حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاجی مظاہرہ
نواب شاہ(بولونیوز)جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر حکومت کی عوام دشمن سولر پالیسی، پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف یکم مئی بروز جمعۃ المبارک نوابشاہ میں بعد از نماز جمعہ شاہی مسجد لال بلڈنگ روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی ضلع بینظیرآباد برادر طارق جاوید نے کہا کہ آئی پی پیز کو ریلیف اور عوام کو تکلیف دینا دہرا معیار ہے جو کسی صورت قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی، بجلی کے بلوں اور سولر سسٹمز پر ناجائز ٹیکسز کے ذریعے عوام پر مہنگائی کا بے تحاشا بوجھ ڈال دیا گیا ہے، جسے جماعت اسلامی مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ لیوی کے نام پر عائد ٹیکس فوری طور پر ختم کر کے قیمتیں کم کی جائیں اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔
نائب امیر جماعت اسلامی ضلع بینظیرآباد سرور احمد قریشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پٹرولیم لیوی کے باعث موٹر سائیکل استعمال کرنے والے طلبہ اور محنت کش طبقہ بھی بھاری ٹیکس ادا کرنے پر مجبور ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ جولائی سے اب تک حکومت 1200 ارب روپے سے زائد رقم لیوی کی مد میں عوام سے وصول کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز اور ایل این جی معاہدوں میں قومی خزانے کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے جبکہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مزید مہنگائی مسلط کی جا رہی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ غریب اور متوسط طبقے کو شدید متاثر کرے گا جبکہ صنعت و تجارت بھی تباہی کا شکار ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگی بجلی اور گیس نے پہلے ہی عوام کو پریشان کر رکھا ہے، مزید اضافہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔
امیر جماعت اسلامی نوابشاہ برادر نجف رضا نے کہا کہ حکومتی وزراء آئی ایم ایف کے دباؤ کا جواز پیش کر کے پٹرول پر مزید لیوی بڑھانے کی بات کر رہے ہیں، مگر مراعات اور شاہانہ اخراجات کے وقت یہی دباؤ نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی فوری طور پر ختم کی جائے، پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں کیا گیا اضافہ واپس لیا جائے، پٹرول کی قیمت کم کر کے 250 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے اور سولر سسٹمز پر عائد تمام ٹیکسز ختم کر کے عوام کو فوری ریلیف دیا جائے۔


