Category: انٹرنیشنل نیوز

  • سوشل میڈیا پر زیورات کی نمائش مہنگی پڑ گئی، ولاگر کا گھر چوروں نے لوٹ لیا

    بھارت(بولونیوز)بھارتی ریاست Madhya Pradesh میں سوشل میڈیا پر اپنی پرتعیش زندگی اور زیورات کی نمائش کرنا ایک خاتون ولاگر کے لیے مہنگا ثابت ہوا، جب ان کا گھر چوری کی بڑی واردات کا شکار ہوگیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق نامعلوم چور ایک ملین روپے سے زائد مالیت کے زیورات لے کر فرار ہو گئے، جس کے بعد اہل خانہ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

    پولیس کے مطابق چور نہ صرف گھر کے اندر داخل ہوئے بلکہ انہیں گھر کے نقشے اور قیمتی اشیا کے بارے میں پہلے سے معلومات بھی حاصل تھیں، جس سے ابتدائی طور پر شبہ ظاہر کیا گیا کہ واردات میں کسی جاننے والے کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

    بعد ازاں تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ متاثرہ خاتون ایک معروف سوشل میڈیا ولاگر ہیں جنہوں نے اپنی ویڈیوز میں گھر، طرزِ زندگی اور زیورات کی تفصیل ظاہر کی تھی۔ پولیس کے مطابق چوروں نے انہی ویڈیوز کی مدد سے معلومات حاصل کر کے واردات کو عملی جامہ پہنایا۔

    سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک نقاب پوش شخص کو گھر کے باہر کیمروں کا زاویہ تبدیل کرتے بھی دیکھا گیا ہے۔

    اہل خانہ کے مطابق چوری ہونے والے زیورات کی مالیت تقریباً 8 سے 10 لاکھ بھارتی روپے (تقریباً 30 لاکھ پاکستانی روپے) بتائی جا رہی ہے۔

    پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

  • فیفا ورلڈ کپ 2026: ایرانی شائقین کے میچ ٹکٹس منسوخ، امریکی اقدام پر تنقید

    واشنگٹن(بولونیوز)فیفا ورلڈ کپ 2026 کے حوالے سے ایک پیش رفت میں ایرانی شائقین کے لیے مختص میچ ٹکٹس منسوخ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    امریکی حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کی قومی ٹیم بھی میگا ایونٹ میں شریک ہے۔ ٹورنامنٹ FIFA World Cup 2026 امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہو رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ایران کی ٹیم اپنے میچز امریکا میں کھیلے گی، تاہم شائقین کے ویزا اور ٹکٹ کے معاملات پر پابندیوں کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    اس فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے اور اسے کھیلوں میں سیاست کی مداخلت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس حوالے سے مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

  • ٹرمپ کا ایران کے خلاف دو ہفتوں میں “مکمل فتح” کا دعویٰ، تیل کی قیمتوں میں کمی کی پیش گوئی

    واشنگٹن(بولونیوز)امریکی صدر Donald Trump نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ آئندہ دو ہفتوں کے اندر ایران کے خلاف “مکمل فتح” کا اعلان کرے گا۔یہ بیان انہوں نے ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کے لیے منعقدہ ایک ٹیلی ریلی سے خطاب کے دوران دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔

    ٹرمپ کے مطابق معاہدہ آئندہ دو سے تین روز میں بھی طے پا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ معاہدے پر دستخط کے بعد آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دی جائے گی، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر مثبت اثرات پڑیں گے۔

    سابق امریکی صدر نے تیل کی قیمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “فتح” کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔

  • ایران کا دعویٰ، اسرائیل کے خلاف آپریشن کامیابی سے مکمل، مزید کارروائی روک دی گئی

    تہران(بولونیوز)ایران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف کیا گیا فوجی آپریشن کامیابی کے ساتھ اختتام کو پہنچ گیا ہے اور مزید کارروائی روک دی گئی ہے۔

    ایرانی حکام کے مطابق موجودہ مرحلے میں کارروائیاں ختم کر دی گئی ہیں، تاہم واضح کیا گیا ہے کہ اگر Israel کی جانب سے دوبارہ Lebanon کو نشانہ بنایا گیا تو اس سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔

    دوسری جانب ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کی کارروائی دفاعی نوعیت کی تھی اور مقصد صرف اپنے اور خطے کے اتحادیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں ردعمل پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔

  • ٹرمپ کا انکشاف: نیتن یاہو کو ایران کے خلاف کارروائی سے باز رہنے کا مشورہ دیا

    واشنگٹن(بولونیوز)سابق امریکی صدر Donald Trump نے اسرائیلی چینل 12 کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم کو ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے حوالے سے اہم مشورے دیے تھے۔

    ٹرمپ کے مطابق انہوں نے Benjamin Netanyahu کو خبردار کیا تھا کہ اگر جنگ میں اضافہ ہوا تو وہ ایران کے خلاف تنہا رہ جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے نیتن یاہو کو ایران کے حملوں پر فوری اور سخت ردعمل دینے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا۔

    سابق امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ انہوں نے اسرائیل کے ایران کے خلاف ردعمل کو کم کرنے کی کوشش کی اور اس معاملے پر کئی ممالک نے ان سے رابطہ کر کے نیتن یاہو پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی پہلے ہی بڑھتی ہوئی دیکھی جا رہی ہے اور عالمی سطح پر صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

  • اقوام متحدہ میں چین کا مؤقف: داعش، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں اب بھی افغانستان میں سرگرم

    اقوام متحدہ(بولونیوز)چین کے مستقل نمائندے Fu Cong نے افغانستان سے متعلق ایک اجلاس کے دوران کہا ہے کہ متعدد دہشت گرد تنظیمیں اب بھی افغانستان میں سرگرم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ داعش، القاعدہ، اسلامک موومنٹ آف ایسٹ ترکستان (ای ٹی آئی ایم)، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی موجودگی خطے کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

    چینی نمائندے نے United Nations کے اجلاس میں زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی سرزمین کو کسی بھی دہشت گرد گروہ کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے افغان حکام، خصوصاً طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک میں سرگرم تمام مسلح اور شدت پسند گروہوں کے خلاف فیصلہ کن اور مؤثر کارروائی کریں۔

    فو کونگ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے بڑا چیلنج ہے، اس لیے عالمی برادری کی توقع ہے کہ افغانستان اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور دہشت گرد عناصر کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے۔

  • جرمنی اور فرانس کا مشترکہ فائٹر جیٹ منصوبہ ختم، یورپ کی اسٹریٹجک خودمختاری کو بڑا دھچکا

    فرانس(بولونیوز)جرمنی اور فرانس نے مؤثر طور پر مشترکہ نئے فائٹر جیٹ نیکسٹ جنریشن فائٹر (NGF) کا منصوبہ ختم کر دیا ہے، جو FCAS/SCAF پروگرام کا مرکزی حصہ تھا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب دفاعی کمپنیاں Dassault Aviation اور Airbus کام کی تقسیم (Workshare) اور دانشورانہ ملکیت (IP) کے معاملات پر کسی اتفاقِ رائے تک نہ پہنچ سکیں۔

    ذرائع کے مطابق جرمن چانسلر اولاف شولز کے جانشین اور سی ڈی یو کے رہنما فریڈرک مرٹس سے توقع ہے کہ وہ اس فیصلے کی باضابطہ تصدیق اسی ہفتے ILA Berlin Air Show کے موقع پر کریں گے۔

    €100 ارب یورو سے زائد لاگت والا یہ فلیگ شپ منصوبہ ایک انسان بردار (Manned) فائٹر جیٹ کی تیاری کے لیے شروع کیا گیا تھا، جسے یورپ کی دفاعی خودمختاری اور امریکی انحصار کم کرنے کی علامت سمجھا جا رہا تھا۔ تاہم موجودہ صورتِ حال میں یہ منصوبہ عملاً ختم ہو چکا ہے، جو یورپ کی所谓 “اسٹریٹجک خودمختاری” کی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

    ماہرین کے مطابق جرمنی اور فرانس کے درمیان صنعتی مفادات، اختیارات کی تقسیم اور ٹیکنالوجی پر کنٹرول جیسے حساس معاملات نے منصوبے کو شدید اختلافات کی نذر کر دیا۔ اب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یورپی دفاعی تعاون کے اس خواب کو یا تو نئے سرے سے ڈیزائن کیا جائے گا یا متبادل راستے اختیار کیے جائیں گے، تاہم موجودہ شکل میں FCAS/SCAF کا مستقبل ختم سمجھا جا رہا ہے۔

  • الخرج میں شہریوں کے لیے سعودی سول ڈیفنس کی اہم حفاظتی ہدایات جاری

    ریاض(بولونیوز)ریاض میں سعودی محکمہ سول ڈیفنس نے الخرج گورنریٹ کے رہائشیوں، بشمول شہریوں اور غیر ملکی باشندوں، کے لیے اہم حفاظتی ہدایات جاری کر دی ہیں اور محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔

    محکمہ سول ڈیفنس کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیش نظر تمام افراد کو سرکاری ہدایات اور حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کرنا چاہیے تاکہ کسی بھی ہنگامی حالت میں جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

    ہدایات میں کہا گیا ہے کہ شہری گھروں کی بالکونیوں، چھتوں اور کھلی جگہوں پر غیر ضروری طور پر کھڑے ہونے سے گریز کریں اور احتیاطی تدابیر کو یقینی بنائیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عوام کسی بھی واقعے کی ویڈیوز یا تصاویر بنانے سے اجتناب کریں اور صرف مستند سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں۔

    سول ڈیفنس نے شہریوں اور غیر ملکی رہائشیوں پر زور دیا ہے کہ وہ افواہوں سے دور رہیں، متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر حکام سے رابطہ کریں۔

    حکام کے مطابق عوامی تعاون اور احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد سے ممکنہ خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکتا ہے۔

  • ماہشہر میں پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر مبینہ اسرائیلی حملہ، جزوی نقصان کی اطلاعات

    خوزستان(بولونیوز)ایران کے جنوب مغربی صوبے خوزستان میں واقع صنعتی شہر ماہشہر کے ایک اہم پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر مبینہ اسرائیلی حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    مقامی سیکیورٹی حکام نے تصدیق کی ہے کہ کارون پیٹروکیمیکل کمپنی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں پلانٹ کے بعض حصوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    حکام کے مطابق حملے میں ہونے والے نقصانات اور ممکنہ جانی نقصان سے متعلق تفصیلات ابھی تک مکمل طور پر سامنے نہیں آ سکیں اور مزید معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بھی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی فضائیہ نے ماہشہر میں واقع پیٹروکیمیکل کمپلیکس کے متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم فوجی بیان میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    ماہشہر کو ایران کے اہم صنعتی اور توانائی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے جہاں متعدد پیٹروکیمیکل تنصیبات قائم ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے حملے خطے کی صنعتی پیداوار اور توانائی کے شعبے پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

    ایرانی حکام کی جانب سے تاحال حملے میں ہونے والے نقصانات یا پیداوار پر اثرات کے بارے میں کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے جبکہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

  • مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: ایران، عراق اور شام نے فضائی حدود بند کر دیں، دمشق ایئرپورٹ پر پروازیں معطل

    تہران(بولونیوز)مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران متعدد ممالک نے فضائی حدود پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جبکہ ایران، عراق اور شام میں فضائی آپریشنز متاثر ہوئے ہیں۔

    غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق ایران نے اپنے مغربی علاقوں کی فضائی حدود غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی ہے، جبکہ عراق نے بھی سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    شامی حکام کے مطابق جنوبی فضائی حدود کو 12 گھنٹوں کے لیے بند کیا گیا ہے، جبکہ دارالحکومت دمشق بین الاقوامی ہوائی اڈہ پر تمام فضائی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔

    ادھر مقبوضہ بیت المقدس میں موجود امریکی سفارتخانہ نے اپنے عملے اور ان کے اہل خانہ کو سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تحمل کی اپیل کے باوجود خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور مختلف مقامات پر دھماکوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق تہران، تبریز اور اصفہان سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جبکہ کرج کے قریب بھی دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے مغربی اور وسطی ایران میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، اور یہ کارروائی ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کے جواب میں کی گئی۔

    علاقائی صورتحال میں تیزی سے تبدیلی کے باعث عالمی فضائی کمپنیوں اور مسافروں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی جا رہی ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات عالمی فضائی اور توانائی نظام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔