کشمیری علیحدگی پسند رہنما آسیہ اندرابی کو بھارتی عدالت نے عمر قید کی سزا سنا دی
سری نگر(بولونیوز) آسیہ اندرابی، دختران ملت کی چیئرپرسن، کو بھارتی عدلیہ نے مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی ہے، جبکہ ان کی دو قریبی ساتھیوں صوفی فہمیدہ اور ناہید نسرین کو 30، 30 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔
آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہید نسرین کو 14 جنوری کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون (یو اے پی اے) کی دفعات 20، 38 اور 39 کے تحت اور تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی مختلف دفعات کے تحت سزا سنائی گئی تھی۔
این آئی اے (بھارتی تحقیقاتی ادارہ) نے آسیہ اندرابی پر الزام لگایا کہ انہوں نے نام نہاد نفرت انگیز تقاریر کے ذریعے بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے کی کوشش کی، اور ان کے لیے عمر قید کی استدعا کی تاکہ ریاست کے خلاف سازش کرنے پر سخت ترین سزا دی جا سکے۔
ایڈیشنل سیشن جج چندر جیت سنگھ نے آج دلائل سننے کے بعد یہ سزا سنائی۔ آسیہ اندرابی کو اپریل 2018 میں این آئی اے نے گرفتار کیا تھا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک من گھڑت اور سیاسی انتقامی کارروائی ہے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادی پسندوں کے خلاف بھارتی حکومت کی ظلم و ستم کی ایک مثال ہے۔
آسیہ اندرابی نے 1987 میں خواتین کی زیر قیادت آزادی پسند تنظیم دختران ملت کی بنیاد رکھی تھی اور طویل عرصے سے کشمیری عوام کے حقوق اور حق خودارادیت کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہیں۔
واضح رہے کہ آسیہ اندرابی کے شوہر عاشق حسین فکتو بھی گزشتہ تین دہائیوں سے جیل میں نظر بند ہیں، انہیں 2003 میں ایک من گھڑت قتل کیس میں عمر قید کی سزا دی گئی تھی، جو اندرابی خاندان پر بھارتی مظالم کی عکاسی کرتی ہے۔


