کراچی(بولونیوز) مزدور رہنما لیاقت علی ساہی نے فیڈرل آئینی عدالت کی جانب سے نسیلہ ٹاور سے متعلق حالیہ فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے آئین، انصاف اور عوامی حقوق کی بالادستی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ متاثرہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور عدالتی نظام پر عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے ایک مثبت اقدام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی تعمیراتی منصوبے میں قانونی یا انتظامی بے ضابطگیاں ہوئی ہوں تو اس کی ذمہ داری متعلقہ سرکاری اداروں پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ ان شہریوں پر جنہوں نے اپنی جائز کمائی سے رہائشی فلیٹس خریدے۔
لیاقت علی ساہی نے کہا کہ اسی اصول کو محنت کشوں کے حقوق پر بھی لاگو کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2017 میں تھرڈ پارٹی ورکرز سے متعلق دیا گیا عدالتی فیصلہ تاحال مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکا، جس کے باعث لاکھوں کنٹریکٹ اور تھرڈ پارٹی ملازمین مستقل ملازمت اور دیگر قانونی حقوق سے محروم ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ فیڈرل آئینی عدالت آئینِ پاکستان اور ایمپلائمنٹ (اسٹینڈنگ آرڈرز) آرڈیننس 1968ء کے مطابق تمام سرکاری، نیم سرکاری، خودمختار اور نجی اداروں کو پابند کرے کہ مسلسل 90 روز ملازمت مکمل کرنے والے کارکنوں کو مستقل ملازم تصور کرتے ہوئے انہیں مستقل ملازمین کے مساوی تمام مالی، سروس اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں۔
مزدور رہنما نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ اور متعلقہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف قانون سازی تک محدود نہ رہیں بلکہ آئین، لیبر قوانین اور عدالتی فیصلوں پر مؤثر عمل درآمد بھی یقینی بنائیں تاکہ محنت کشوں کے استحصال کا خاتمہ ہو اور ملک میں قانون کی حقیقی حکمرانی قائم ہو۔