جنگ کی صورت میں پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 400 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر سکتی ہے
اسلام آباد(بولونیوز)ماہرین معاشیات اور توانائی کے شعبے کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان موجودہ کشیدگی اور تنازعہ ایک ڈیڑھ ہفتے تک جاری رہا تو پاکستان میں پیٹرول کی قیمت فی لیٹر 400 روپے سے تجاوز کر سکتی ہے۔
توانائی کے تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پہلے ہی بڑھ رہی ہیں، اور مشرق وسطیٰ میں جنگ یا عسکری کارروائی کے نتیجے میں سپلائی چین متاثر ہوگی، جس سے پاکستان جیسے درآمدی ملک پر براہ راست اثر پڑے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں:
امریکی اور یورپی ممالک کی پابندیاں ایران اور دیگر ممالک سے تیل کی درآمدات پر اثر ڈال سکتی ہیں۔
عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری اضافہ کا باعث بنے گا۔
حکومت کے لیے قیمتوں میں استحکام پیدا کرنا مشکل ہوگا، اور عوام کو شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تجزیہ کاروں نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری اقدامات کرے، جیسے کہ:
اسٹاک پائلنگ اور متبادل ذرائع کے ذریعے تیل کی سپلائی یقینی بنائی جائے۔
عوام کے لیے سبسڈی یا ریلیف پیکج پر غور کیا جائے تاکہ قیمتوں کے اثرات کم کیے جا سکیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال کنٹرول نہ ہوئی تو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ دیکھا جا سکتا ہے، اور یہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے شدید بوجھ بن جائے گا۔
یہ انتباہ عالمی توانائی منڈی اور مشرق وسطیٰ کے سیاسی حالات کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے اور پاکستان کے لیے فوری حکمت عملی اپنانا ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔


