کراچی کی ترقی کے لیے ایم کیو ایم نے وفاقی حکومت کا بھرپور ساتھ دیا
کراچی (بولونیوز) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما و ممبر قومی اسمبلی سید امین الحق نے کہا ہے کہ تمام سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر کراچی کی تعمیر و ترقی کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر متحد ہونا پڑے گا، کیونکہ یہ شہربنیادی طورپرہم سب کا ہے اور جب کراچی ترقی کرے گا تو پاکستان ترقی کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گرین لائن پروجیکٹ ایکسٹینشن پروگرام کےسنگ بنیاد کےموقع پر منعقدہ ایک اہم بریفنگ میں کیا، جس میں پی آئی ڈی سی ایل کی جانب سے گرین لائن منصوبے کے ایکسٹینشن پلان پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، ایم کیو ایم پاکستان کے وفد میں سید امین الحق کے ہمراہ اپوزیشن لیڈر سندھ علی خورشیدی، اراکین قومی اسمبلی ارشد وہرہ،صبحین غوری اورڈپٹی پارلیمانی لیڈرصوبائی اسمبلی طہٰ احمد خان شامل تھے۔پی آئی ڈی سی ایل کے نمائندے نے متحدہ وفد کو بتایا کہ گرین لائن منصوبے کا وہ حصہ جو سرجانی سے مارکیٹ ٹاور تک جانا تھا، نمائش تک 21.5 کلومیٹر مکمل ہو چکا ہے،اوراسکی ایکسٹینشن(نمائش تا عید گاہ گراونڈ)کی تکمیل کی نئی اورحتمی تاریخ 31 اکتوبر 2026ء مقرر کر دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم منصوبے کے لیے درکار تمام ساڑھے پانچ ارب روپے کے فنڈز پی آئی ڈی سی ایل کے پاس موجود ہیں، لہٰذا اب کسی قسم کی مالی یا انتظامی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہو گا۔ سید امین الحق نے بلدیہ عظمی کراچی کی جانب سے شہریوں کے ٹریفک اور تعمیرات کے بعد روڈز، ڈریج سسٹم اور فٹ پاتھوں کی بحالی کے حوالے سے اٹھائے گئے تمام تحفظات کو سراہا اور کہا کہ ایم کیو ایم اس شہر کے میئر کو بااختیار بنانے کے لئے روز اول سے متحرک ہے، یہی وجہ ہے کہ پی آئی ڈی سی ایل نے نہ صرف انہیں تسلیم کیا ہے بلکہ ان پر عملدرآمد کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وفاقی ادارے جیسے پی ڈبلیو ڈی، این ایل سی، واپڈا اور ایف ڈبلیو او کی طرح پی آئی ڈی سی ایل کو بھی شہر میں کام کرتے ہوئے کے ایم سی کے ساتھ بہترین کوآرڈینیشن کو یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے وفاق کی جانب سے کراچی کے بڑے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ کے فور منصوبہ پر 70 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور اسے 2026ء تک پایہ تکمیل تک پہنچا کر شہریوں کو پانی کی فراہمی شروع کر دی جائے گی، جبکہ ایم کیو ایم پاکستان وفاق سے جدوجہد کے بعد کراچی اور حیدرآباد کی ترقی کے لیے 25 ارب روپے کے فنڈز لا چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کا اصولی مطالبہ ہے کہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں اور آرٹیکل 140-A کے تحت کراچی کے میئر کو بھی وہی مکمل اختیارات اور وسائل ملنے چاہئیں جو دنیا دیگر بڑے شہروں کے سربراہان کو میسر ہیں، پروگرام میں میئر کراچی مرتضی وہاب، ڈپٹی میئر سلمان عبداللہ مراد اور کے ایم سی کے حکام بھی موجود تھے۔



