بیوی، بچوں اور بزرگوں کے سماجی تحفظ کا بل قومی اسمبلی سے منظور، گالی دینا بھی جرم قرار

اسلام آباد(بولونیوز) قومی اسمبلی نے بیوی، بچوں اور بزرگ افراد کے سماجی تحفظ سے متعلق بل منظور کر لیا ہے، جس کے تحت گھریلو سطح پر بدسلوکی، گالی گلوچ اور ذہنی و نفسیاتی اذیت کو قابلِ سزا جرم قرار دے دیا گیا ہے۔

منظور شدہ بل کے مطابق اس قانون کا اطلاق بیوی، بچوں، گھر میں موجود بزرگ افراد، لے پالک بچوں، ٹرانس جینڈر افراد اور ایک ساتھ رہنے والے افراد پر ہوگا۔ بل میں واضح کیا گیا ہے کہ بیوی، بچوں یا گھر میں رہنے والے دیگر افراد کو گالی دینا بھی جرم تصور کیا جائے گا۔

بل کے تحت کسی بھی فرد کو گھریلو ماحول میں جذباتی، نفسیاتی یا ذہنی طور پر ہراساں کرنا یا پریشان کرنا بھی قابلِ تعزیر جرم ہوگا۔

قانون کے مطابق اس جرم کے مرتکب افراد کو تین سال تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔

بل کا مقصد گھریلو تشدد اور بدسلوکی کی روک تھام کے ساتھ ساتھ معاشرے کے کمزور طبقات کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *