پٹرول مہنگا: جامعہ کراچی میں صبح کی کلاسز آن لائن کرنے کا فیصلہ
کراچی(بولونیوز)جامعہ کراچی میں صبح کی کلاسز آن لائن کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ٹرانسپورٹ مسائل کے خدشے کے پیش نظر جامعہ کراچی نے کہا ہے کہ 9 مارچ سے رمضان کے اختتام تک صبح کی کلاسز آن لائن ہوں گی۔
وائس چانسلر کی منظوری سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ طلبہ کی سہولت کے پیش نظر جامعہ کراچی انتظامیہ نے آن لائن کلاسز کا فیصلہ کیا ہے، اور تمام مارننگ کلاسز آن لائن ہوں گی۔
دریں اثنا، کراچی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے پیٹرول استحقاق رکھنے والے کوٹہ میں 25 فی صد کمی کر دی ہے، وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی نے احکامات جاری کر دیے۔
رجسٹرار جامعہ کراچی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق منظور شدہ گاڑیوں اور مختلف افراد کے پیٹرول کی حد میں 25 فی صد کمی کر دی گئی ہے۔
وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے قبل جامعہ کراچی کی بسوں میں روزانہ ساڑھے 3 لاکھ کا پیٹرول استعمال ہوتا تھا، ملازمین و افسران 28 ہزار لیٹر ماہانہ پیٹرول خرچ کرتے ہیں، مذکورہ فیصلوں سے پٹرول کی خطیر بجٹ ہوگی، اس لیے ملازمین کے لیے بھی متبادل دنوں میں ورک فرام ہوم پر غور کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ حکومت نے پٹرول اور ڈیزل 55، 55 روپے فی لیٹر مہنگا کر دیا ہے، ایک لیٹر پٹرول 321 روپے 17 پیسے کا ہو گیا، ایک لیٹر ڈیزل 335 روپے 86 پیسے کا ہو گیا، مٹی کا تیل 130 روپے 8 پیسے مہنگا ہو کر 318 روپے 81 پیسے لیٹرہو گیا۔
وزیر پٹرولیم نے کہا ہے کہ صورتحال بہتر ہوتے ہی قیمتیں کم کی جائیں گی، توانائی کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے کوشاں ہیں، تاہم معلوم نہیں موجودہ بحران سے کب اور کیسے نکلیں گے۔
ادھر کراچی میں بسوں اور منی بسوں کے کرایوں میں 10 سے 20 فی صد اضافہ کر دیا گیا ہے، اندرون ملک جانے والی بسوں کے کرائے بھی بڑھ گئے ہیں۔


