس نااہلی پر ابراہیم کے قتل کا مقدمہ لیکر عدالت جائیں گے۔ انہوں ںے کہا اربوں روپے ٹیکس دینے والا یہ شہر کراچی بنیادی سہولیات سے محروم ہونے نہیں دیں گے۔ معصوم بچے کے افسوسناک واقعہ پر بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ اور میئر کراچی جواب دیں کہ آخر معصوموں کی جانوں کا محافظ کون ہے؟ کراچی کا مینڈیٹ چرایا گیا، جماعت اسلامی کو بھی ہماری نشستیں دی گئیں ہم عوام کی طاقت سے دوبارہ اپنا چھینا گیا مینڈیٹ واپس لیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ 8 فروری کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی، انتخابی نشان چھین کر زبردستی غیر منصفانہ ماحول میں الیکشن لڑوایا گیا۔ فارم 47 کے ذریعے پی ٹی آئی کی جیتی ہوئی نشستیں دوسروں کو منتقل کی گئیں۔ الیکشن 2024 پر 300 صفحات پر مشتمل وائٹ پیپر جاری کیا گیا جو عالمی اداروں اور غیر ملکی میڈیا رپورٹس پر مبنی تھا۔ 158 انتخابی عذرداریوں کی درخواستیں دائر ہوچکی ہیں مگر کسی ایک پر بھی فیصلہ نہیں ہوا۔ 180 نشستیں جیتنے کے باوجود فارم 47 کے ذریعے نتائج تبدیل کیے گئے جبکہ سپریم کورٹ میں ہماری پٹیشن ابھی تک سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی۔ عوام کے ووٹ ہارنے والے امیدواروں کے کھاتوں میں منتقل کیے گئے، 90 دن میں الیکشن نہ کراکے آئین کی صریح خلاف ورزی کی گئی۔

    حلیم عادل شیخ نے بتایا کہ پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ بدترین زیادتیاں کی گئیں، جھوٹے مقدمات میں سزائیں سنائی گئیں۔ عمران خان 850 دن سے قید میں ہیں جنہیں 14 سال کی سزا سنائی گئی۔ بشریٰ بی بی 586 دن سے قید میں ہیں، شاہ محمود قریشی 840 دن سے، یاسمین راشد، عمر ایوب، شبلی فراز، حسان نیازی سمیت متعدد رہنماؤں کو 30 سال تک کی سزاؤں کا سامنا ہے۔ ہم ان سب کے مظالم کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ہری پور میں کھلی دھاندلی کی گئی۔ این اے 18 ہری پور کے ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی امیدوار شہرناز عمر ایوب فارم 45 پر 25 ہزار ووٹوں سے جیت رہی تھیں لیکن فارم 47 میں نتائج تبدیل کرکے 43,776 ووٹوں سے مخالف امیدوار کو جتوا دیا گیا، یعنی قریب 70 ہزار ووٹوں کا جعلی فرق بنایا گیا۔ ہمارے پاس 589 اصل اور تصدیق شدہ فارم 45 موجود ہیں جن پر پریزائیڈنگ افسران کے دستخط، انگوٹھے اور پولنگ ایجنٹس کی توثیق موجود ہے۔ شہرناز عمر ایوب نے 395 پولنگ اسٹیشنز جیتے تھے۔ الیکشن کمیشن کے پورٹل پر فارم 45، 46 اور 48 ایک بھی اپلوڈ نہیں کیا گیا جو دھاندلی کا اقرار ہے۔ پریزائیڈنگ افسران کو سیکنڈوں میں فارم چھوڑ کر جانے پر مجبور کیا گیا، نتائج غالباً اسلام آباد سے ریموٹلی فرض کیے گئے۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ ایسی دھاندلی زدہ الیکشن ہرگز قبول نہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے کی طرح ہری پور ضمنی الیکشن پر بھی ڈاکہ ڈال چکا ہے۔ اسی بنیاد پر پی ایس 9 شکارپور کے ضمنی انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہیں۔ پی ایس 9 پر ہمارے امیدوار آغا امتیاز مضبوط امیدوار تھے لیکن موجودہ صورتحال میں الیکشن لڑنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ نتائج پہلے سے تیار کرلیے جاتے ہیں۔ عمرکوٹ سمیت کئی حلقوں میں نتائج تبدیل کیے گئے اور الیکشن کو گورکھ دھندہ بنا دیا گیا ہے۔

    حلیم عادل شیخ نے کہا کہ عمران خان عالم اسلام کے لیڈر ہیں۔ ایک ماہ سے ان کی ملاقاتیں بند ہیں جو انتہائی تشویشناک ہے۔ صوبے کے عوام کے نمائندے وزیراعلیٰ کے پی کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی۔ عمران خان اس ملک و قوم کے حقوق کی خاطر جیل میں قید ہیں اور سختیاں برداشت کر رہے ہیں قوم کو بھی اب فیصلہ کرنا ہوگا اس ملک اور عمران خان کے خاطر نکلنا ہوگا۔

    آغا امتیاز نے کہا کہ انہیں انتخابی نشان بھی الاٹ ہوچکا تھا لیکن دھاندلی کی صورتحال کے پیش نظر الیکشن سے دستبردار ہونا ناگزیر تھا۔

    ڈاکٹر مسرور سیال نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کردار پاکستان کی تاریخ کا بدترین کردار بن چکا ہے۔ فارم 45 کی کوئی قدر نہیں رکھی گئی۔ مخصوص نشستوں کا فیصلہ بھی جمہوری تاریخ پر بدنما دھبہ ہے۔ شفاف الیکشن ہوتا تو شکارپور سمیت ہر جگہ کامیابی حاصل کرتے۔ اس لئے ہم نے پی ایس 9 شکارپور ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما آغا ارسلان نے کہا کہ سندھ میں شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں بھی پی ٹی آئی کی اکثریت ہے ۔ کراچی ہو یا شکارپور، ضمنی انتخابات میں فارم 47 پہلے سے تیار رکھا جاتا ہے، عوام کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہ گئی۔ سندھ کے شہری علاقوں کی طرح دیہی علاقوں میں بھی پی ٹی آئی کا ووٹ بینک طاقتور ہے۔ ہماری الیکشن کی تیاری مکمل تھی لیکن دھاندلی زدہ الیکشن کمیشن کے زیر نگرانی کسی الیکشن کا حصہ نہیں بن سکتے۔

  • ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس: 3 دسمبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اہم سماعت ہوگی

    کراچی(بولونیوز)عافیہ موومنٹ پاکستان کےترجمان محمدایوب نےکہا ہے کہ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی صحت، رہائی اور وطن واپسی سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن نمبر WP-3139/2015کی اہم سماعت 3 دسمبرکوہوگی۔ جس کی سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر کی سربراہی میں جسٹس خادم حسین سومرو، جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل چار رکنی لارجر بنچ کرے گا۔ڈاکٹرفوزیہ صدیقی جواس وقت ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی عالمی جدوجہد کےسلسلےمیں ملائیشیا کے دورے پر ہیں، ڈاکٹر عافیہ کے امریکی وکلاءسمیت سماعت میں آن لائن شرکت کریں گی۔واضح رہے کہ 20 نومبر کو ہونے والی سماعت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے حکومت پاکستان سےہدایات حاصل کرنےکے لیے کچھ وقت دینے کی استدعا کی تھی۔ ترجمان محمد ایوب نے کہا کہ ایمکس بریف (Amicus Brief)کامسودہ وزارت قانون وانصاف اوراٹارنی جنرل آف پاکستان کی مشاورت سے تیار کیا گیا تھا پھر اس پر دستخط کرنے میں کیا رکاوٹ حائل ہوگئی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر عافیہ کی امریکی جیل سے رہائی حکومت پاکستان کی مدد اور توسط سے ہو تاکہ یہ تکلیف دہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہوجائے اور کسی کوبھی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا نہ پڑے اور اس دردناک کیس کا باب ہمیشہ کے لیے بند بھی ہوجائے ۔ڈاکٹر عافیہ کی رہائی سے ایک بے گناہ پاکستانی ماں کو قید ناحق سے رہائی اور ایک تڑپتی و سسکتی ماں کی ممتا کو اپنے بچوں سے مل کر تسکین بھی مل جائے گی ۔

  • ٹوٹی سڑکیں اور کھلے مین ہولز روزانہ حادثات کا باعث بن رہے ہیں۔ علامہ صادق جعفری

    کراچی(بولونیوز)مجلس وحدت مسلمین کراچی کے صدر علامہ صادق جعفری نے نیپا چورنگی کھلے گٹروں کے ڈھکن نہ ہونے کے باعث ایک معصوم بچہ جاں بحق ہونے کے افسوسناک سانحے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر قائد تین سالہ بچہ کے ساتھ حادثہ کی ذمہ دار ی جعلی میئر مرتضیٰ وہاب کے خلاف قتل کا مقدمہ قائم کیا جائے۔شہر میں انفرا اسٹرکچر کی بدترین صوتحال ٹوٹی سڑکیں اور کھلے گڑر کے مین ہول آئے دل ہادثوں کا باعث بن رہی ہیں۔کھلے گٹروں کے ڈھکن نہ ہونے کے باعث ایک معصوم بچہ جاں بحق ہونے کا المناک واقعہ شہری انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کررہا ہیں۔ میئر کراچی اور متعلقہ محکمے شہریوں کی بنیادی حفاظتی ضروریات پوری کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کی بارہا شکایات کے باوجود گٹروں کے ڈھکن نہ لگانا سنگین غفلت اور انتظامی بے حسی کا واضح ثبوت ہے۔ عوامی نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں، مگرآئے دن کے حادثات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ شہری حکومت اپنی بنیادی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہے نا اہل، جعلی میئر شہر کو ماڈرن سٹی نہیں آثار قدیمہ کی طرف دکھیل رہے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہر بھر میں ہنگامی بنیادوں پر کھلے مین ہولز کو بند کیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔نا اہل جعلی میئر کو فوری برطرف کیا جائے، سندھ حکومت فوری نوٹس لے مؤثر اقدامات اٹھانے جائیں تاکہ آئندہ ایسے دل خراش واقعات کی روک تھام ہو۔دریں اثناء معصوم بچہ کے سانحہ مجلس وحدت مسلمین سندھ کے رہنما علامہ حیات عباس نجفی،علامہ مقصود علی ڈومکی سمیت دیگر رہنماوں نے حکومتی نا اہلی پرشدید تنقید کرتے ہوئے واقعہ میں جاں بحق ہونے والے کمسن ابراہیم کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔

  • دودھ کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف درخواست،دودھ کے نمونے غیر معیاری قرار

    کراچی(بولونیوز)سندھ ہائی کورٹ میں دودھ کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ہوئی، جس دوران عدالت کے حکم پر ممبر انسپکشن ٹیم نے شہر بھر سے حاصل کیے گئے دودھ کے نمونوں کی کوالٹی سے متعلق رپورٹ پیش کردی۔

    رپورٹ کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں سے جمع کیے گئے درجنوں دودھ کے نمونے پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کو بھیجے گئے تھے، جہاں ٹیسٹ کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ:

    تمام دودھ کے نمونے غیر معیاری اور مضر صحت ہیں

    کوئی بھی نمونہ انسانی استعمال کے قابل نہیں پایا گیا

    عدالت نے لیبارٹری رپورٹ کو کیس کے ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔

    سماعت کے دوران کمشنر کراچی کی جانب سے دودھ کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اے اے جی مہران نے بتایا کہ قیمتوں کے تعین کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اجلاس کے بعد 27 نومبر کو نیا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتیں درج ذیل ہیں:

    ڈیری فارمز: 200 روپے فی لٹر

    ہول سیلرز: 208 روپے فی لٹر

    ریٹیلرز: 220 روپے فی لٹر

    عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مزید کارروائی آئندہ سماعت تک مؤخر کردی۔

  • مائینز ورکرز کے تحفظ اور حقوق کے لیے قانون سازی سے متعلق درخواست

    کراچی(بولونیوز)سندھ ہائی کورٹ میں مائینز ورکرز کے حقوق اور تحفظ کے لیے قانون سازی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، جس دوران عدالت نے سندھ حکومت اور سیکریٹری مائینز اینڈ منرل سے تفصیلی جواب طلب کرلیا۔

    عدالت نے مائینز اینڈ منرل رولز میں ترمیم سے متعلق پیشرفت جاننے کے لیے متعلقہ سرکاری افسر کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کرنے کا حکم دیا۔

    درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری وکیل نے گزشتہ سماعت میں یقین دہانی کروائی تھی کہ مائینز ایکٹ 2023 میں ترمیم اور نئے رولز کی تیاری کا معاملہ کابینہ کو بھیج دیا جائے گا، لیکن اب تک کوئی پیشرفت سامنے نہیں آئی۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا رولز میں ترمیم سے متعلق حکومت نے کوئی فیصلہ کیا ہے؟ جس پر سرکاری وکیل نے لاعلمی ظاہر کی۔ عدالت نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ افسر کو آئندہ سماعت پر پیش کیا جائے تاکہ صورتحال واضح ہو سکے۔

    درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ 1923 کے قانون کے تحت بھی حکومت پر لازم تھا کہ مائینز ورکرز کے لیے ایک آزاد باڈی تشکیل دے جو اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ان کے تحفظ، صحت، تعلیم اور تنخواہوں کے معاملات دیکھے۔

    وکیل نے مزید کہا کہ عدالت ایک دوسری درخواست میں بھی قرار دے چکی ہے کہ کول مائینز ورکرز کے لیے مؤثر قانون سازی ضروری ہے تاہم سندھ واحد صوبہ ہے جہاں آج تک مائینز ورکرز کے تحفظ سے متعلق کوئی جامع قانون موجود نہیں۔

    عدالت نے فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت چار ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

  • ضلعی عدلیہ کے ملازمین کے الاؤنسز میں اضافہ نہ کرنے پر توہینِ عدالت کی درخواست دائر

    کراچی(بولونیوز)ضلعی عدلیہ کے ملازمین کے الاؤنسز میں اضافہ نہ کرنے کے معاملے پر عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت نے قبل ازیں ضلعی عدلیہ کے ملازمین کے الاؤنسز کو ہائی کورٹ ملازمین کے مساوی کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم احکامات کے باوجود متعلقہ محکموں نے کوئی اضافہ نہیں کیا۔

    درخواست گزار کے مطابق ضلعی عدلیہ کے ملازمین کو تاحال ہائی کورٹ ملازمین کے برابر جوڈیشل الاؤنس اور یوٹیلیٹی الاؤنس نہیں دیا جا رہا، جو کہ ایک ہی صوبے کے ملازمین میں امتیاز برتنے کے مترادف ہے اور قانون کے منافی ہے۔

    عدالت نے توہینِ عدالت کی درخواست کی سماعت 2 دسمبر کو مقرر کر دی ہے، جبکہ فریقین کو نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود الاؤنسز میں اضافہ نہ کرنا واضح طور پر توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے، اس لیے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

  • ڈی جی ایس بی سی اے کی تقرری کے خلاف درخواست، سندھ حکومت کا جواب جمع

    کراچی(بولونیوز)سندھ ہائی کورٹ میں ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی تقرری کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت ہوئی، جہاں سندھ حکومت نے اپنا جواب عدالت میں جمع کرا دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ جواب کی نقول وکیل درخواست گزار کو فراہم کی جائیں، جبکہ درخواست گزار کے وکیل کو ہدایت کی گئی کہ آئندہ سماعت تک جواب الجواب جمع کرائیں۔

    سابق اور موجودہ ڈی جیز کے خلاف درخواستوں پر بحث

    سماعت کے دوران سابق ڈی جی کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ درخواست صرف موجودہ ڈی جی سے متعلق قابل سماعت ہے، کیونکہ دیگر سابق ڈی جیز اب عہدے پر موجود نہیں، اس لیے ان کے خلاف درخواستیں خارج کی جائیں۔

    تاہم درخواست گزار کے وکیل نے اس مؤقف کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ سابق ڈی جی رشید سولنگی کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات جاری ہیں اور ان کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہے، لہٰذا ان کے خلاف درخواستیں بھی موثر ہیں۔

    ایس بی سی اے کی تکنیکی نوعیت—’عمارتوں کا بیڑہ غرق ہوگیا‘

    درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ
    ’پورے شہر کا بیڑہ غرق ہوچکا ہے، کسی انجینئر کو ڈی جی ایس بی سی اے تعینات نہیں کیا جاتا۔‘
    وکیل کے مطابق ایس بی سی اے ایک تکنیکی ادارہ ہے جس کا سربراہ سول انجینیئر، ٹاؤن پلانر یا آرکیٹیکٹ ہونا چاہیے، کیونکہ ادارہ تعمیراتی لائسنس، عمارتیں منہدم کرنے اور مخدوش قرار دینے جیسے اہم امور کی نگرانی کرتا ہے۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ عام بیوروکریٹ یا کسی اور شعبے کے انجینیئر کو ڈی جی نہیں لگایا جا سکتا۔

    عدالت کی آبزرویشن اور آئندہ تاریخ

    جسٹس یوسف علی سعدی نے ریمارکس دیئے کہ فریقین کے جواب مکمل ہونے دیں، کیس سن کر فیصلہ کیا جائے گا۔

    عدالت نے سماعت چھ ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ڈی جی ایس بی سی اے کی تقرری کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔