Category: پاکستان

  • حکومت بلوچستان کا بڑا انتظامی فیصلہ، ضلع کوئٹہ دو اضلاع میں تقسیم

    کوئٹہ(بولونیوز) حکومت بلوچستان نے ضلع کوئٹہ کو دو الگ اضلاع میں تقسیم کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت کوئٹہ ڈویژن اب تین اضلاع پر مشتمل ہوگا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق سابقہ ضلع کوئٹہ کو ضلع کوئٹہ ایسٹ اور ضلع کوئٹہ ویسٹ میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ ضلع کوئٹہ ایسٹ میں سریاب، صدر اور سٹی سب ڈویژنز شامل ہوں گی، جبکہ ضلع کوئٹہ ویسٹ میں کچلاک، بروری اور پنجپائی سب ڈویژنز کو شامل کیا گیا ہے۔

    حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق ضلع مستونگ کو بھی قلات ڈویژن سے علیحدہ کر کے کوئٹہ ڈویژن میں شامل کر دیا گیا ہے، جس کے بعد کوئٹہ ڈویژن میں کوئٹہ ایسٹ، کوئٹہ ویسٹ اور مستونگ تین اضلاع شامل ہوں گے۔

    حکام کے مطابق اس انتظامی اقدام کا مقصد عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر، تیز اور بہتر بنانا ہے۔

  • فضائی سفر کے کرایوں میں اضافے کا خدشہ

    اسلام آباد(بولونیوز) جیٹ فیول کی قیمت میں 13 روپے 23 پیسے فی لٹر اضافہ کردیا گیا ، جس کے بعد فضائی سفر کے کرایوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کے بعد ہوائی جہازوں کے ایندھن کی قیمتوں میں بھی یکمشت بھاری اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد ملک میں فضائی سفر کے کرایوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

    حکومتی نوٹیفیکیشن میں کہا گیا کہ جیٹ فیول کی قیمت میں 13 روپے 23 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 251 روپے 02 پیسے فی لٹر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ جیٹ فیول کی قیمتوں میں اس اضافے کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز سمیت تمام نجی ایئر لائنز کی آپریٹنگ لاگت بڑھ جائے گی۔

    جس کا براہِ راست بوجھ فضائی مسافروں پر ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں منتقل ہونے کا قوی امکان ہے۔

  • مون سون سے قبل ایس بی سی اے کی آگاہی مہم تیز، خطرناک عمارتیں فوری خالی کرنے کی ہدایت

    کراچی(بولونیوز) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے ممکنہ مون سون بارشوں کے پیشِ نظر شہر بھر میں خطرناک اور مخدوش عمارتوں سے متعلق عوامی آگاہی مہم تیز کر دی ہے۔ مختلف اضلاع میں خطرناک قرار دی گئی عمارتوں پر وارننگ بینرز آویزاں کر دیے گئے ہیں، جبکہ مکینوں کو لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے عمارتیں فوری خالی کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔

    ایس بی سی اے کے مطابق صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ اور ڈی جی ایس بی سی اے ڈاکٹر وسیم شمشاد کی ہدایت پر خصوصی مہم شروع کی گئی ہے تاکہ شہریوں کی قیمتی جانوں کو ممکنہ حادثات سے محفوظ بنایا جا سکے۔

    ادارے نے خبردار کیا ہے کہ مون سون بارشوں کے دوران مخدوش عمارتوں کے اچانک گرنے اور آتشزدگی جیسے خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے، لہٰذا شہری ایسی عمارتوں میں رہائش اختیار کرنے یا ان کے قریب کھڑے ہونے سے گریز کریں۔

    ایس بی سی اے کے مطابق کراچی کے ضلع جنوبی، ضلع وسطی، ضلع شرقی سمیت دیگر علاقوں میں خطرناک عمارتوں پر انتباہی بینرز نصب کیے جا رہے ہیں۔ یہ مہم ڈائریکٹر ڈیمالیشن عبدالسجاد خان کی سربراہی میں جاری ہے، جبکہ خطرناک عمارتوں کی فہرستیں اخبارات میں بھی شائع کی جا رہی ہیں۔

    ادارے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مخدوش یا غیرمعیاری تعمیر شدہ عمارت کی اطلاع فوری طور پر ایس بی سی اے کے دفتر یا سرکاری ویب سائٹ پر درج کرائیں تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع

    لاہور(بولونیوز) پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔ متفرق درخواست جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ کیا ہے۔

    درخواست گزار کے مطابق عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ چکی ہے، اس کے باوجود عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالا گیا۔ درخواست میں مزید مؤقف اپنایا گیا کہ وفاقی حکومت کے پاس پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے لیے واضح اور قانونی طریقۂ کار موجود نہیں۔

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو قانون کے مطابق اقدامات کرنے کا حکم دیا جائے۔

  • پارٹی کارکنوں کے دباؤ پر متنازع قانون واپس لینے کا دعویٰ، کارکنوں کے کردار پر زور

    پشاور(بولونیوز) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں کی جانب سے جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ علی امین گنڈاپور کے دور میں پیش کیے گئے مائنز اینڈ منرل ایکٹ پر شدید تحفظات سامنے آنے کے بعد یہ قانون منظور نہ ہو سکا، حالانکہ حکومت نے اس حوالے سے اسمبلی میں بریفنگ اور آگاہی سیشنز بھی منعقد کیے تھے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ بعد ازاں سہیل آفریدی کے دور میں اسمبلی سے مراعاتی قانون خاموشی سے منظور کرایا گیا، تاہم معاملہ منظرِ عام پر آنے کے بعد پارٹی کارکنوں نے اس کی حمایت نہیں کی۔ دعویٰ کیا گیا کہ حکومتی ٹیم کی کوششوں کے باوجود کارکنوں کے دباؤ کے باعث حکومت نے قانون واپس لینے کا فیصلہ کیا۔

    بیان کے مطابق دونوں واقعات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جب بھی پارٹی قیادت یا حکومت، عمران خان کے نظریے سے ہٹتی ہے تو پارٹی کارکن اپنی رائے اور دباؤ کے ذریعے قیادت کو اپنی پالیسی پر نظرثانی پر مجبور کرتے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں پر حکومتی یا آزاد ذرائع سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

  • پاکستان نے ایل این جی کا ایک اور اسپاٹ کارگو خرید لیا

    اسلام آباد(بولونیوز) پاکستان نے توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا ایک اور اسپاٹ کارگو خرید لیا۔پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کے مطابق 15 سے 16 جولائی کے دوران سپلائی ہونے والے ایل این جی کارگو کے لیے مجموعی طور پر تین بولیاں موصول ہوئیں۔

    پی ایل ایل کے مطابق شفاف خریداری کے عمل کے تحت سب سے کم بولی کو منظور کر لیا گیا۔ کامیاب بولی 18.23 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو رہی، جبکہ دیگر دو بولیاں بالترتیب 18.59 ڈالر اور 18.72 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تھیں۔

    حکام کے مطابق ایل این جی کارگو کی خریداری کا مقصد ملک میں گیس کی طلب پوری کرنا اور توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

  • غیرقانونی افغان شہریوں کے خلاف کارروائی تیز، ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کریک ڈاؤن کا اعلان

    اسلام آباد(بولونیوز) پاکستان میں مقیم غیرقانونی افغان شہریوں کے لیے مقررہ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد متعلقہ اداروں نے ملک بھر میں کارروائیوں کا دائرہ کار مزید وسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    سرکاری مؤقف کے مطابق بغیر ویزا یا قانونی سفری دستاویزات کے پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ انہیں گرفتار کرکے ضابطے کے مطابق ملک بدر کرنے کا عمل بھی جاری رکھا جائے گا۔

    حکام کے مطابق ایسے افراد کو پناہ دینے یا کرائے پر رہائش فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

    انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیرقانونی طور پر مقیم افراد کے حوالے سے جاری حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔

  • لیاری ایکسپریس وے پر ون وے انٹری فیس 100 روپے کیے جانے کا دعویٰ، شہریوں میں تشویش

    کراچی(بولونیوز) سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق لیاری ایکسپریس وے پر ون وے انٹری فیس 100 روپے مقرر کیے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جس پر شہریوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق مجوزہ یا نافذ کیے گئے اس اضافے سے روزانہ لیاری ایکسپریس وے استعمال کرنے والے ہزاروں شہریوں پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    تاہم اس حوالے سے متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال باضابطہ اعلامیہ یا تفصیلی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔ اگر فیس میں اضافے کی سرکاری طور پر تصدیق ہوتی ہے تو اس سے متعلق مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔

  • چینی شہری کی شکایت پر پولیس کی تحقیقات، معاملہ غلط فہمی قرار

    اسلام آباد(بولونیوز) چینی شہری مس شین زی (Chen Xi) کی شکایت پر اسلام آباد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کیں، جن کے بعد معلوم ہوا کہ معاملہ رہائش کے مالک اور خاتون کے درمیان مالی لین دین اور زبان کی رکاوٹ کے باعث پیدا ہونے والی غلط فہمی کا نتیجہ تھا۔

    اسلام آباد پولیس کے مطابق بروقت مداخلت کے ذریعے خاتون کے تحفظات دور کیے گئے اور دونوں فریقین کے درمیان قانونی تقاضوں کے مطابق معاملہ حل کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ بعد ازاں چینی شہری شین زی نے اسلام آباد پولیس کے پیشہ ورانہ رویے، فوری تعاون اور مثبت کردار کو سراہتے ہوئے اپنی سابقہ ویڈیو پر معذرت کا اظہار بھی کیا۔

  • داتا دربار کے کیش باکس سے کروڑوں روپے کی مبینہ چوری کا انکشاف، دو منیجرز معطل

    لاہور(بولونیوز) مزار داتا دربار کے کیش باکس سے کروڑوں روپے کی مبینہ چوری کا انکشاف سامنے آنے کے بعد وزارتِ اوقاف نے دو منیجرز کو عہدوں سے ہٹا دیا، جبکہ سوا کروڑ روپے کی ریکوری کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔

    وزارتِ اوقاف کے مطابق صوبے بھر کے مزارات پر نصب کیش باکسز سے چوری کی روک تھام کے لیے ڈیجیٹائزیشن سسٹم فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ عطیات کی وصولی اور نگرانی کا نظام مزید شفاف بنایا جا سکے۔

    پنجاب کے وزیر اوقاف و مذہبی امور چودھری شافع حسین نے کہا کہ مزارات پر نصب کیش باکسز کی آمدن ایک مقدس امانت ہے، تاہم بدقسمتی سے ان میں خردبرد کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ محکمہ اوقاف کو ہر قسم کی کرپشن سے پاک کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

    وزارتِ اوقاف کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔