پٹرولیم قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، منافع اور نقصان پر سوالات اٹھ گئے

اسلام آباد(بولونیوز)پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 137 روپے فی لیٹر اضافے کے نتیجے میں آئل کمپنیوں کو 72 ارب روپے منافع ہوا، تاہم جب قیمتوں میں 74 روپے فی لیٹر کمی کی گئی تو آئل کمپنیوں نے 104 ارب روپے نقصان کا دعویٰ کر دیا۔ اس غیر متوازن حساب کتاب نے عوامی اور معاشی حلقوں میں شدید سوالات کو جنم دے دیا ہے۔

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی تنظیم او سی اے سی نے وزیرِ پیٹرولیم کو خط لکھ کر مؤقف اختیار کیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اچانک گرنے کے باعث انہیں مہنگا خریدا گیا اسٹاک کم قیمت پر فروخت کرنا پڑا، جس سے تقریباً 104 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ تنظیم نے حکومت سے اس نقصان کے ازالے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اسی خط میں یہ وضاحت شامل نہیں کی گئی کہ جب عالمی منڈی میں قیمتیں کم تھیں اور اندرونِ ملک پٹرولیم مصنوعات کئی گنا مہنگے داموں فروخت کی گئیں، اس دوران آئل کمپنیوں نے کتنے سو ارب روپے منافع کمایا۔

معاشی ماہرین کے مطابق قیمتوں میں اضافے پر فوری منافع اور کمی پر بھاری نقصان کا دعویٰ شفاف پالیسی اور منصفانہ نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم قیمتوں کے تعین، اسٹاک ایڈجسٹمنٹ اور آئل کمپنیوں کے منافع و نقصانات کا آزادانہ آڈٹ کرایا جائے تاکہ حقائق قوم کے سامنے آ سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *