Category: پاکستان

  • وزیرِاعظم نے فیلڈ مارشل کوچیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسزمقررکرنےکی سمری صدرکوبھجوا دی

    اسلام آباد(بولونیوز) وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف نے فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرأت، کی چیف آف آرمی اسٹاف (COAS) اور چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) کے طور پر تقرری کی سمری باقاعدہ طور پر منظور کر کے صدرِ مملکت کے دفتر ارسال کر دی ہے۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے اور وہ بیک وقت چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ یہ تقرری پانچ سال کے لیے کی گئی ہے۔

    دوسری جانب، وزیرِاعظم نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابَر سدھو، چیف آف ایئر اسٹاف، کی مدتِ ملازمت میں دو سالہ توسیع کی منظوری بھی دے دی ہے، جو ان کی موجودہ پانچ سالہ مدت کے اختتام، مارچ 2026 سے مؤثر ہوگی۔

  • مرتضیٰ وہاب کا حادثات کےبعد رسپانس سسٹم بہتربنانےپرزور

    کراچی(بولونیوز) میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے سندھ ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہر میں حادثات کے بعد ریسکیو رسپانس کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں طے کیا گیا کہ کسی بھی واقعے کے وقت متعلقہ عملے کے پاس مکمل مشینری اور سہولیات موجود ہونی چاہئیں۔

    میئر کراچی کا کہنا تھا کہ ریسکیو سرگرمیوں کے دوران اہلکاروں کو مشتعل افراد سے بچانا بھی ایک اہم چیلنج ہے، جس کے لیے مؤثر حکمتِ عملی درکار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہر میں مین ہولز کے ڈھکنوں کی کمی نہیں، لیکن ڈھکن لگائے جانے کے باوجود چوری ہوجاتے ہیں۔

    مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ وزیر داخلہ سندھ سے مین ہول کورز کی چوری کی روک تھام سے متعلق بات چیت ہو چکی ہے، اور اب اس غیرقانونی سرگرمی کو روکنے کے لیے ثانوی مارکیٹ کا خاتمہ ضروری ہے۔ شہریوں کی سہولت کے لیے گٹر کے ڈھکنوں کی شکایات درج کرانے کے لیے ہیلپ لائن 1334 متعارف کرائی گئی ہے، جس کے ذریعے واٹر بورڈ کو بروقت اطلاع دی جاسکتی ہے۔

    حادثات سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوتاہیوں سے سیکھ کر مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اسٹور کے باہر کھلے مین ہول پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اسٹور انتظامیہ نے نہ خود ڈھکن لگایا اور نہ ہی متعلقہ ادارے کو شکایت کی، اس لیے شہریوں کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔

    میئر کراچی سے ایک سوال میں پوچھا گیا کہ آپ کے خلاف مقدمہ اندراج کی درخواست دائر ہوئی ہے؟ اس پر مرتضیٰ وہاب نے کہا: “ملزم تو میں ہر چیز کا ہوتا ہوں، مجرم نہیں۔ ہم نیک نیتی کے ساتھ کام کرتے ہیں، الزامات لگانے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔”

    انہوں نے حادثے میں جاں بحق ہونے والے بچے ابراہیم کے لواحقین سے افسوس اور ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی تکلیف دہ ہے، ہمارے بھی بچے ہیں۔ انسانی مسائل پر سیاست کے بجائے انسانیت کو ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ انسانیت سے بڑھ کر کچھ نہیں۔

  • سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی مینجنگ کمیٹی کا اجلاس، 26، 27 آئینی ترمیم کی متفقہ مذمت

    کراچی(بولونیوز)سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر حسیب جمالی کی سربراہی میں مینجنگ کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں اہم آئینی معاملات پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم کو متفقہ طور پر مسترد کرتے ہوئے شدید مذمت کی گئی۔

    اعلامیے کے مطابق 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم آئین کے بنیادی ڈھانچے، عدلیہ کی آزادی اور جمہوری اصولوں کے منافی ہیں۔ ہائیکورٹ بار نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ترامیم بنیادی انسانی حقوق کے بھی خلاف جاتی ہیں۔

    بار ایسوسی ایشن نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ترامیم پر فوری طور پر نظرِ ثانی کرے اور انہیں واپس لے کر آئینی و جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کرے۔

  • ایم ڈی اے اور ایل ڈی اے نیب کے ریڈار پر، 30 سال سے الاٹیز کو قبضہ نہ دینے پر اہم پیش رفت

    کراچی(بولونیوز)قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی نے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) اور لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے خلاف ازخود نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔

    نیب کو موصول متعدد شکایات میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ نئی ملیر ہاؤسنگ اسکیم ون اور ہاکس بے اسکیم 42 کے الاٹیز گزشتہ 30 سال سے دربدر ہیں۔ شکایات کے مطابق مکمل ادائیگیوں کے باوجود تین دہائیوں سے الاٹیز کو قبضہ فراہم نہیں کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق نیب کراچی نے ابتدائی جائزے کے بعد سندھ سیکریٹریٹ کی اسکرٹنی کمیٹی سے معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ نیب نے اپنے مراسلے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ رپورٹ نیب آرڈیننس کے سیکشن 27 کے تحت طلب کی گئی ہے۔

    خط میں متعلقہ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 60 روز کے اندر اپنی رپورٹ نیب کو جمع کرائے تاکہ آئندہ قانونی کارروائی کا تعین کیا جا سکے۔

    نیب کی کارروائی کو الاٹیز نے دیرینہ مسئلے کے حل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

  • جو جج انصاف فراہم نہیں کر سکتے، انہیں عہدہ چھوڑ دینا چاہیے: علیمہ خان

    راولپنڈی(بولونیوز) پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ “جو جج انصاف فراہم نہیں کر سکتے، انہیں اپنے عہدے چھوڑ دینے چاہئیں”۔

    عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے عمران خان کی مبینہ آئیسولیشن پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق قیدی کو ہفتہ وار فیملی، وکلاء اور رشتہ داروں سے ملاقات کی اجازت ہوتی ہے، مگر عمران خان کے معاملے میں اس قانون پر مکمل عمل نہیں ہو رہا۔

    انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ عمران خان کی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر نہیں کر رہی۔ ان کے بقول، “اگر اپیل سماعت کے لیے مقرر ہوئی تو عدالت کو انہیں ضمانت دینا پڑے گی، اس لیے تاخیر کی جا رہی ہے۔”

    علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کے خلاف مقدمے میں صرف سزا سنانے کی جلدی دکھائی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ آئندہ 10 سے 12 دن میں فیصلہ سنانے کا ارادہ ہے، مگر وہ ایسے اقدامات کے باوجود “اپنے احتجاج اور مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گی”۔

  • فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے چیف آف ڈیفنس فورسز کا باقاعدہ چارج سنبھال لیا

    اسلام آباد(بولونیوز) فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) کے طور پر باقاعدہ طور پر عہدے کا چارج سنبھال لیا ہے۔ اس سلسلے میں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر تقرری کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

    وزارتِ دفاع کے مطابق یہ تقرری 22ویں آئینی ترمیم ایکٹ 2025 کے تحت عمل میں آئی، جس کے بعد پاکستان آرمی ایکٹ 1952 میں بھی ضروری ترامیم کی گئیں۔ نئے قائم شدہ عہدے کے تحت جنرل عاصم منیر بیک وقت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (CJCSC) اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔

    وزارتِ دفاع کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ تینوں مسلح افواج — آرمی، نیوی اور ایئر فورس — کی متحدہ کمان، اسٹریٹجک نگرانی اور قومی دفاعی پالیسی کی ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے تخلیق کیا گیا ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز ملک کی اعلیٰ عسکری مشاورت فراہم کرنے والی مرکزی شخصیت ہوں گے۔

    نوٹیفکیشن میں تمام وفاقی وزارتوں، ڈویژنز، عسکری و سول اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے ساتھ مکمل تعاون یقینی بنائیں تاکہ نئی دفاعی حکمت عملی کے مطابق انتظامی امور مؤثر انداز میں نمٹائے جا سکیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے دستخطوں کے ساتھ جاری ہونے والے اس نوٹیفکیشن کے بعد جنرل عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تقرری فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے۔

  • فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے چیف آف ڈیفنس فورسز کا باقاعدہ چارج سنبھال لیا

    اسلام آباد(بولونیوز) فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) کے طور پر باقاعدہ طور پر عہدے کا چارج سنبھال لیا ہے۔ اس سلسلے میں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر تقرری کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

    وزارتِ دفاع کے مطابق یہ تقرری 22ویں آئینی ترمیم ایکٹ 2025 کے تحت عمل میں آئی، جس کے بعد پاکستان آرمی ایکٹ 1952 میں بھی ضروری ترامیم کی گئیں۔ نئے قائم شدہ عہدے کے تحت جنرل عاصم منیر بیک وقت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (CJCSC) اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔

    وزارتِ دفاع کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ تینوں مسلح افواج — آرمی، نیوی اور ایئر فورس — کی متحدہ کمان، اسٹریٹجک نگرانی اور قومی دفاعی پالیسی کی ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے تخلیق کیا گیا ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز ملک کی اعلیٰ عسکری مشاورت فراہم کرنے والی مرکزی شخصیت ہوں گے۔

    نوٹیفکیشن میں تمام وفاقی وزارتوں، ڈویژنز، عسکری و سول اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے ساتھ مکمل تعاون یقینی بنائیں تاکہ نئی دفاعی حکمت عملی کے مطابق انتظامی امور مؤثر انداز میں نمٹائے جا سکیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے دستخطوں کے ساتھ جاری ہونے والے اس نوٹیفکیشن کے بعد جنرل عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تقرری فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے۔

  • علاقوں میں حفاظتی اقدامات نظرانداز،سندھ حکومت کی بددیانتی کے سواکچھ نہیں

    کراچی(بولونیوز)مجلس وحدت مسلمین کےرہنما علامہ مبشرحسن نےنیپا چورنگی کے قریب کم سن ابراہیم کی مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے المناک واقعہ پر غم و غصے کااظہار کرتےہوئے اسے متعلقہ اداروں کو بدترین غفلت اور بے حسی قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ میں بی آر ٹی ریڈ لائن اور نجی اسٹور کو ذمہ دار قرار دیے جانا اپنی نا اہلی کو چھپانے کی مذموم کوشش ہے۔ شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کےبغیرکسی ایک منصوبےیاادارے پر ڈال دیناسندھ حکومت کی بددیانتی کے سوا کچھ نہیں۔حادثے کے اصل ذمہ داری کاتعین کر کے قرار واقعی سزا دینا ضروری ہے۔واقعے کو کسی منصوبے یا اسٹور سے جوڑ کر قیمتی انسانی جان کے ضیاع سے بری الذمہ نہیں ہواجا سکتا۔ مین ہول کوڈھکن لگانا کس ادارے کی براہ راست ذمہ داری بنتی تھی۔ایک پرہجوم علاقےمیں حفاظتی اقدامات کیوں نظر انداز کیے گئے۔ کیا متعلقہ افسران کی عارضی معطلی غمزدہ والدین کو ملنے والے اس گہرے زخم کا مرہم بن سکتا ہے؟یہ سنگین واقعہ غیر ذمہ دارانہ طرز عمل اور سسٹم کی ناکامی پر دلالت کرتا ہے۔بیشتر حادثات پر من پسند اور خود ساختہ رپورٹس کو حکومتی دستاویزات میں شامل کر کے سانحات کی وجوہات کو ختم کر دیا جاتا ہے جس سے متاثرہ افراد کو انصاف نہیں ملتا۔ رپورٹ میں جن نکات کا حوالہ دیا گیا ہے وہ حقیقت کے برعکس ہیں۔سندھ حکومت کی نااہلی اور عدم توجہی شہر کے موجودہ مسائل کی بنیادی وجہ ہے،حکومت کی جانب سے اس شہر پر نا اہل اور جعلی میئر مسلط کر دیا گیا ہے جس کو بچانے کی ناکام کوششیں کی جاری ہیں۔شہری روزانہ قاتل ڈمپروں،ٹوٹی سڑکوں،جرائم پیشہ افراد کی وجہ سے مختلف حادثات کا شکار ہورہے ہیں۔صفائی ستھرائی، نکاسی آب، ٹریفک کنٹرول اور عوامی سہولتوں کی بگڑتی صورتحال نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔مگر حکومت ان مسائل کے سدباب کیلئے کوموثر اقدامات نہیں کرتی نہ ہی ان کی توجہ دی جاتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی تحقیقات کسی آزاد کمیٹی یا جوڈیشل انکوائری کے ذریعے کرائی جائے تاکہ ذمہ داران کا درست، شفاف اور غیرسیاسی تعین ہوسکے اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے مستقل حکمتِ عملی وضع کی جاسکے۔شہری مسائل کے مستقل حل کے لیے ہنگامی اقدامات اور شفاف حکمت عملی اختیار کی جائے۔

  • فلائی جناح کی کراچی سے جدہ براہ راست پروازوں کا اعلان

    کراچی(بولونیوز) پاکستان سے سعودی عرب سفر کرنے والے مسافروں کے لیے بڑی خوشخبری آگئی ہے۔ سستی ایئرلائن فلائی جناح نے کراچی سے جدہ کے لیے براہ راست پروازوں کا اعلان کر دیا، جو 10 دسمبر سے باقاعدہ آغاز کریں گی۔

    ایئرلائن کے مطابق نیا روٹ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حجاج، عمرہ زائرین، سیاحوں اور کاروباری مسافروں کے لیے رابطے مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    فلائی جناح کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یکطرفہ ٹکٹ کی قیمت تقریباً 25 ہزار روپے سے شروع ہوگی، جو مسافروں کے لیے انتہائی سستی اور سہل آپشن ہے۔ اس کے علاوہ مسافروں کو اضافی سامان لے جانے اور کھانے پینے کی سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی۔

    ایئرلائن حکام کا کہنا ہے کہ فلائی جناح کا مقصد کم لاگت، آرام دہ اور قابل اعتماد سفری سہولیات فراہم کرنا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ مسافر فائدہ اٹھا سکیں۔

  • کراچی کی 26 شاہراہوں پر رکشوں کا داخلہ بند، خلاف ورزی پر مقدمہ ہوگا

    کراچی(بولونیوز)کراچی کی 26 شاہراہوں پر 1+4 رکشہ چلانے پر پابندی عائد کر دی گئی جبکہ خلاف ورزی پر مقدمہ درج کیا جائے گا۔شہر میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کیلیے کمشنر کراچی نے سیکشن 144 کے تحت پابندی نافذ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جس کے مطابق 1+4 رکشوں کی پابندی کا دائرہ 20 سے بڑھا کر 26 شاہراہوں تک کر دیا گیا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ڈی آئی جی ٹریفک کی سفارش پر شہر میں رکشوں کی آمد و رفت محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا، شاہراہ فیصل سے آئی آئی چندریگر روڈ تک رکشوں کی مکمل ممانعت فوری طور پر نافذ کر دی گئی۔

    حکم نامے میں کہا گیا کہ شاہراہوں پر رکشہ پابندی 18 اکتوبر سے 17 دسمبر تک مؤثر قرار دی گئی، خلاف ورزی کی صورت میں ایس ایچ اوز کو سیکشن 188 کے تحت مقدمات درج کرنے کی ہدایت کی گئی، متعلقہ محکموں اور ڈپٹی کمشنرز کو تمام احکامات پر فوری اور سخت عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا گیا۔

    مزید بتایا گیا کہ عوامی شکایات، ٹریفک جام اور حادثات کے خدشات کے باعث مرکزی شاہراہوں پر رکشہ پر پابندی لگائی گئی، کمشنر کراچی نے مزید 6 بڑی شاہراہوں پر رکشوں کی آمد و رفت پر مکمل پابندی عائد کی۔

    ’ٹریفک پولیس کی نئی سفارشات پر رکشہ پابندی کے دائرہ کار میں باضابطہ توسیع کر دی گئی۔ نئی چھ شاہراہوں پر رکشہ پابندی پہلے سے جاری نوٹیفیکیشن کے مساوی مدت کیلیے نافذ کی گئی۔