مذاکرات کا رک جانا بدقسمتی، یہ وقت اسٹریٹجک وقفے کا ہونا چاہیے تھا
اسلام آباد(بولونیوز)شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ مذاکرات کا رک جانا بدقسمتی ہے اور یہ وقت دراصل ایک اسٹریٹجک وقفے کا ہونا چاہیے تھا۔برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ کوئی بھی بڑا سفارتی نتیجہ ایک ہی نشست میں حاصل نہیں کیا جا سکتا، چاہے مذاکرات کئی گھنٹوں پر محیط ہی کیوں نہ ہوں۔
شیری رحمٰن کے مطابق ابتدائی مرحلے میں مسودوں کا تبادلہ اور فریقین کا ایک دوسرے کے مؤقف کو سمجھنا اہم پیشرفت ہوتی ہے، جبکہ تحمل اور صبر ہی وہ عناصر ہیں جو جنگ بندی یا مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی کے تجربات سے واضح ہے کہ مذاکرات ایک طویل اور مرحلہ وار عمل ہوتا ہے، جس میں اختلافی نکات کے حل کے لیے دونوں فریقین کو مناسب وقت اور گنجائش دینا ضروری ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وقت اور تحمل کی کمی صورتحال کو طویل اور تباہ کن تنازع کی طرف دھکیل سکتی ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔


