ملک بھر کی عدالتیں اب چار دن کام کریں گی، توانائی بچت اقدامات کی منظوری

اسلام آباد(بولونیوز)پاکستان میں عدالتی نظام سےمتعلق ایک بڑا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کی زیرِصدارت نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کا ہنگامی ورچوئل اجلاس منعقد ہوا، جس میں سپریم کورٹ میں اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں ملک بھر کی عدلیہ میں کفایت شعاری اور توانائی بچت اقدامات نافذ کرنے کی منظوری دی گئی۔ پیٹرولیم سپلائی میں ممکنہ تعطل اور عالمی توانائی اخراجات میں اضافے کے پیش نظر جامع حکمتِ عملی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ عدالتی نظام میں وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔

فیصلے کے مطابق وفاقی شرعی عدالت اور تمام ہائی کورٹس میں چار روزہ ورکنگ ویک نافذ کر دی گئی ہے۔ عدالتیں پیر سے جمعرات تک مکمل استعداد کے ساتھ کام کریں گی، جبکہ جمعہ اور ہفتہ کو ہنگامی عدالتی و انتظامی امور کے لیے داخلی انتظامات کیے جائیں گے۔

اسی طرز پر ضلع عدالتیں بھی پیر سے جمعرات تک چار روزہ ورکنگ ویک کے تحت کام کریں گی۔ جمعہ اور ہفتہ کے روز ہائی کورٹس میں عملے کی کم سے کم حاضری رکھی جائے گی اور روٹیشنل حاضری کا نظام متعارف کرانے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔

اجلاس میں مزید فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی شرعی عدالت اور ہائی کورٹس کے جج صاحبان کے پی او ایل الاؤنس میں 50 فیصد جبکہ جوڈیشل افسران کے پی او ایل الاؤنس میں 25 فیصد کمی کی جائے گی۔ ہائی سیکیورٹی زونز کے اندر نقل و حرکت کے دوران اضافی پروٹوکول اور سیکیورٹی گاڑیوں کی تعیناتی بھی محدود کر دی گئی ہے، تاہم خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ججز اور جوڈیشل افسران کی سیکیورٹی حالات کے مطابق برقرار رکھی جائے گی۔

مقدمات کی سماعت میں ویڈیو لنک سہولت کے استعمال کو فروغ دینے اور وکلاء و سائلین کو آن لائن عدالتی کارروائی میں شرکت کی ترغیب دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق عدلیہ توانائی بچت اور قومی وسائل کے تحفظ کے لیے قومی کوششوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے، جبکہ عوام کو انصاف کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *