ایس ایس جی سی کا چھاپہ،خفیہ طورپرسریا پگھلانے والی فیکٹری کوفراہم کیےجانے کا پردہ فاش
کراچی(بولونیوز)ملیر کے علاقے پیر سرہندی گوٹھ میں اس وقت سنسنی پھیل گئی جب سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) کی خصوصی ٹیم نے باری ٹیکسٹائل ملز پر اچانک بڑا چھاپہ مارا۔ کارروائی کی قیادت جی ایم عادل پراچا نے کی، جبکہ کورنگی زون کے افسران یاسر ہاشمی، دودو زرداری، ہیڈ آفس کے افسران اور ایس ایس جی سی پولیس کی بھاری نفری بھی موقع پر موجود تھی۔
چھاپے کے دوران ٹیم نے مل کے اندرونی حصوں کا باریک بینی سے معائنہ کیا تو ایک حیران کن انکشاف سامنے آیا۔ حکام کے مطابق باری ٹیکسٹائل ملز کے سرکاری گیس کنکشن سے غیر قانونی طور پر گیس چوری کر کے عقب میں قائم ایک دوسری فیکٹری کو فراہم کی جا رہی تھی، جہاں سریا اور کچرا پگھلانے کا غیر قانونی کاروبار جاری تھا۔
کارروائی کے دوران خفیہ طور پر بچھائی گئی ناجائز گیس لائنیں، کنکشن پوائنٹس اور گیس کے بہاؤ کو چھپانے کے مختلف طریقے بے نقاب ہو گئے۔ ایس ایس جی سی کی ٹیم نے تمام غیر قانونی لائنیں فوری طور پر منقطع کر دیں اور موقع سے اہم شواہد بھی تحویل میں لے لیے۔
ایس ایس جی سی افسران کے مطابق یہ گیس چوری نہ صرف قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا رہی تھی بلکہ صنعتی قوانین اور گیس ریگولیٹری ضوابط کی صریح خلاف ورزی بھی تھی۔ کمپنی نے واقعے کی مزید تکنیکی اور قانونی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور مقدمات درج کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گیس چوری کا یہ نیٹ ورک کافی عرصے سے فعال تھا، جو حالیہ چھاپے میں مکمل طور پر بے نقاب ہو گیا۔ مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں، جبکہ ایس ایس جی سی نے واضح کر دیا ہے کہ گیس چوری میں ملوث عناصر کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔


