سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کا فاروق ستار کی پریس کانفرنس پر سخت ردعمل

کراچی(بولونیوز)سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے فاروق ستار کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فاروق ستار جتنی مرضی فصیح و بلیغ اردو بولیں، استعارے استعمال کریں، لیکن حقیقت مسخ نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ جب فاروق ستار کے وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے اٹھارویں ترمیم پر بات کی، تو یہ واضح کیا گیا کہ گل پلازہ کی لیز اور قانون شکنی میں فاروق ستار کا بطور میئر اور جماعت اسلامی کے ناظمین کا کردار شامل ہے۔

شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ یہ تمام غیر قانونی اقدامات اٹھارویں ترمیم سے پہلے کیے گئے تھے اور وہ سچ جھٹلا نہیں سکتے کہ جن فیصلوں نے آگے چل کر گل پلازہ سانحے کو جنم دیا، ان میں ان کا براہِ راست اور بالواسطہ کردار موجود ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ لیز کی تجدید، میوٹیشن اور ریگولرائزیشن کے کاغذات اسی وقت دستخط ہو رہے تھے، جبکہ فاروق ستار کراچی کے میئر تھے اور شہری منصوبہ بندی کی ذمہ داری انہی کے کندھوں پر تھی۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ تاریخ کے ریکارڈ اور سرکاری دستاویزات بتا رہی ہیں کہ کراچی میں غیر قانونی تعمیرات اور بے ضابطہ ریگولرائزیشن کی بنیاد اسی دور میں رکھی گئی۔ قانون کی خلاف ورزیوں کو ریگولرائز کر کے قانونی تحفظ دینے سے شہر میں غیر محفوظ عمارتوں کے کلچر کو فروغ ملا۔

انہوں نے مزید کہا کہ گل پلازہ سانحہ کسی ایک دن کی غفلت کا نتیجہ نہیں، بلکہ دہائیوں پر محیط غلط فیصلوں اور انتظامی کوتاہیوں کا منطقی انجام ہے۔ جن لوگوں نے ان غلط فیصلوں کی بنیاد رکھی، وہ آج سوالات سے فرار اختیار نہیں کر سکتے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی کے عوام کا حق ہے کہ انہیں سچ معلوم ہو، اور سچ یہ ہے کہ جنہوں نے غیر قانونی تعمیرات کو جائز قرار دیا، وہ آج اخلاقی اور سیاسی طور پر جواب دہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *