سینئر صحافی شہاب سلمان کے اغواء اور فائرنگ کیس،پولیس سمیت متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری
کراچی(بولونیوز) سینئر صحافی شہاب سلمان کے خلاف 22 جنوری کو اغواء کی کوشش اور فائرنگ کے واقعہ کے سلسلے میں عدالت نے پولیس اور دیگر متعلقہ فریقوں کو جواب دینے کے لیے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
درخواست گزار کے مطابق اس دن اغواء کاروں نے انہیں نشانہ بنایا، تاہم وہ اپنے حواس بحال رکھتے ہوئے پہلے پولیس موبائل اور پھر تھانہ ماڈل کالونی پہنچ کر مدد طلب کرنے میں کامیاب ہوئے۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس دوران مافیا اور پولیس کی ملی بھگت کی وجہ سے سینئر صحافی پر جھوٹے مقدمات درج کر دیے گئے۔
شہاب سلمان کے مطابق انہیں مشکوک ایم ایل او کی بنیاد پر سیکشن 324 کے جھوٹے مقدمے کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ خود ساختہ مضروب کو گولی بھی نہیں لگی تھی۔ عدالت میں میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست بھی دی گئی تاکہ جھوٹے مقدمے کی تفتیش شفاف طریقے سے کی جا سکے۔
واضح رہے کہ ماڈل کالونی سب ڈویژن میں مافیا کی سرگرمیوں کے باعث پہلے بھی تین صحافیوں کو خبر دینے کے جرم میں اغواء اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جھوٹے مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔
عدالت نے درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے متعلقہ فریقوں سے جواب یکم اپریل 2026 تک طلب کر لیا ہے۔
سابق وزیر داخلہ سندھ نے بھی شہاب سلمان کی بلاجواز گرفتاری پر نوٹس لیتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی تاکہ واقعے کی شفاف تحقیقات ممکن بنائی جا سکیں۔


