لاہور میں بسنت کا آغاز، خونی ڈور کا قہر جاری، جانی نقصان بڑھنے لگا

پنجاب(بولونیوز)لاہورمیں 18 سال بعد بسنت کے باقاعدہ آغاز کے ساتھ ہی شہر کے مختلف علاقوں میں خونی ڈور نے ایک بار پھر قہر ڈھانا شروع کر دیا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے ایس او پیز کے تحت اجازت کے باوجود حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزیوں کے باعث شہریوں کی جانیں خطرے میں پڑ گئی ہیں اور متعدد افسوسناک واقعات پیش آ چکے ہیں۔

جانی و مالی نقصانات کی تفصیلات
حالیہ رپورٹس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف علاقوں میں پیش آنے والے واقعات میں ایک نوجوان جان کی بازی ہار گیا جبکہ کئی افراد شدید زخمی ہوئے۔

باغبانپورہ میں 25 سالہ نوجوان علی رشید کٹی پتنگ پکڑنے کی کوشش کے دوران بجلی کے پول سے کرنٹ لگنے کے باعث جاں بحق ہو گیا۔
ڈی ایچ اے میں 21 سالہ نوجوان اور گلشن راوی میں 45 سالہ شخص خونی ڈور پھرنے سے شدید زخمی ہو گئے۔
بچوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، گلشن راوی میں 8 سالہ بچی ارسا اور لوئر مال کے علاقے میں 12 سالہ بچہ پتنگ کی ڈور سے زخمی ہو گئے۔

پولیس کی کارروائیاں تیز
پنجاب پولیس کے مطابق کائٹ فلائنگ ایکٹ کی خلاف ورزی پر رواں سال اب تک 4 ہزار سے زائد مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ صرف لاہور میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غیر قانونی پتنگیں اور کیمیکل ڈور فروخت کرنے کے الزام میں 81 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس نے کارروائیوں کے دوران 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد پتنگیں اور ہزاروں کی تعداد میں کیمیکل ڈور کی چرخیاں بھی قبضے میں لے لی ہیں۔

حفاظتی ہدایات جاری
پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ موٹر سائیکلوں پر حفاظتی تار (سیفٹی وائر) لازمی لگائیں۔ اس کے علاوہ ایئرپورٹ کے اطراف واقع علاقوں نادر آباد، بھٹہ چوک اور ڈی ایچ اے میں پتنگ بازی سے مکمل اجتناب کیا جائے تاکہ فضائی پروازوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی، جبکہ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ خوشی کے اس تہوار کو احتیاط اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے منائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *