نیپال کے نئے 100 روپے کے نوٹ نے بھارت میں کشیدگی پیدا کردی
نیپال(بولونیوز)مرکزی بینک، نیپال راسٹرا بینک (این آر بی)، نے 100 روپے کے نئے کرنسی نوٹ جاری کردیے ہیں، جن میں ملک کا نیا نقشہ شامل کیا گیا ہے۔ اس نقشے میں کالاپانی، لیپولیکھ اور لمپیادھورا جیسے متنازع علاقے دکھائے گئے ہیں، جو بھارت کے ساتھ سرحدی تنازع کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ اس اقدام سے بھارت میں کھلبلی مچ گئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں نئی کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔
نئے نوٹوں پر سابق گورنر مہا پرساد ادھیکاری کے دستخط ہیں، اور ان کی اجراء تاریخ 2081 BS (جو 2024 عیسوی کے مطابق ہے) درج ہے۔ یہ نوٹس دراصل گزشتہ برس منظور کیے گئے ڈیزائن کے مطابق ہیں، جسے سابق وزیر اعظم پشپا کمال ڈھال کی منظوری کے بعد باضابطہ شکل دی گئی تھی۔ نوٹوں کی پچھلی جانب پرانا نقشہ ہٹا کر نیا نقشہ شامل کیا گیا ہے، جو نیپال کے پارلیمانی طور پر منظور شدہ ترمیمی نقشے پر مبنی ہے۔
واضح رہے کہ 2020ء میں نیپال کے سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی حکومت نے ملک کا ترمیمی نقشہ جاری کیا تھا، جس میں لیپولیکھ، لیمپیادھورا اور کالاپانی کو آئینی طور پر نیپال کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔ اس نقشے کی پارلیمنٹ نے توثیق کی تھی، اور اب اسے کرنسی نوٹوں پر شائع کرکے نیپال نے اپنے موقف کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔
دوسری جانب، بھارت نے اس اقدام کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ علاقے تاریخی طور پر بھارت کے ہیں، اور نیپال کاشدہ نقشے کو کرنسی نوٹ کا حصہ بنانا غیر قانونی اور ناقابل قبول ہے۔ بھارت کے مطابق، اس قسم کے مصنوعی توسیع پر مبنی علاقائی دعوے بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہیں اور اس خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
اس تنازع کے باوجود، نیپال راسٹرا بینک نے نئے 100 روپے کے نوٹوں کو گردش میں لانے کی تصدیق کی ہے، اور یہ نوٹ اب عوام کے استعمال کے لیے دستیاب ہیں۔ ماہرین کے مطابق، یہ قدم دونوں ممالک کے درمیان موجودہ سفارتی تعلقات کو مزید کمزور کرسکتا ہے، جس کے حل کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کی ضرورت ہوگی۔


