Category: انٹرنیشنل نیوز

  • اسپیکر ایاز صادق اور بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی ڈھاکہ میں ملاقات

    ڈھاکہ(بولونیوز)پاک بھارت حالیہ جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلا غیر رسمی رابطہ سامنے آیا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اور پاکستان کے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ملاقات ڈھاکہ میں سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی رہائش گاہ پر ہوئی۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق، جے شنکر خود چل کر سپیکر کی نشست پر پہنچے اور مصافحہ کیا، جس پر ایاز صادق نے مسکرا کر جواب دیا۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے مختصر گفتگو کی اور ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی۔

    اس موقع پر دونوں کے درمیان خیر مقدمی کلمات کا تبادلہ بھی ہوا۔ جے شنکر بنگلہ دیش میں سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے اہل خانہ سے تعزیت کے لیے آئے تھے۔ یہ پاک بھارت جنگ کے بعد اعلیٰ سطح پر دونوں ممالک کے رہنماؤں کا پہلا آمنا سامنا قرار دیا جا رہا ہے۔

  • بنگلادیش کی پہلی خاتون وزیرِاعظم خالدہ ضیا کی نمازِ جنازہ اداکردی گئی

    ڈھاکا(بولونیوز)بنگلادیش کی سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا کی نمازِ جنازہ ادا کی جا رہی ہے۔ نمازِ جنازہ میں عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس سمیت ہزاروں افراد شریک ہیں۔ پاکستانی اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق بھی اس موقع پر موجود ہیں۔

    واضح رہے کہ خالدہ ضیا کے انتقال پر بنگلادیش میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ وہ جگر کے عارضے سمیت دیگر کئی بیماریوں میں مبتلا تھیں اور کافی عرصے سے ڈھاکا کے اسپتال میں زیر علاج تھیں، تاہم گزشتہ روز وہ خالق حقیقی سے جا ملیں۔

  • نیویارک ٹائمز کی رپورٹ: آر ایس ایس نے بھارت میں ہندو راشٹر کے قیام کی راہ ہموار کر دی

    بھارت(بولونیوز)امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ہندوانتہا پسند تنظیم آر ایس ایس اور اس کے سیاسی سرپرست بی جے پی کے تعلقات اور بھارت میں اثر و رسوخ پر تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں تنظیم کی 100 سالہ تاریخ اور سیاسی حکمت عملی بے نقاب کی گئی۔

    رپورٹ کے مطابق آر ایس ایس کی بنیاد ہٹلر کے نظریات سے متاثر ہو کر 1925 میں رکھی گئی۔ تنظیم کے تربیتی کیمپوں میں مذہبی منافرت اور عسکری تربیت دی جاتی رہی ہے۔ 1948 میں مسلمانوں کے حقوق کی بات کرنے پر آر ایس ایس نے مہاتما گاندھی کا قتل کروا دیا۔

    نیویارک ٹائمز کے مطابق آر ایس ایس نے ہندو انتہا پسندی کو ووٹ بینک میں تبدیل کیا اور بی جے پی محض ایک سیاسی جماعت نہیں، بلکہ آر ایس ایس کا سیاسی چہرہ ہے۔ مسلم دشمنی اور ہندو انتہا پسندی اب بھارتی ریاستی طاقت میں بدل چکی ہے۔ 2014 کے بعد سے سیکولر بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کا منصوبہ فعال طور پر جاری ہے۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ آر ایس ایس کی حکمت عملی کے تحت:

    مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی۔

    بابری مسجد کو شہید کر کے رام مندر بنایا گیا۔

    اقلیتوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    نیویارک ٹائمز نے واضح کیا کہ دہشت گرد تنظیم اب بھارتی ریاستی اداروں میں سرایت کر چکی ہے۔ تعلیم، میڈیا، عدلیہ اور سیکیورٹی اسٹرکچر میں شدت پسندوں کا اثر بڑھ گیا ہے، اور وزیراعظم نریندر مودی آر ایس ایس کے کارکن کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔

  • غزہ کی تباہ کن صورتحال پر 10 ممالک کا مشترکہ اظہارِ تشویش

    لندن(بولونیوز)برطانیہ، کینیڈا اور فرانس سمیت 10 ممالک نے غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ غزہ کی حالت انتہائی تباہ کن ہو چکی ہے، جہاں شدید بارش، سرد موسم اور مسلسل محاصرے نے شہریوں کی مشکلات کو بے حد بڑھا دیا ہے۔

    مشترکہ بیان کے مطابق غزہ میں تقریباً 13 لاکھ افراد فوری پناہ کے محتاج ہیں، جب کہ مسلسل محاصرے کے نتیجے میں طبی سہولیات کی شدید کمی پیدا ہو گئی ہے۔ نکاسیٔ آب کا نظام تباہ ہونے کے باعث 7 لاکھ سے زیادہ افراد آلودہ اور زہریلا پانی پینے پر مجبور ہیں، جس سے صحت کے سنگین خطرات جنم لے رہے ہیں۔

    ممالک نے کہا کہ وہ غزہ کے عوام کی تکالیف سے آنکھیں نہیں موڑ سکتے اور وہاں اقوامِ متحدہ کے اداروں کو بلا رکاوٹ امدادی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

    بیان میں یہ بھی خبردار کیا گیا کہ اگر حماس غیر مسلح نہ ہوئی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    یہ مشترکہ بیان برطانیہ، کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، ناروے، سویڈن، سوئٹزرلینڈ اور جاپان کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

  • بنگلہ دیش نے اپنے سفیر کو فوری طور پر بھارت سے واپس طلب کر لیا

    ڈھاکہ(بولونیوز)بنگلہ دیشی حکومت نےایک اہم سفارتی اقدام کے تحت اپنے سفیر کو فوری طور پر بھارتی سرزمین چھوڑنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے واپس ڈھاکہ طلب کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت اور معاملات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

    حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سفیر کو فوری طور پر وطن واپس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، تاہم اس اقدام کی سرکاری وجوہات سے متعلق مزید تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں۔

    سفارتی حلقوں میں اس فیصلے کو خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

  • مسجد الحرام میں ماہِ رمضان کے دوران افطار کے انتظامات کے لیے درخواستیں طلب

    مکہ مکرمہ(بولونیوز)سعودی عرب میں ادارہ امورِ حرمین نے ماہِ رمضان کے دوران مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ میں افطار کے انتظامات کے لیے لائسنس یافتہ کیٹرنگ سروسز سے درخواستیں طلب کر لیں۔ ادارے نے اس ضمن میں باقاعدہ شرائط و ضوابط بھی مقرر کر دیے ہیں۔

    ادارہ امورِ حرمین کے مطابق وہ کمپنیاں جو مؤثر لائسنس رکھتی ہیں اور جن کے خلاف کسی قسم کی صحت سے متعلق خلاف ورزی کا ریکارڈ موجود نہیں، مقررہ قواعد کے تحت اپنی درخواستیں جمع کرا سکتی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 10 رجب بمطابق 30 دسمبر 2025 مقرر کی گئی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق کیٹرنگ کمپنیوں کو افطار دسترخوان کے لیے یہ ضمانت دینی ہوگی کہ وہ روزانہ کم از کم 10 ہزار معیار کے مطابق فوڈ پیکٹس فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ زائرین کی سلامتی اور صحت کو یقینی بنانے کے لیے سخت ہیلتھ اسٹینڈرڈز کے تحت حرمین شریفین کے مخصوص مقامات پر افطار پیکٹس تقسیم کیے جائیں گے۔

    مزید بتایا گیا ہے کہ رمضان سے قبل ایک آن لائن پورٹل بھی متعارف کرایا جائے گا، جس کے ذریعے افراد اور فلاحی تنظیمیں مسجد الحرام میں افطار دسترخوان کے انتظام کے لیے درخواستیں جمع کرا سکیں گی۔

  • ایرانی کرنسی کی قدر میں زبردست کمی، ملک میں احتجاج

    تہران(بولونیوز) ایران میں کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے بعد ملک بھر میں عوامی احتجاج جاری ہے۔ تہران کے وسطی علاقے سعدی سٹریٹ اور مرکزی گراؤنڈ بازار کے قریب شوش علاقے میں تاجر اور دکان دار بھی سڑکوں پر نکل آئے۔

    عوامی احتجاج کے دوران کاروباری سرگرمیوں میں شدید کمی دیکھی گئی اور مارکیٹوں میں معمول کے مطابق کاروبار متاثر ہوا۔ اس صورتحال کے بعد ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

    واضح رہے کہ کرنسی کی قدر میں یہ زبردست کمی ملکی معیشت کے لیے سنگین خطرہ تصور کی جا رہی ہے اور حکومت نے صورت حال کو قابو میں لانے کے لیے فوری اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

  • پیوٹن کی رہائش گاہ پر یوکرینی حملہ، صدر ٹرمپ کا ردعمل سامنے آگیا

    واشنگٹن(بولونیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ روسی صدر پیوٹن کی رہائش گاہ پر یوکرینی حملے کا سُن کر بہت برا لگا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یوکرینی حملے کا سن کر مجھے بہت غصہ آیا، روسی صدر پیوٹن سے اچھی بات چیت ہوئی ہے تاہم یوکرین میں امن کے لیے ابھی کچھ پیچیدہ مسائل ہیں۔اس سے قبل روس نے یوکرین پر صدر ولادیمیر پیوٹن کی سرکاری رہائش گاہ پر حملے کا الزام لگایا تھا۔

    روس کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ یوکرین نے نووگورود ریجن میں صدر پیوٹن کی رہائش گاہ پر حملہ کیا ہے۔ حملے کے وقت صدر پیوٹن کے رہائش گاہ پر موجود ہونے کا نہیں بتایا گیا۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ یوکرین نے صدر پیوٹن کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، یوکرین نے 28 اور 29 دسمبر کے درمیان رہائش گاہ پر 91 لانگ رینج ڈرونز فائر کیے۔

  • بنگلا دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم خالدہ ضیا انتقال کر گئیں

    ڈھاکا(بولونیوز)بنگلا دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم خالدہ ضیا انتقال کر گئیں۔سابق بنگلادیشی وزیر اعظم کئی روز سے وینٹی لیٹر پر تھیں، 80 سالہ خالدہ ضیا جگر، دل اور ذیابیطس کے عارضے میں مبتلا تھیں، بنگلا دیش نیشنل پارٹی نے اپنی سربراہ کے انتقال کی تصدیق کی۔

    خالدہ ضیا 1991 سے 1996 تک بنگلادیش کی وزیر اعظم رہیں، ان کا دوسرا دور 2000 سے 2001 تک تھا، ان کے بیٹے طارق رحمان 17 سال بعد بنگلا دیش پہنچے تھے جو بی این پی کے قائم مقام چیئرمین بنے۔

    حسینہ واجد کے دور میں خالدہ پر کرپشن کے مقدمات بنے۔ برسوں کی خرابی صحت اور قید کے باوجود خالدہ ضیا نے نومبر میں فروری 2026 میں ہونے والے انتخابات میں مہم چلانے کا عزم کیا تھا۔ تاہم نومبر کے آخر میں انھیں اسپتال لے جایا گیا، جہاں طبی ماہرین کی بہترین کوششوں کے باوجود ان کی حالت بگڑتی چلی گئی۔

  • کسی بھی جارحیت کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا واضح پیغام

    تہران(بولونیوز) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کا سخت اور فیصلہ کن ردعمل دیا جائے گا۔

    ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حکومت کو نئے ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی دھمکی دی تھی۔

    رپورٹس کے مطابق علی شمخانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کی میزائل اور دفاعی صلاحیتیں کسی بھی دباؤ کے تحت محدود نہیں کی جا سکتیں اور اس کے لیے کسی بیرونی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اُٹھائے گا۔

    رپورٹس کے مطابق یہ ردعمل ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی مشترکہ نیوز کانفرنس کے بعد سامنے آیا، جس میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم اگر ایران دوبارہ جوہری صلاحیتیں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ہر ممکن خطرے کو فوری طور پر ختم کر دیا جائے گا۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا کہ ایران اسرائیل کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی نئی مہم جوئی کا ردعمل ماضی کی بارہ روزہ جنگ سے کہیں زیادہ سخت ہوگا۔

    ایران کی جانب سے یہ سخت بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اطلاعات ہیں کہ اسرائیل، ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنے کے لیے امریکا کے ساتھ مشترکہ کارروائی پر زور دے رہا ہے۔