خوبصورت محلے، خوبصورت ٹاؤن،نیو کراچی ٹاؤن میں انقابی اقدامات
کراچی(بولونیوز)منتخب بلدیاتی نمائندوں کی جانب سےنیوکراچی ٹاؤن میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں کےتسلسل میں”خوبصورت محلے، خوبصورت ٹاؤن” منصوبہ تیزی سے پایہ تکمیل کی جانب گامزن ہے۔ اس سلسلے میں نیوکراچی کے سیکٹر فائیو ای کی یونین کونسل نمبر 08 میں 75 گلیوں کو پیور بلاکس کے زریعے پختہ کر دیا گیا، جس کا باقاعدہ افتتاح چیئرمین محمد یوسف نے کیا۔افتتاحی تقریب میں وائس چیئرمین شعیب بن ظہیرنیوکراچی ٹاؤن کی مختلف یونین کونسلوں کےنمائندے، کونسلرز، ٹاؤن افسران اور اہلِ علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔چیئرمین محمد یوسف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیو کراچی ٹاؤن میں ایک ہزار گلیوں کو پختہ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا جس پرعملی پیش رفت جاری ہےاور آج سیکٹر فائیو ای میں 75 گلیوں کی تکمیل اسی عزم کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اتنی بڑی تعداد میں گلیوں کی تعمیروبحالی کی مثال نہیں ملتی، مگر جماعت اسلامی کی موجودہ بلدیاتی قیادت نے محدود وسائل کے باوجود ریکارڈ کام کرکےدکھایا ہے۔ہم نےخود کوصرف سڑکیں بنانے تک محدود نہیں رکھا بلکہ عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے واٹر اینڈسیوریج لائنوں کی مرمت وتبدیلی، پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے ساتھ اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب کو بھی منصوبے کا حصہ بنایا ہے تاکہ شہری بنیادی سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ یہ سب عوام کا حق ہے کیونکہ وہ ٹیکس ادا کرتے ہیں اور انہیں بنیادی سہولیات ملنا ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔چیئرمین نے مزید کہا کہ جب تین سال قبل ذمہ داریاں سنبھالیں تو یہ عہد کیا تھا کہ اختیارات سے بڑھ کر کام کریں گے اور آج عملی کارکردگی اس کا ثبوت ہے۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض اداروں کو بھاری فنڈز ملنے کے باوجود شہری مسائل حل نہیں ہو رہے، جبکہ بلدیاتی نمائندے محدود وسائل میں بھی عوامی خدمت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق کراچی کے مسائل کا مستقل حل بااختیار بلدیاتی نظام ہے، جس میں تمام شہری خدمات مقامی حکومتوں کے سپرد ہوں۔وائس چیئرمین شعیب بن ظہیر نے مختصر خطاب میں کہا کہ “یہ منصوبے عوام کی دعاؤں اور قیادت کی عملی سوچ کا نتیجہ ہیں۔ ہم ہر محلے تک ترقی اور سہولتیں پہنچانے کے لیے پُرعزم ہیں۔علاقہ مکینوں نے گلیوں کی پختگی، نکاسی آب کی بہتری اور روشنی کے مؤثر انتظام پر ٹاؤن انتظامیہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ ترقیاتی عمل دیگر سیکٹرز میں بھی اسی رفتار سے جاری رہے گا۔


