Author: Nadeem Ahmed Jamal

  • حکومت کو تین دن کی مہلت، مسئلہ حل نہ ہوا تو کشمیر مارچ ہوگا: حافظ نعیم الرحمن

    اسلام آباد(بولونیوز)امیر جماعتِ اسلامی پاکستان، حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو تین دن کی مہلت دیتے ہوئے سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر اس دوران مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو وہ عوامی جرگے کے ہمراہ پاکستان سے کشمیر کی جانب مارچ کریں گے۔

    اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ جماعتِ اسلامی عوامی حقوق اور قومی مسائل پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق حکومت کے پاس اب بھی موقع ہے کہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کرے، بصورتِ دیگر عوام کو سڑکوں پر آنا پڑے گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر مارچ پُرامن ہوگا اور اس کا مقصد عوامی آواز کو ایوانِ اقتدار تک پہنچانا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس اعلان کے بعد ملکی سیاست میں نئی سرگرمی اور ممکنہ احتجاجی لہر کا امکان بڑھ گیا ہے۔

  • ٹرمپ کی ایران کو دھمکی: معاہدہ یا کارروائی، پل اور بجلی گھر نشانے پر

    واشنگٹن(بولونیوز)امریکی سیاست میں ایک بار پھر سخت لہجہ سامنے آ گیا ہے، جہاں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف کھلی دھمکیاں دیتے ہوئے کہا ہے کہ “ہم یا تو معاہدہ کریں گے یا پھر کام ختم کر دیں گے، اور کام ختم کرنا مشکل نہیں ہوگا۔”

    اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ معاہدہ کرنے کو ترجیح دیں گے کیونکہ وہ ایران کے 9 کروڑ 10 لاکھ عوام کو متاثر نہیں کرنا چاہتے، تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ امریکہ کے لیے ایران کے پلوں، بجلی گھروں اور توانائی کے نظام کو نشانہ بنانا کوئی مشکل کام نہیں۔

    ٹرمپ کے مطابق:

    “ہم ایک گھنٹے میں ان کے پل گرا سکتے ہیں، ان کی توانائی اور بجلی کی سپلائی بند کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس اس وقت کوئی پیسہ نہیں ہے، ہم نے انہیں کوئی رقم نہیں دی، لیکن اگر چاہیں تو ان کا بجلی پیدا کرنے والا پورا نظام ناکارہ بنا سکتے ہیں۔”

    سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اس بیان سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ عالمی برادری اس جارحانہ بیانیے پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے اس بیان پر فوری ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں ایسے بیانات خطے میں تناؤ کو بڑھا چکے ہیں۔

  • حما س کا غزہ میں اپنی حکومت ختم کرنے کا باضابطہ اعلان

    غزہ(بولونیوز)مزاحمتی تنظیم حما، س نے غز، ہ میں گزشتہ دو دہائیوں سے قائم اپنی حکومت کو تحلیل کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ تنظیم کے جاری کردہ بیان کے مطابق غز، ہ میں انتظامی اختیارات ایک ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے سپرد کر دیے گئے ہیں، جو علاقے کے روزمرہ امور اور انتظامی ڈھانچے کی ذمہ داری سنبھالے گی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے مکمل طور پر انتظام سنبھالنے تک حما، س بطور نگراں کردار ادا کرتی رہے گی تاکہ انتظامی تسلسل برقرار رہے اور عوامی خدمات متاثر نہ ہوں۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ غز، ہ میں بہتر حکمرانی، ادارہ جاتی استحکام اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق اس پیش رفت سے غز، ہ کے داخلی سیاسی منظرنامے میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں، جبکہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بھی اس فیصلے کے اثرات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

  • اتر پردیش میں 5 مساجد شہید، حکومتی کارروائی پر تشویش

    اترپردیش(بولونیوز)بھارت کی ریاست اتر پردیش میں حکومتی کارروائی کے دوران پانچ مساجد شہید کر دی گئیں۔ ذرائع کے مطابق انتہا پسند حکومتی رہنماؤں نے مساجد کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے قانونی پیچیدگیوں کا سہارا لیا اور دعویٰ کیا کہ یہ عمارتیں مبینہ طور پر اجازت کے بغیر غیر قانونی طریقے سے تعمیر کی گئی تھیں۔

    حکومتی مؤقف کے مطابق تمام کارروائیاں قانونی اور انتظامی ضابطوں کے تحت عمل میں لائی گئیں۔ تاہم، مقامی مسلمانوں اور انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے اس اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ نریندر مودی کے دورِ حکومت میں اس سے قبل بھی مختلف ریاستوں میں درجنوں مذہبی ڈھانچے منہدم کیے جا چکے ہیں، جس پر عالمی سطح پر بھی تنقید سامنے آتی رہی ہے۔

    مقامی ذرائع کے مطابق متاثرہ علاقوں میں کشیدگی پائی جاتی ہے، جبکہ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

  • مودی نے جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی کو چھوٹی بہن قرار دے دیا

    انڈیا(بولونیوز)بھارت اور جاپان نے دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچاتے ہوئے مصنوعی ذہانت، دفاع، توانائی، جدید ٹیکنالوجی، اقتصادی سلامتی اور مضبوط سپلائی چینز سمیت مختلف شعبوں میں 10 ارب ڈالرز سے زائد مالیت کے 120 معاہدوں اور سرمایہ کاری منصوبوں پر دستخط کر دیے ہیں۔

    یہ اہم پیش رفت 16ویں بھارت۔جاپان سالانہ سربراہی اجلاس کے دوران سامنے آئی، جہاں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے انہیں اپنی “چھوٹی بہن” قرار دیا۔ مودی کے اس غیر معمولی جملے کو دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات اور باہمی اعتماد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

    جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی تین روزہ سرکاری دورے پر بھارت پہنچی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے بھی جذباتی انداز میں جاپان کے سابق وزیراعظم شنزو آبے کو اپنا “بڑا بھائی” قرار دیا اور کہا کہ وہ اب وزیراعظم نریندر مودی کو بھی اپنا بڑا بھائی تصور کرتی ہیں۔

    اجلاس کے دوران دونوں رہنماؤں نے شنزو آبے کی یاد میں خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے اس وژن کو سراہا جس کے تحت بھارت اور جاپان کے تعلقات نئی بلندیوں تک پہنچے۔

    بھارت اور جاپان کے درمیان طے پانے والے معاہدوں میں مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، صاف توانائی، معدنی وسائل، دفاعی تعاون، اقتصادی سلامتی، سمندری رابطوں اور انڈو پیسفک خطے میں مشترکہ حکمت عملی کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔

    دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں بھارت اور جاپان ایک دوسرے کے قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق 10 ارب ڈالرز سے زائد کے یہ معاہدے نہ صرف دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کریں گے بلکہ ایشیا میں ایک نئے جیو اکنامک اور اسٹریٹجک توازن کی بنیاد بھی بن سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نریندر مودی اور سانائے تاکائیچی کے درمیان قائم ہونے والی ذاتی ہم آہنگی مستقبل میں بھارت اور جاپان کے تعلقات کو مزید گہرائی اور استحکام فراہم کرے گی۔

  • لاہور میں غیر ملکی خواتین کا معاملہ بلاوجہ اچھالا جا رہا ہے، رانا ثناءاللّٰہ

    لاہور(بولونیوز)وزیراعظم شہباز شریف کے سیاسی مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناءاللّٰہ نے کہا ہے کہ لاہور میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کا معاملہ بلاوجہ اچھالا جا رہا ہے اور اسے غیر ضروری طور پر متنازع بنایا جا رہا ہے۔

    جیو نیوز** کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناءاللّٰہ نے کہا کہ ایک نان ایشو کو ایشو بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ گھٹیا ذہنیت کے حامل عناصر ایک خاص مقصد کے تحت اس معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ لاہور میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا و زیادتی کے معاملے کو جان بوجھ کر اچھالا جا رہا ہے اور اسے زبردستی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    سینیٹر رانا ثناءاللّٰہ کا کہنا تھا کہ ہر انسان اپنے قول و فعل کا خود ذمہ دار ہوتا ہے، جبکہ متاثرہ خواتین کا دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ ہو چکا ہے جو ملزمان کو سزا دلوانے کے لیے کافی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ تفتیشی اداروں کے پاس اس کیس سے متعلق مکمل شواہد موجود ہیں، ملزمان کا چالان تیار ہے اور مقدمہ چلانے کے لیے مزید کسی ثبوت کی ضرورت نہیں۔

    وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو غیر ملکی خواتین کو دوبارہ پاکستان بلا کر عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

    رانا ثناءاللّٰہ نے سینیٹر فیصل واوڈا کی جانب سے اسحاق ڈار کے استعفے کے مطالبے کو بھی انتہائی بے بنیاد قرار دیا۔

  • ایران اور قطر کے درمیان بحری تجارت پانچ ماہ بعد بحال

    دوحہ(بولونیوز)ایران اور قطر کے درمیان بحری تجارت پانچ ماہ کے تعطل کے بعد دوبارہ بحال ہو گئی ہے۔ دوحہ میں تعینات ایرانی کمرشل اتاشی عباس عبدالخانی کے مطابق ایران کی دیّر بندرگاہ اور قطر کی الرویس بندرگاہ کے درمیان جہازوں کی آمدورفت ایک بار پھر شروع ہو چکی ہے۔

    بحری تجارت کی بحالی دوحہ میں ایران اور قطری حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد ممکن ہوئی۔ دونوں بندرگاہیں خلیجی ممالک کے درمیان علاقائی تجارت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ایران کی دیّر بندرگاہ گزشتہ چار ماہ تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران متعدد حملوں کا نشانہ بنی، جس کے باعث بحری سرگرمیاں معطل ہو گئی تھیں۔ تاہم گزشتہ ماہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک عبوری معاہدے کے تحت جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا، جس کے بعد خلیج میں جنگ سے قبل والی بحری تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا۔

    اگرچہ بحری تجارت کی بحالی ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ خلیج میں جہازوں کی آمدورفت تاحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آ سکی اور بعض بحری راستوں پر کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل جون کے آخر میں ایران کی ٹریڈ پروموشن آرگنائزیشن کے ایک عہدیدار نے بھی انکشاف کیا تھا کہ جبل علی بندرگاہ پر رکی ہوئی ایرانی مصنوعات کی کلیئرنس دوبارہ شروع ہو گئی ہے، جسے خلیجی خطے میں ایران کی تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کی ایک اہم علامت قرار دیا گیا تھا۔

  • یمن کا فضائی بلاک 11 سال بعد کھول دیا گیا، ایران اور یمن کے درمیان پروازیں بحال

    صنعا(بولونیوز)یمن کا فضائی بلاک گیارہ سال بعد کھول دیا گیا ہے، جس کے بعد صنعا اور تہران کے درمیان مسلسل دوسرے روز بھی پروازیں جاری رہیں۔ ان پروازوں کے ذریعے زخمی افراد اور وہ شہری منتقل کیے جا رہے ہیں جو صنعا ایئرپورٹ کی طویل بندش کے باعث شدید مشکلات کا شکار تھے۔

    ذرائع کے مطابق صنعا کے ہوائی اڈے کی بندش کے باعث ہزاروں مریض، زخمی اور مسافر برسوں سے بیرونِ ملک علاج اور سفر کی سہولت سے محروم تھے۔ پروازوں کی بحالی کو انسانی بنیادوں پر ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    اس موقع پر یمن کی جانب سے ایران کا شکریہ ادا کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ خطے اور دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے بھی ایران کے کردار کو سراہا گیا ہے۔

    ایران کا شکریہ ادا کرنے والے ممالک میں
    **لبنان،
    **فلسطین،
    **بوسنیا،
    **آرمینیا،
    **عراق،
    **روس،
    چین
    اور افغانستان شامل ہیں۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق صنعا ایئرپورٹ کی بحالی نہ صرف یمن کے لیے ایک بڑی انسانی سہولت ہے بلکہ خطے میں سفارتی اور انسانی سرگرمیوں کے لیے بھی اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

  • اسرائیلی قبضہ واشنگٹن معاہدے پر عملدرآمد میں بڑی رکاوٹ ہے، لبنانی صدر

    لبنان(بولونیوز) صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ اسرائیلی قبضہ واشنگٹن معاہدے پر عملدرآمد میں بڑی رکاوٹ ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فورسز کی موجودگی لبنانی فوج کی تعیناتی میں رکاوٹ ہے جنوبی لبنان میں صیہونی فورسز کی موجودگی مشترکہ اہداف کےحصول کیلئےنقصان دہ ہے۔

    جوزف عون کا کہنا تھا کہ ملک میں خانہ جنگی کی گنجائش نہیں، اسرائیل کےتازہ حملوں میں 4افراد جاں بحق ہوئے۔

  • کینیڈین حکومت کا بڑا اعلان! پاکستانیوں کے لئے مستقل رہائش حاصل کرنے کا سنہری موقع

    اوٹاوا(بولونیوز) کینیڈا نے ایکسپریس انٹری سسٹم کے تحت ہائی اسکیلڈ پروفیشنلز کو ترجیحی بنیادوں پر مستقل رہائش دینے کا اعلان کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق کینیڈین حکومت نے اپنے مشہورِ زمانہ ‘ایکسپریس انٹری’ سسٹم کے تحت دنیا بھر سے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کو متوجہ کرنے کے لیے ایک بڑے اور ٹارگٹڈ پروگرام کی توثیق کر دی۔

    اس اقدام کا مقصد ملک میں لیبر مارکیٹ اور مختلف اہم شعبوں میں پیدا ہونے والی افرادی قوت کی شدید کمی کو دور کرنا ہے۔

    کینیڈین حکومت کی جانب سے جاری کردہ پالیسی میں بتایا گیا کہ نئے “کیٹیگری بیسڈ سلیکشن سسٹم” کے تحت ان بین الاقوامی ماہرین کو ترجیحی بنیادوں پر دعوت نامے بھیجے جا رہے ہیں جن کی قابلیت کینیڈا کی معاشی اور افرادی قوت کی ضروریات سے مطابقت رکھتی ہے۔

    یہ اقدام کینیڈا میں خالی آسامیاں پر کرنے میں مدد دے گا، جبکہ اہل امیدواروں کو کینیڈا کی مستقل رہائش حاصل کرنے کا سیدھا اور تیز ترین راستہ فراہم کرے گا۔

    کینیڈا نے اس بار کئی اہم شعبوں کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا ہے، جن میں میڈیکل ڈاکٹرز، ریسرچرز، نرسز اور سوشل سروسز سے وابستہ پروفیشنلز ، سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھامیٹکس کے ماہرین ، تعلیمی شعبے کے لیے اساتذہ/ایجوکیٹرز، جبکہ کنسٹرکشن اور انفراسٹرکچر کے لیے ہنر مند ٹریڈز پرسنز شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ سپلائی چین اور لاجسٹکس کو مضبوط بنانے کے لیے ٹرانسپورٹ ورکرز اور کینیڈین ورک ایکسپیرئنس رکھنے والے سینئر مینیجرز کو بھی فہرست میں رکھا گیا ہے۔

    حکومت نے واضح کیا ہے کہ صوبہ کیوبک سے باہر فرانسیسی زبان بولنے والی برادریوں کی ترقی کے لیے ایسے درخواست گزاروں کو بھی ترجیح دی جائے گی جو فرانسیسی زبان پر مہارت رکھتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق امیدوار ایکسپریس انٹری پروفائل کو بہتر بنا کر اور ان مخصوص کیٹیگریز کی اہلیت پر پورا اتر کر دعوت نامہ حاصل کرنے کے امکانات کو نمایاں طور پر بڑھا سکتے ہیں۔