کابل(بولونیوز) افغانستان کی طالبان حکومت نے ایک نیا فوجداری ضابطہ نافذ کر دیا ہے جس کے تحت خواتین اور بچوں پر گھریلو تشدد کو مخصوص شرائط کے ساتھ قانونی حیثیت دے دی گئی ہے، جس پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

نئے قانون کے تحت شوہر کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنی بیوی اور بچوں کو جسمانی سزا دے سکتا ہے، تاہم شرط یہ رکھی گئی ہے کہ تشدد کے نتیجے میں ہڈیاں نہ ٹوٹیں اور نہ ہی جسم پر گہرے یا کھلے زخم آئیں۔

یہ فوجداری ضابطہ ہیبت اللہ اخوندزادہ کے دستخط کے بعد نافذ العمل ہوا، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر تشدد کے دوران شدید طاقت کے استعمال سے ہڈی ٹوٹنے (فریکچر) یا نمایاں جسمانی چوٹوں کے شواہد سامنے آئیں تو ایسے کیس میں قصوروار شخص کو زیادہ سے زیادہ 15 دن قید کی سزا دی جا سکے گی۔

قانون میں مزید کہا گیا ہے کہ معمولی نوعیت کی جسمانی سزا کو گھریلو نظم و ضبط کے زمرے میں شمار کیا جائے گا، جس پر فوجداری کارروائی عمل میں نہیں لائی جائے گی۔

اس ضابطے کے نفاذ کے بعد انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون خواتین اور بچوں کے بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے اور گھریلو تشدد کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس قانون کے خلاف مؤثر اور فوری اقدام کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *