ایران کے خلاف کسی کارروائی میں شریک نہیں ہوئے،اطالوی وزیر خارجہ

اٹلی(بولونیوز)اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے واضح کیا ہے کہ اٹلی نے ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لیا اور نہ ہی ایران کے خلاف جنگی سرگرمیوں کے لیے امریکہ کو اپنے اڈوں کے استعمال کی اجازت دی گئی۔

جمعرات کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران انتونیو تاجانی نے کہا کہ اٹلی کا یہ مؤقف امریکہ کے ساتھ موجود معاہدوں کے مکمل احترام کے ساتھ اپنایا گیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں اس مؤقف کی توثیق کی۔

اطالوی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ تہران میں اطالوی سفارت خانے کا دوبارہ کھلنا مکالمے کے فروغ کا ایک مضبوط اشارہ ہے، جو مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کی بحالی کی جانب اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب‌آبادی نے اسی روز کہا تھا کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل کے وہ بیانات، جن میں ایران پر حملے کے لیے امریکہ کی جانب سے اٹلی اور رومانیہ کے اڈوں کے استعمال کا ذکر کیا گیا، ان ممالک کی بین الاقوامی ذمہ داری کو جنم دیتے ہیں۔

کاظم غریب‌آبادی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 3314 کے مطابق اگر کوئی ریاست اپنی سرزمین کسی تیسرے ملک کو کسی دوسرے ملک کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے تو اسے بھی جارحیت ہی تصور کیا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *