گل پلازہ سانحہ، مارکیٹ ایسوسی ایشن کی بھاری وصولیاں، فائر سیفٹی کا فقدان، سنگین سوالات اٹھ گئے

کراچی(بولونیوز) گل پلازہ مارکیٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے ہر دکان سے ماہانہ 5 ہزار 500 روپے وصول کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گل پلازہ میں قائم تقریباً 1200 دکانوں سے ماہانہ 66 لاکھ روپے جبکہ سالانہ وصولی تقریباً 8 کروڑ روپے بنتی ہے۔

اتنی بھاری رقم وصول کیے جانے کے باوجود مارکیٹ میں فائر سیفٹی سسٹم کی عدم موجودگی نے سنگین سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ متاثرہ تاجروں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر باقاعدگی سے کروڑوں روپے وصول کیے جا رہے تھے تو آگ سے بچاؤ کے بنیادی انتظامات کیوں نہیں کیے گئے۔

مزید یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جب گل پلازہ کی گنجائش صرف 500 دکانوں کی تھی تو وہاں 1200 دکانیں کیسے قائم کر دی گئیں۔ تجاوزات، اضافی تعمیرات اور حفاظتی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کے باوجود مارکیٹ ایسوسی ایشن کی خاموشی کو مشکوک قرار دیا جا رہا ہے۔

شہری حلقوں کا الزام ہے کہ گل پلازہ مارکیٹ ایسوسی ایشن نے اپنی جیبیں بھرنے کے لیے انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالا۔ ان کے مطابق یہ معاملہ محض غفلت کا نہیں بلکہ کھلی مجرمانہ لاپروائی کا ہے۔

متاثرین کا مطالبہ ہے کہ ذمہ داری صرف حکومت پر ڈالنے کے بجائے اصل ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور اس سانحے کی ذمہ داری براہِ راست گل پلازہ مارکیٹ ایسوسی ایشن پر عائد کی جائے، تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *