Author: Nadeem Ahmed Jamal

  • دسویں جماعت سائنس گروپ کے نتائج کا اعلان، 80.87 فیصد امیدوار کامیاب

    کراچی(بولونیوز) ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے دسویں جماعت سائنس گروپ کے سالانہ امتحانات کے نتائج کا اعلان کر دیا۔ نتائج کے مطابق مجموعی طور پر 80.87 فیصد امیدوار کامیاب قرار پائے۔

    بورڈ کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ 41 ہزار 688 طلبہ و طالبات نے امتحان کامیابی سے پاس کیا، جبکہ 29 ہزار 655 امیدوار مختلف مضامین میں ناکام قرار پائے۔

    نتائج کے مطابق 35 ہزار 529 طلبہ و طالبات نے اے ون گریڈ، 51 ہزار 22 نے اے گریڈ، 34 ہزار 910 نے بی گریڈ جبکہ 17 ہزار 153 امیدواروں نے سی گریڈ حاصل کیا۔

    تعلیمی حلقوں نے کامیاب ہونے والے طلبہ و طالبات کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

  • جامعہ کراچی میں چینی زبان کے سرٹیفیکیٹ کورسز کے داخلوں کی آخری تاریخ 15 جولائی تک بڑھا دی گئی

    کراچی(بولونیوز) کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ برائے چینی زبان، جامعہ کراچی کے زیرِ اہتمام چینی زبان کے سرٹیفیکیٹ کورسز میں داخلوں کے لیے درخواست فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کر دی گئی ہے۔ اب امیدوار 15 جولائی 2026ء تک اپنے درخواست فارم جمع کرا سکتے ہیں۔

    جامعہ کراچی انتظامیہ کے مطابق داخلے کے خواہشمند امیدوار 500 روپے کے عوض درخواست فارم جامعہ کراچی کے کیمپس میں واقع حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل) سے صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک حاصل اور جمع کرا سکتے ہیں۔

    انتظامیہ کے مطابق منتخب امیدواروں کی فہرست 17 جولائی 2026ء کو آویزاں کی جائے گی، جبکہ داخلہ فیس 20 جولائی سے 24 جولائی 2026ء تک جمع کرائی جا سکے گی۔ چینی زبان کے سرٹیفیکیٹ کورسز کی باقاعدہ کلاسوں کا آغاز یکم اگست 2026ء سے ہوگا۔

  • 38 ماہ میں دنیا کے بڑے ریلوے اسٹیشن کی تعمیر مکمل

    بیجنگ(بولونیوز)چین نے جنوب مغربی شہر چونگ چِنگ میں محض 38 ماہ کے عرصے میں ایک جدید اور وسیع ریلوے اسٹیشن تعمیر کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جسے رقبے کے اعتبار سے دنیا کے بڑے ریلوے اسٹیشنوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

    چینی میڈیا کے مطابق “چونگ چھنگ ایسٹ” ریلوے اسٹیشن 12 لاکھ 20 ہزار مربع میٹر رقبے پر قائم ہے، جو تقریباً 170 فٹ بال میدانوں کے برابر بنتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس اسٹیشن میں 29 پلیٹ فارم، 15 ریلوے ٹریکس اور آٹھ منزلہ ڈھانچہ موجود ہے، جبکہ یہ فی گھنٹہ تقریباً 16 ہزار مسافروں کو خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق یہ منصوبہ پہاڑی علاقے میں تعمیر کیا گیا، جہاں پہلے زمین کو ہموار کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر کھدائی کی گئی۔ تعمیراتی کام میں تقریباً 20 لاکھ مکعب میٹر کنکریٹ، 3 لاکھ 66 ہزار ٹن اسٹیل، 40 ہزار کارکنوں اور جدید روبوٹک مشینری کا استعمال کیا گیا۔

    چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ملک کے جدید ریلوے نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنانے اور مسافروں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

  • آیت اللہ علی خامنہ ای سے متعلق دعووں پر مبنی خبر گردش میں

    مشہد(بولونیوز) سوشل میڈیا اور بعض ذرائع میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو مشہد میں امام علی رضاؑ کے روضہ کے احاطے میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

    گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق نمازِ جنازہ ان کے صاحبزادے مصطفیٰ خامنہ ای نے پڑھائی، جبکہ بڑی تعداد میں افراد نے مشہد میں ان کی آخری رسومات میں شرکت کی۔ ان دعوؤں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کا جسدِ خاکی نجف اور کربلا بھی لے جایا گیا، جہاں مذہبی مقامات پر نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔

  • اچھرہ کے ٹیوشن سینٹر میں 10 سالہ بچی مردہ پائی گئی، پولیس نے تحقیقات شروع کر دیں

    لاہور(بولونیوز) اچھرہ کے علاقے میں قائم ایک ٹیوشن سینٹر سے 10 سالہ بچی کی لاش برآمد ہونے کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ پولیس کے مطابق بچی، جس کی شناخت نعیمہ بی بی کے نام سے ہوئی ہے، گھر سے ٹیوشن پڑھنے کے لیے گئی تھی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کی لاش ٹیوشن سینٹر کے واش روم سے ملی، جبکہ ابتدائی اطلاعات میں مبینہ زیادتی کے بعد قتل کیے جانے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم پولیس کے مطابق حتمی حقائق پوسٹ مارٹم رپورٹ اور فرانزک شواہد کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔

    پولیس کے مطابق مذکورہ ٹیوشن سینٹر ایک رہائشی گھر میں قائم تھا۔ واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔

  • جامعہ کراچی میں طلبہ تنظیموں کے تصادم پر اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم

    کراچی(بولونیوز) جامعہ کراچی میں دو طلبہ تنظیموں کے درمیان ہونے والے تصادم کے واقعے کا سندھ حکومت نے نوٹس لے لیا۔ وزیرِ جامعات سندھ محمد اسماعیل راہو نے واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

    وزیرِ جامعات نے ہدایت کی ہے کہ کمیٹی واقعے کے تمام پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے، ذمہ داروں کا تعین کرے اور اپنی رپورٹ جلد از جلد پیش کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعات میں پرامن تعلیمی ماحول کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

  • سانحۂ اردو 1972ء کے شہداء کو خراجِ عقیدت، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا خطاب

    کراچی(بولونیوز)متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے سانحۂ اردو 1972ء کی 54 ویں برسی کے موقع پر یادگارِ شہداء پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور بعد ازاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کی۔ اس موقع پر اراکینِ مرکزی کمیٹی، حق پرست ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی، پارٹی عہدیداران اور کارکنان کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

    ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ 9 جولائی 1972ء قومی زبان اردو کے تحفظ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کی یاد کا دن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے اجداد اپنے حصے کا پاکستان اور دیگر مسلمانوں کے لیے آزادی کا پروانہ لے کر آئے تھے اور وطن کی خاطر بے مثال قربانیاں دیں۔

    چیئرمین ایم کیو ایم نے کہا کہ نصاب میں تبدیلی سے تاریخ کے حقائق تبدیل نہیں کیے جا سکتے، جبکہ بدنیتی اور لسانی تعصب نے آزادی کے اصل مفہوم کو دھندلا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو بولنے والوں نے ملک کو ایک مشترکہ قومی زبان فراہم کی اور آج ملک کی مختلف اکائیاں باہمی رابطے کے لیے اسی زبان سے استفادہ کرتی ہیں۔

    ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایم کیو ایم ملک کی وحدت، قومی زبان کے فروغ اور بانیانِ پاکستان کے نظریات کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

  • مبینہ معاشی تنگی سے دلبرداشتہ میاں بیوی نے دو بچوں سمیت زندگی کا خاتمہ کر لیا

    حاصل پور(بولونیوز)حاصل پور شہر میں مبینہ طور پر معاشی مشکلات سے دلبرداشتہ ایک میاں بیوی نے اپنے دو کمسن بچوں کو زہر دینے کے بعد خود بھی زہریلی چیز پی کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ ذرائع کے مطابق خاندان کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھا اور گزشتہ تین ماہ سے بے روزگاری کے باعث کرایہ ادا نہیں کر سکا تھا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مکان مالک نے گھر خالی کرنے کا کہا تھا، جبکہ بجلی کے بقایاجات کی مد میں تقریباً 17 ہزار 500 روپے کا بل بھی موصول ہوا، جس کے بعد بجلی کا میٹر بھی اتار لیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ واقعے سے قبل بچوں نے دودھ لانے کی خواہش ظاہر کی، جس کے بعد یہ افسوسناک سانحہ پیش آیا۔

    پولیس نے واقعے کی اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچ کر لاشیں تحویل میں لے لیں اور مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور حتمی حقائق تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔

  • ناظم آباد نمبر 5 میں مبینہ غیر قانونی پورشن کی تعمیر، تیسرے فلور پر کام جاری

    کراچی(بولونیوز) ناظم آباد نمبر 5 میں مبینہ طور پر غیر قانونی پورشن کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے، جہاں مقامی افراد کے مطابق زیرِ تعمیر عمارت پر تیسرے فلور کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ عمارت کے پچھلے حصے میں بھی اضافی تعمیرات اور نئے کالم ڈالنے کا کام مکمل کیا جا چکا ہے۔

    علاقہ مکینوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر مذکورہ تعمیرات قواعد و ضوابط کے مطابق ہیں تو اس کی وضاحت کی جائے، جبکہ خلافِ قانون تعمیرات کی صورت میں فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار حکام موقع پر پہنچ کر عمارت کا معائنہ کریں، تعمیرات کی قانونی حیثیت واضح کریں اور اگر کسی قسم کی خلاف ورزی سامنے آئے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

  • جنرل پرویز مشرف کا چک شہزاد فارم ہاؤس، ادھورا خواب بن کر رہ گیا

    اسلام آباد(بولونیوز)چک شہزاد میں واقع سابق صدراورآرمی چیف جنرل پرویزمشرف کامحل نما فارم ہاؤس ایک وقت میں ان کی ریٹا ئرمنٹ کے بعد شاہانہ زندگی گزارنے کے خواب کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس فارم ہاؤس میں بم پروف دیواریں، سوئمنگ پول، وسیع و عریض باغات، جاگنگ ٹریک، قیمتی لکڑی سے تیار کردہ اندرونی آرائش اور اندرونی نقل و حرکت کے لیے خصوصی ٹرانسپورٹ سسٹم سمیت جدید سہولیات موجود تھیں۔

    یہ فارم ہاؤس اپنی تعمیر اور سہولیات کے باعث ایک چھوٹی سی ریاست کا منظر پیش کرتا تھا، تاہم حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ جنرل پرویز مشرف اپنی خواہش کے مطابق یہاں طویل عرصہ سکون سے زندگی نہ گزار سکے۔ ان کی ریٹائرمنٹ سے متعلق یہ خواب حقیقت کا روپ نہ دھار سکا اور یہ رہائش گاہ ان کے ادھورے منصوبوں کی علامت بن کر رہ گئی۔