کراچی ائرپورٹ کی ترقیاتی سرگرمیاں اور گورننس کے مسائل، نئے رن وے سے ہائی رائز بلڈنگز تک
کراچی(بولونیوز)ائرپورٹ کے گرد ترقیاتی سرگرمیوں نے شہریوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ حال ہی میں کراچی ائرپورٹ پر تقریباً ساڑھے آٹھ ارب روپے کی لاگت سے نیا رن وے آپریشنل کر دیا گیا ہے، جسے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
نیا انٹرنیشنل ائرپورٹ بحریہ ٹاؤن کراچی سے آگے زیرِ تعمیر ہے اور توقع ہے کہ یہ پانچ سال کے لگ بھگ عرصے میں آپریشنل ہو جائے گا۔کراچی انٹرنیشنل ائرپورٹ کے آس پاس کے علاقوں میں پہلے کثیر منزلہ تعمیرات ممکن نہ تھیں، لیکن اب وہاں ملٹی اسٹوری بلڈنگز کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ ائرپورٹ کی منتقلی اور ہائی رائز بلڈنگز کی اطلاعات کی وجہ سے پلاٹس کے ریٹس بھی بڑھ گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ تمام ترقیاتی اقدامات شہری سہولت اور سرمایہ کاری کے لیے مثبت ہیں، مگر گورننس میں واضح discordination اور شفافیت کی کمی شہریوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ حکام، سیاسی شعبدہ باز، اور بعض پروپیگنڈہ کرنے والے صحافی اپنی ذاتی اور سیاسی مفادات کے تحت شہر کے فیصلوں کو متاثر کر رہے ہیں، جبکہ حقیقی عوامی مسائل نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین اور شہریوں کا کہنا ہے کہ عوام کو صرف یہ نہیں سننا چاہیے کہ “کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے”، بلکہ شہر کے اردگرد ہونے والے ترقیاتی اور انتظامی عمل کو خود دیکھ کر اس پر نظر رکھنی چاہیے اور گورننس کو ٹریک پر لانے کے لیے متحرک رہنا چاہیے۔
یہ صورتحال ایک جھلک ہے کہ پاکستان کے بڑے میگا سٹی میں گورننس اور ترقیاتی منصوبوں کو کس طرح چلایا جاتا ہے، اور کیسے عوامی مفادات، سیاسی مفادات اور سرمایہ کاری کے تقاضے آپس میں ٹکراتے ہیں۔


