نادرا کے سسٹمز ہیک ہونے کے دعوے بے بنیاد، افواہ پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

اسلام آباد(بولونیوز)National Database and Registration Authority (نادرا) نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اُن پوسٹس کا سختی سے نوٹس لے لیا ہے جن میں نادرا کے سسٹمز ہیک ہونے اور شہریوں کے حساس ڈیٹا—بشمول شناختی کارڈ (CNIC) نمبرز، تصاویر اور بایومیٹرک معلومات—کو ڈارک ویب پر فروخت کے لیے پیش کیے جانے کے دعوے کیے گئے ہیں۔

نادرا حکام کے مطابق یہ دعوے بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔ ادارہ ایسی تمام پوسٹس کا ریکارڈ Federal Investigation Agency کے سائبر کرائم ونگ کو فراہم کرے گا، جہاں سے آئی پی ایڈریس کے ذریعے افواہیں پھیلانے والے اکاؤنٹس کا سراغ لگا کر قانونی کارروائی کی جائے گی۔ نادرا نے واضح کیا ہے کہ ذمہ دار عناصر کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

نادرا کے مطابق جب دنیا میں کسی حقیقی سائبر حملے کا واقعہ پیش آتا ہے تو ہیکرز عموماً ثبوت کے طور پر سرور لاگز (Server Logs) یا ڈیٹا بیس کا مستند سورس کوڈ پیش کرتے ہیں۔ تاہم نادرا ہیکنگ کے دعوے کرنے والی پوسٹس میں ایسا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا، بلکہ خود پوسٹس میں اس بات کا اعتراف موجود ہے کہ دعوؤں کے حق میں کوئی مستند یا بائنری ثبوت دستیاب نہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ مبینہ واقعہ کب، کیسے اور کس حد تک پیش آیا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں۔ نادرا کے مطابق ادارے کے فائر والز اور انٹروژن سیکیورٹی سسٹمز مؤثر طور پر فعال ہیں اور شہریوں کے ڈیٹا کا مکمل تحفظ یقینی بنایا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *