آلو کے کاشتکاروں کے لیے خوشخبری، 5 لاکھ ٹن سے زائد ایکسپورٹ آرڈرز موصول

لاہور(بولونیوز)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت زرعی شعبے میں اصلاحات سے متعلق خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں کسان دوست اور عوامی فلاحی نوعیت کے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں آلو کے کاشتکاروں کے لیے خوش آئند خبر دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 5 لاکھ ٹن سے زائد آلو کی ایکسپورٹ کے آرڈرز موصول ہو چکے ہیں، جس سے زرعی برآمدات اور کسانوں کی آمدن میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ نے ایگریکلچر انٹرنز کو ”اپنا کھیت، اپنا روزگار“ پروگرام میں شامل کرنے کی منظوری دیتے ہوئے ان کا ماہانہ وظیفہ 70 ہزار روپے مقرر کر دیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایگریکلچر انٹرن شپ پروگرام کے تحت 497 طلبہ کو نجی ملازمت جبکہ 102 طلبہ نے خود روزگار کے تحت اپنا کاروبار شروع کیا۔

وزیراعلیٰ نے 2028 تک 28 ہزار سپر سیڈرز فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا جبکہ سی ایم گرین ٹریکٹر پروگرام فیز فور کی بھی منظوری دے دی گئی۔ کم ہارس پاور ٹریکٹر پر سبسڈی 5 لاکھ سے بڑھا کر 7 لاکھ روپے کرنے اور ہائی ہارس پاور ٹریکٹر پر 15 لاکھ روپے سبسڈی دینے کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس میں پنجاب میں پہلی مرتبہ ”روف ٹاپ ہائیڈروپونک“ پراجیکٹ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے تحت لاہور میں 10 پائلٹ منصوبے شروع ہوں گے۔ اس جدید طریقۂ کاشت سے سبزیوں کی پیداوار 32 گنا تک بڑھائی جا سکے گی۔

پوٹھوہار ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت صوبے میں 400 منی ڈیم مکمل ہونے، 10 ہزار ڈیزل ٹیوب ویل کی سولرائزیشن، 4500 ایکڑ بنجر زمین کو قابلِ کاشت بنانے اور ایک ہزار ایکڑ پر زیتون کی کاشت مکمل ہونے سے بھی اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔ تھل ایریا میں 7 ملین ایکڑ اراضی کو ”ٹرانسفارمیشن آف ایگریکلچر“ کے تحت قابلِ کاشت بنانے پر کام جاری ہے۔

مزید برآں، وزیراعلیٰ نے کسان کارڈ اسکیم میں مزید کاشتکاروں کو شامل کرنے، 2028 تک 6500 جدید زرعی مشینری فراہم کرنے اور ”آن فارم رین ہارویسٹنگ“ کے لیے گراؤنڈ ری چارج ویل/کنواں منصوبہ متعارف کرانے کی منظوری دی۔

اجلاس میں گندم کی 16.5 ملین ایکڑ پر کاشت کا ہدف مکمل ہونے اور 22.30 میٹرک ٹن پیداوار متوقع ہونے سے بھی آگاہ کیا گیا، جبکہ ”اپنا کھیت، اپنا روزگار“ پروگرام کے تحت فی ایکڑ 50 ہزار روپے مالی معاونت دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *