بینظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری میں 12 سال بعد سینیٹ اجلاس، اسماعیل راہو کی صدارت
کراچی(بولونیوز)بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری میں 12 سال بعد سینیٹ اجلاس پرو چانسلر اور صوبائی وزیر جامعات اسماعیل راہو کی صدارت میں ہوا۔
اجلاس میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسین مہدی نے ادارے کی تعلیمی سمت، انتظامی اصلاحات اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انتظامی و تعلیمی امور پر سنجیدہ بحث و مباحثہ بھی کیا گیا۔
پرو چانسلر اسماعیل راہو نے وائس چانسلر کی متحرک قیادت اور مختصر مدت میں نمایاں پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کاوشوں سے طویل تعطل کے بعد سینیٹ اجلاس کا انعقاد ممکن ہوا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ گزشتہ 12 برس کے دوران سینیٹ اجلاس منعقد نہ ہونے کی وجوہات کا جامع جائزہ لے کر مفصل رپورٹ پیش کی جائے۔
پروفیسر ڈاکٹر عمیر بیگ نے گزشتہ ایک سال کے دوران حاصل کی جانے والی نمایاں کامیابیوں، تعلیمی اصلاحات، تقرریوں، انتظامی ڈھانچے کی مضبوطی، ترقیاتی منصوبوں اور شفافیت کے اقدامات پر سینیٹ اراکین کو بریفنگ دی۔
ڈائریکٹر فنانس فروغ علی نوید اور بجٹ آفیسر عاشق سِلرو نے مالی سال 2014-15 تا 2024-25 کا بجٹ پیش کیا جبکہ 2022-23، 2023-24 اور 2024-25 کے بجٹس کو منظوری کے لیے سینیٹ اراکین نے منظور کر لیا۔ مزید برآں، 2014 سے 2021 تک جامعہ کے مالی بجٹ کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کا بھی حکم دیا گیا تاکہ مالی شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔
اسماعیل راہو نے اعتراف کیا کہ ماضی میں مسائل کے باعث تدریسی نظام، طلبہ اور فیکلٹی متاثر ہوئے، تاہم حکومت محدود وسائل کے باوجود جامعات کو ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہے تاکہ تعلیمی سرگرمیاں مؤثر انداز میں جاری رہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسین مہدی اور ان کی ٹیم لگن، دیانت داری اور شفافیت کے ساتھ کام کرتے ہوئے ماضی کے نقصانات کا ازالہ کریں گے اور طلبہ کی تعلیم متاثر نہیں ہونے دیں گے۔
اجلاس میں پیش کیے گئے تمام ایجنڈا نکات کی منظوری سے جامعہ میں گڈ گورنس، مالی شفافیت اور تعلیمی معیار کے فروغ کے عزم کو مزید تقویت ملی۔


