کراچی میں کتے کے کاٹنے کے 29 ہزار کیسز، ریبیز سے 19 افراد جاں بحق، صورتحال سنگین
کراچی(بولونیوز)شہر قائد میں آوارہ کتوں کے حملوں میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سال 2025 کے دوران 29 ہزار سے زائد شہری کتے کے کاٹنے کے واقعات کا شکار ہوئے جبکہ ریبیز کے سبب 19 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق لندھی، کورنگی، ڈیفنس، محمود آباد، اورنگی ٹاؤن اور ملیر وہ علاقے ہیں جہاں آوارہ کتوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کے باعث شہری شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں اور معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریبیز ایک لاعلاج اور مہلک مرض ہے، اور اس کی علامات ظاہر ہونے کے بعد مریض کا بچنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ ابتدائی علامات میں سر درد، بے چینی، پانی یا ہوا سے خوف شامل ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق شہر میں بڑھتی ہوئی گندگی، کچرے کے ڈھیر اور ناکارہ صفائی نظام آوارہ کتوں کی افزائش کی بنیادی وجہ ہیں، کیونکہ یہی مقامات ان جانوروں کی خوراک اور پناہ گاہ بنتے ہیں۔
شہر کے بڑے سرکاری و نجی ہسپتالوں میں کتے کے کاٹنے کے مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
انڈس ہسپتال میں روزانہ تقریباً 150 کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، سال میں اب تک 16 ہزار مریضوں کا علاج کیا گیا جبکہ 8 افراد ریبیز سے انتقال کر چکے ہیں۔
جناح ہسپتال میں تقریباً 13 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں 11 اموات ہوئیں۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق کتے کے کاٹنے کے بعد زخم کو کم از کم 10 منٹ تک صابن اور صاف پانی سے دھونا اور فوری طور پر اینٹی ریبیز ویکسین لگوانا زندگی بچانے کے لیے نہایت ضروری ہے۔
شہری حلقوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ آوارہ کتوں کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کی جائے اور شہر کے صفائی نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ مزید جانی نقصان روکا جا سکے۔


