فلسطینی صحافیوں نے اسرائیلی جیل میں ہونے والی زیادتیوں کی تفصیلات بتادیں

نیویارک(بولونیوز)اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی صحافیوں پر ہونے والے ہولناک تشدد کا انکشاف سامنے آیا ہے۔صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم ‘کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے اپنی رپورٹ میں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی صحافیوں پر ہونے والے ہولناک تشدد کا انکشاف کیا ہے۔

56 فلسطینی صحافیوں کو اسرائیلی حکام نے دورانِ حراست بدترین تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا، ان صحافیوں کو ذہنی اذیت دینے کے لیے مسلسل انتہائی بلند آواز میں میوزک سنایا جاتا رہا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 17 فلسطینی صحافیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے لرزہ خیز واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ 55 صحافیوں کو جیلوں میں کھانا تک فراہم نہیں کیا گیا۔ تنظیم کے مطابق اس تشدد کا بنیادی مقصد غزہ اور مغربی کنارے کی اصل صورتحال کو عوام تک پہنچنے سے روکنا تھا۔

رپورٹ میں فلسطینی صحافی احمد عبدالعال پر ہونے والے مظالم کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے۔ احمد عبدالعال کو 5 دن تک آنکھوں پر پٹی باندھ کر قید رکھا گیا اور انہیں مسلسل اونچی آواز میں گانے سنائے گئے۔ رپورٹ کے مطابق جب وہ ذہنی دباؤ یا تکلیف سے بے ہوش ہو جاتے، تو انہیں بجلی کے جھٹکے دے کر دوبارہ ہوش میں لایا جاتا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *