قومی اسمبلی میں طویل عرصے بعد اپوزیشن لیڈر کا تقرر، محمود خان اچکزئی نامزد
اسلام آباد(بولونیوز)قومی اسمبلی میں طویل عرصے بعد قائدِ حزبِ اختلاف کا تقرر کر دیا گیا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ سپیکر نے اس موقع پر اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی کا اعلان کرتے ہوئے نوٹیفکیشن کے اجرا کے لیے عامر ڈوگر کو اپنے چیمبر میں طلب کیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران طارق فضل چودھری نے ایوان میں کم حاضری کا حوالہ دیتے ہوئے وقفۂ سوالات موخر کرنے کی تجویز دی اور کہا کہ اجلاس میں دو روز کا وقفہ تھا جبکہ آج ممبران کی حاضری معمول سے کم ہے۔ اس پر سپیکر ایاز صادق نے واضح کیا کہ آج وقفۂ سوالات نہیں ہوگا اور کہا کہ ممبران نے اتنی محنت کی ہوتی ہے، اس لیے اسے موخر نہیں کروں گا۔
اجلاس کے دوران بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہیں پرسوں معلوم ہوا ہے کہ پی ٹی سی ایل کی ایک میٹنگ کے آٹھ ہزار ڈالر ملتے ہیں اور سپیکر نے پہلے کہا تھا کہ جمعرات کو نوٹیفکیشن جاری ہو جائے گا۔ اس پر سپیکر نے کہا کہ اجلاس کا بزنس متعلقہ کمیٹیوں کو بھیجنے کے بعد وہ اپنے چیمبر جائیں گے اور پھر نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔
بیرسٹر گوہر نے بھارت میں پارلیمانی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کم از کم چھ گھنٹے تک اسمبلی کی کارروائی چلتی ہے، جبکہ طارق فضل چودھری نے ایک بار پھر ارکان کی کم حاضری کی نشاندہی کی۔
اجلاس کے دوران وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے متعدد اہم بل ایوان میں پیش کیے، جن میں پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل آرڈیننس، ریلوے منتقلی ترمیمی آرڈیننس، قومی ٹیرف کمیشن ترمیمی بل، برآمدی ترقی فنڈ ترمیمی بل، ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان ترمیمی بل 2026، پاکستان ٹیلی مواصلات تنظیمِ نو ترمیمی بل، فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ترمیمی بل، متبادل تنازعہ جاتی تصفیہ ترمیمی بل اور علاقہ دارالحکومت اسلام آباد ملکیت و انتظام بل شامل ہیں۔
علاوہ ازیں سپیکر قومی اسمبلی نے اثاثہ جات کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع نہ کرانے پر 32 ارکان کو ایوان میں داخلے سے روک دیا۔ سپیکر نے ہدایت کی کہ ایسے ارکان کو حاضری لگانے کی اجازت نہ دی جائے اور کہا کہ ایک رکن ابھی بھی ایوان میں موجود ہے، وہ خود ہی ایوان سے باہر چلا جائے۔ سپیکر نے کہا کہ متعلقہ فہرست موجود ہے اور ارکان اپنے نام اس میں دیکھ سکتے ہیں۔


