بین الصوبائی ویزل کار ڈکیت گینگ گرفتار، کروڑوں روپے مالیت کا سامان برآمد
کراچی(بولونیوز)ڈیفنس پولیس نے بڑی اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ایک خطرناک اور بین الصوبائی ویزل کار ڈکیت گینگ کو گرفتار کر لیا، جبکہ کروڑوں روپے مالیت کا قیمتی سامان بھی برآمد کر لیا گیا۔ کارروائی گزشتہ روز ڈیفنس کے علاقے میں ایک بنگلے میں ہونے والی سنگین ڈکیتی کے بعد کی گئی۔
پولیس کے مطابق جدید تکنیکی ذرائع، خفیہ معلومات اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے گینگ کے دو انتہائی مطلوب ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جن کی گرفتاری کے لیے کراچی سمیت مختلف اضلاع کی پولیس طویل عرصے سے کوشاں تھی۔
گرفتار ملزمان کی شناخت لیاقت ولد غلام حسین اور آصف ولد شریف کے ناموں سے ہوئی ہے، جبکہ گینگ کے دیگر چار ساتھی دلشاد ولد شریف، ارسلان ولد شریف، زیشان عرف شان ولد منظور اور وقاص عرف سونو موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جن کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔
دورانِ تفتیش گرفتار ملزمان نے کراچی کے مختلف علاقوں میں متعدد ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ ملزمان وارداتوں کے دوران ویزل کار استعمال کرتے اور گاڑی پر جعلی نمبر پلیٹ لگا کر ڈکیتیاں کرتے تھے۔
مزید تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ گرفتار ملزمان کا تعلق پنجاب کے علاقے سرگودھا سے ہے اور وہ تقریباً ایک سال قبل کراچی آئے تھے، جہاں مختلف علاقوں میں لوٹ مار کی متعدد وارداتیں کرتے رہے۔
ڈیفنس پولیس نے ملزمان کے قبضے سے وارداتوں میں استعمال ہونے والی ویزل کار نمبر BF-8310 برآمد کر لی ہے، جبکہ بھاری مقدار میں لوٹا گیا سامان بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔
برآمد ہونے والے سامان میں چار عدد 30 بور اور 9 ایم ایم پستول، 7 لاکھ روپے نقد، 1800 درہم، 2000 ریال، 140 امریکی ڈالر، 36 عدد 200 روپے والے اور 13 عدد 100 روپے والے پرائز بانڈ، پانچ سیٹ طلائی زیورات، آٹھ سونے کی انگوٹھیاں، سونا پگھلانے کا سامان، تقریباً دو کلو آرٹیفیشل زیورات، ایک مائیکروویو اوون اور 20 قیمتی گھڑیاں بمعہ باکس شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق ملزمان کا سابقہ ریکارڈ چیک کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ ان کے خلاف کراچی اور پنجاب کے مختلف تھانوں میں درجنوں مقدمات درج ہیں۔
گرفتار ملزمان کے خلاف تھانہ ڈیفنس میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر مقدمات میں بھی ان کی گرفتاری ڈالنے کا عمل جاری ہے۔ فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد انہیں بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔


