بنگلہ دیش میں جین زی کی انٹری، کیا طارق رحمان نوجوانوں کی امیدوں پر پورا اتریں گے

ڈھاکا(بولونیوز)بنگلہ دیش کی سیاست میں ساڑھے تین دہائیوں بعد ایک نمایاں تبدیلی کے آثار سامنے آ رہے ہیں، جس کا محور اب روایتی سیاسی خاندانوں کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل، خصوصاً جین زی بنتی جا رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ تبدیلی ملک کے سیاسی بیانیے اور حکمرانی کے انداز پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔

17 سالہ جلاوطنی کے بعد طارق رحمان کی وطن واپسی کو اسی نوجوان تحریک کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے جس نے 2024 میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے طویل اقتدار کا خاتمہ کیا تھا۔ اس تحریک میں طلبہ اور نوجوان ووٹرز نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

60 سالہ طارق رحمان، سابق صدر ضیاء الرحمان اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے صاحبزادے ہیں اور اب وہ اپنی خاندانی سیاسی وراثت کو ایک نئے انداز میں آگے بڑھانے کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طارق رحمان کی حالیہ سیاسی کامیابی میں نوجوان ووٹرز اور طلبہ تحریک کی بھرپور حمایت شامل رہی۔ وہ خود کو ایک جدید، اصلاح پسند اور ڈیجیٹل دور سے ہم آہنگ رہنما کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

طارق رحمان کے مطابق وہ ایسا بنگلہ دیش دیکھنا چاہتے ہیں جہاں ٹیکنالوجی کو فروغ ملے، میرٹ کو ترجیح دی جائے اور اظہارِ رائے کی آزادی یقینی ہو۔ یہی وہ نکات تھے جو 2024 کی احتجاجی تحریک کے بنیادی مطالبات میں شامل رہے۔

یاد رہے کہ طارق رحمان 2008 میں فوجی حمایت یافتہ نگراں حکومت کے دور میں ملک چھوڑ کر لندن منتقل ہو گئے تھے، تاہم اس عرصے میں وہ سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں سے مسلسل رابطے میں رہے۔ گزشتہ دسمبر میں ڈھاکا واپسی پر ان کا استقبال بڑی تعداد میں نوجوان کارکنوں اور طلبہ نے کیا۔

ملک کو درپیش معاشی، انتظامی اور سماجی چیلنجز کے تناظر میں اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا نوجوانوں کا جوش اور طارق رحمان کا سیاسی تجربہ مل کر بنگلہ دیش کو موجودہ بحرانوں سے نکال سکے گا؟ مبصرین کے مطابق نئی نسل صرف نعروں نہیں بلکہ عملی نتائج کی خواہاں ہے، اور یہی آنے والے دنوں میں نئی قیادت کا اصل امتحان ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *