سرکاری گاڑیوں پر اربوں روپے کا پٹرول خرچ، بوجھ عوام کی جیبوں پر
اسلام آباد(بولونیوز)ملک میں سرکاری گاڑیوں کے بے دریغ استعمال اور پٹرول پر اٹھنے والے بھاری اخراجات نے عوام پر ٹیکس کا دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں تقریباً 30 ہزار سرکاری گاڑیاں سالانہ قریب 20 ارب روپے مالیت کا پٹرول استعمال کرتی ہیں۔
اسی طرح سندھ میں 20 ہزار سرکاری گاڑیاں سالانہ 13 ارب روپے کا ایندھن استعمال کرتی ہیں، جبکہ بلوچستان میں آٹھ ہزار سرکاری گاڑیوں پر سالانہ 4 ارب روپے خرچ ہوتے ہیں۔
دوسری جانب وفاقی حکومت پاکستان کے زیرِ استعمال 12 سے 15 ہزار سرکاری گاڑیاں سالانہ تقریباً 9 ارب روپے کا پٹرول پھونک دیتی ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر سرکاری گاڑیوں پر سالانہ پٹرول کا خرچ 46 ارب روپے یا اس سے بھی زیادہ بنتا ہے۔
یہ تمام اخراجات درحقیقت عوام سے وصول کیے گئے ٹیکسوں کے ذریعے پورے کیے جاتے ہیں، جبکہ اشرافیہ کے لیے نہ صرف پٹرول کی سہولت مفت ہے بلکہ گاڑیاں بھی بطور تحفہ فراہم کی جاتی ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے نظام میں کرپشن، رشوت اور سودے بازی کو بھی کھلی چھوٹ حاصل ہے۔
شہریوں کے مطابق عوام کے پیسوں سے آنے جانے کے اخراجات پورے کر کے اسمبلیوں میں بیٹھنے والے جب مہنگائی سے متعلق سخت فیصلے کرتے ہیں تو اس کا سارا بوجھ عام آدمی پر پڑتا ہے، جبکہ حکمران طبقہ خود کسی قربانی کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔


