Category: انٹرنیشنل نیوز

  • سعودی عرب میں حضرت عمر فاروقؓ کے نام کا قدیم کتبہ دریافت، تاریخی روایات کو نئی تائید

    ریاض(بولونیوز) سعودی عرب کے Saudi Heritage Commission نے ایک اہم تاریخی دریافت کا اعلان کیا ہے۔ مدینہ منورہ کے نواحی علاقے میں جاری آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے دوران ایک پتھر ملا ہے جس پر اسلام کے دوسرے خلیفہ **Umar ibn al-Khattab**ؓ کا نام کندہ ہے۔

    ماہرین کے مطابق یہ پتھر “ابتدائی اسلامی آثار” کی تلاش کے منصوبے کے دوران دریافت ہوا۔ پتھر پر حجازی خط میں یہ عبارت درج ہے:
    “اللہ ولی عمر بن الخطاب فی الدنیا والآخرہ”
    جس کا مفہوم ہے: دنیا اور آخرت میں عمر بن الخطابؓ کا مددگار اللہ ہے۔

    یہ نوشتہ Medina کے اطراف واقع علاقوں—المہد، المویہیہ، الحذا اور السویرقیہ—کے قریب سے ملا۔ حکام کے مطابق دو تحقیقی سیزنز میں ان مقامات سے مجموعی طور پر 1,774 قدیم آثار دریافت ہوئے ہیں، جن میں یہ کتبہ سب سے زیادہ اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

    ماہرینِ آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اس حقیقت کی تائید کرتی ہے کہ صحابۂ کرامؓ سے عقیدت صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں تھی، بلکہ مکہ اور مدینہ سے دور تجارتی راستوں پر بھی لوگ عظیم اسلامی شخصیات سے اپنی محبت کا اظہار پتھروں پر نام کندہ کر کے کرتے تھے۔

    تاریخ دانوں کے مطابق یہ کتبہ ابتدائی اسلامی دور کی خطاطی، مذہبی رجحانات اور سماجی زندگی کو سمجھنے میں مدد دے گا، جبکہ مسلمانوں کے لیے یہ دریافت باعثِ فخر سمجھی جا رہی ہے۔

  • اپاچی ہیلی کاپٹر واقعہ، ایران کا سخت جواب دینے کا انتباہ

    واشنگٹن/تہران(بولونیوز)امریکی ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فورسز نے ایک امریکی AH-64 اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا، تاہم دونوں امریکی پائلٹ محفوظ رہے اور بعد ازاں ریسکیو کر لیے گئے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکہ کو اس واقعے کا جواب دینا ہوگا۔

    دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی تو اس کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ قومی خودمختاری کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

    تازہ ترین صورتحال:
    ایران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی امریکی فوجی اقدام کا جواب فوراً دیا جائے گا۔ خطے میں پہلے ہی ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی انتہائی بلند سطح پر موجود ہے، جس سے کسی بھی غلط فہمی کے نتیجے میں بڑے تصادم کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شامل ہے، اس لیے صورتحال کے مزید بگڑنے کی صورت میں عالمی تیل منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہِ راست اثرات پڑ سکتے ہیں۔

    ادھر امریکی حکام اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے جاری رہنے کی اطلاعات ہیں، تاہم دونوں جانب سخت بیانات نے خطے میں نئے تصادم کے خدشات کو مزید تقویت دے دی ہے۔

  • امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر ایرانی حدود میں داخل ہوا، سخت جواب دیں گے، ایرانی حکام

    تہران(بولونیوز)ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر بین الاقوامی پانیوں کے اوپر پرواز نہیں کر رہا تھا بلکہ ایران کی فضائی حدود میں داخل ہو چکا تھا۔ ایرانی مؤقف کے مطابق یہ واقعہ ایک امریکی حملے کے تناظر میں پیش آیا، جس پر تہران کی جانب سے فوری اور پُرزور ردِعمل کا عندیہ دیا گیا ہے۔

    ایرانی بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کرے گا اور اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو اس کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق ہیلی کاپٹر میں موجود فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

    دوسری جانب امریکی حکام کی طرف سے تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے دعوے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کی جانب سے بیانات میں شدت برقرار رہی تو خلیجی خطے میں عسکری اور سفارتی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاری کے جواب میں بین الاقوامی پابندیوں کا اعلان

    لندن/پیرس(بولونیوز)برطانیہ نے آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس اور ناروے کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مل کر مغربی کنارہ میں اسرائیلی آباد کاری سے منسلک افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    پانچوں ممالک نے منگل کے روز جاری مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند آباد کار اپنے حامیوں کی پشت پناہی سے فلسطینیوں پر حملے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر اسرائیل کی حکومت زمینی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات نہیں کرتی تو مزید کارروائی کی جا سکتی ہے۔

    ادھر فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے اعلان کیا کہ اسرائیلی وزیر خزانہ بتسلئیل سموٹرچ، آباد کار تنظیموں کے چار رہنماؤں اور تشدد میں ملوث 21 آباد کاروں کے فرانس میں داخلے پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔ پیرس کے مطابق یہ اقدامات برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ناروے کے ساتھ ہم آہنگی میں کیے گئے ہیں۔

    برطانوی حکومت کی جانب سے جاری نوٹس میں بتایا گیا کہ عالمی انسانی حقوق کے پابندیوں کے نظام کے تحت سات نئی درجہ بندیاں شامل کی گئی ہیں، جن میں مغربی کنارے کے آباد کاروں سے وابستہ افراد اور ادارے شامل ہیں۔ لندن نے پہلی بار برطانوی کمپنیوں کے لیے سرکاری رہنمائی بھی اپ ڈیٹ کی ہے تاکہ واضح طور پر ایسی اقتصادی یا مالی سرگرمیوں سے اجتناب کی ہدایت دی جا سکے جن کا تعلق اسرائیلی بستیوں سے ہو، جنہیں برطانیہ بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھتا ہے۔

    برطانیہ نے دو ریاستی حل کی حمایت برقرار رکھنے اور فلسطینی اتھارٹی اور غزہ کے لیے اضافی امداد کا اعلان بھی کیا، جس میں غزہ میں بارودی سرنگیں ہٹانے کے لیے 10 لاکھ پاؤنڈ اور 2026 کے دوران فلسطینی اتھارٹی کے لیے کم از کم ایک کروڑ پاؤنڈ کی مالی و تکنیکی معاونت شامل ہے۔

    دریں اثنا اقوام متحدہ کی ایک سرکاری تحقیقاتی کمیٹی نے رپورٹ کیا کہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے حملوں میں اسرائیلی حکام براہِ راست ملوث رہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کو تحفظ فراہم کیا۔ رپورٹ کے مطابق عدالتی اور قانون نافذ کرنے والے نظام کی کمزوریاں اور مالی و فوجی مدد ان حملوں کے لیے سازگار ماحول کا باعث بنیں۔

    یہ اقدامات مغربی کنارے میں آباد کاری کے مسلسل پھیلاؤ اور آباد کاروں کے تشدد میں اضافے کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔ واضح رہے کہ حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد سے مغربی کنارے میں تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا، اور فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق اس عرصے میں کم از کم 1080 فلسطینی اسرائیلی فوجیوں یا آباد کاروں کی فائرنگ سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔

    اس کے علاوہ اسرائیل نے حالیہ مہینوں میں مغربی کنارے میں 12 مربع کلومیٹر رقبے پر ہزاروں رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے E1 منصوبہ منظور کیا، جسے ماہرین مستقبل کی کسی بھی فلسطینی ریاست کے زمینی رابطے کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

  • ایران پر شدید تر حملے کے لیے تیار ہیں، اسرائیلی فوج کے سربراہ کا اعلان

    تل ابیب(بولونیوز)اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر اسرائیلی فوج ایران پر ایک اور “سخت اور گہرا حملہ” کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

    منگل کے روز شمالی علاقے کے دورے کے دوران ایال زامیر نے کہا کہ اگر حالات نے تقاضا کیا تو اسرائیلی فوج ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے ایرانی سرزمین کے اندر پہلے کیا گیا حملہ “مزید شدید اور وسیع تر کارروائی کے لیے پیش خیمہ” تھا۔
    زامیر کے مطابق اسرائیلی فورسز اپنے خلاف خطرات کو روکنے اور ایران کے اندر “تیزی اور طاقت” کے ساتھ حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

    دوسری جانب ایران نے کسی بھی نئے حملے کے خلاف سخت ردعمل کی وارننگ دیتے ہوئے اپنی مکمل تیاری کا اعلان کیا ہے۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی فوج کے بری دستوں کے کمانڈر علی جہانشاہی نے کہا کہ “ہمارے ہاتھ ٹریگر پر ہیں اور ہم کسی بھی ممکنہ خطرے کا فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔”
    انہوں نے مزید کہا کہ بری افواج ہائی الرٹ اور مکمل آپریشنل تیاری کی حالت میں ہیں اور آخری سانس تک ملک کے دفاع کے لیے تیار رہیں گی۔

    یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ تہران کے ساتھ معاہدہ اپنے حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ منگل کے روز جان ایف کینیڈی ہوائی اڈا پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ “چند دنوں میں ایران کے ساتھ معاہدے کے بارے میں واضح تصور سامنے آ سکتا ہے۔” انہوں نے کہا کہ ایرانی بندرگاہوں پر اقتصادی دباؤ عسکری آپشن سے بہتر ہے، جبکہ سابقہ جوہری معاہدے کو ایک بڑی ناکامی قرار دیا۔

    یاد رہے کہ اسرائیل نے پیر کے روز اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار ایران میں اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ یہ کارروائی ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغے جانے کے بعد کی گئی، جسے تہران نے بیروت کے جنوبی مضافات میں اسرائیلی فضائی حملوں کا جواب قرار دیا تھا۔ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فائرنگ کا تبادلہ عارضی طور پر رک گیا، تاہم دونوں فریقین نے مستقبل میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا امکان برقرار رکھا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اسرائیل اور ایران کے درمیان اپریل کے بعد یہ سب سے شدید براہِ راست محاذ آرائی ہے، جس نے واشنگٹن کی جانب سے تہران کے ساتھ جاری سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

  • روس میں گیس پائپ لائن کے زوردار دھماکے، آسمان کو چھوتا خوفناک فائر بال

    کیزیلی یورت(بولونیوز)روس کےجنوبی علاقے داغستان کے شہر کیزیلی یورت میں ایک مرکزی گیس پائپ لائن میں زبردست دھماکوں کے بعد آگ کا دیوہیکل گولا (Massive Fireball) بلند ہوا، جس نے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔

    ابتدائی رپورٹس کے مطابق مقامی حکام نے بتایا ہے کہ شہر میں واقع مین گیس ٹرانسمیشن پائپ لائن میں کم از کم تین دھماکے ہوئے، جن کے فوراً بعد شدید آگ بھڑک اٹھی۔ دھماکوں کے باعث قریبی صنعتی زون متاثر ہوا جبکہ فائر بال کو دور دور تک دیکھا گیا۔

    واقعے کی ابتدائی تفصیلات:

    کیزیلی یورت شہر میں گیس پائپ لائن پر متعدد دھماکے
    صنعتی علاقے میں شدید آگ بھڑک اٹھی
    ممکنہ طور پر گیس ڈسٹری بیوشن اسٹیشن متاثر
    آگ کا گولا کئی کلومیٹر دور سے نظر آیا
    تاحال کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی

    حکام کا ردِعمل:
    ایمرجنسی سروسز اور فائر بریگیڈ نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور آگ بجھانے کا عمل جاری ہے۔ حکام کے مطابق دھماکوں کی اصل وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    اہم پہلو:
    ماہرین کے مطابق روس میں گیس اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر اس نوعیت کے واقعات پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں، جس سے صنعتی سیفٹی اور توانائی سیکیورٹی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور مزید تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گی۔

  • اسرائیلی فضائی حملہ، گاڑی کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا

    صور(بولونیوز)جنوبی لبنان کے شہر صور میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ پیر کے روز کیا گیا۔ لبنانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیل نے ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کی دھمکیوں کے باوجود لبنان میں اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی حملے میں جنوبی لبنان میں ایک کار کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ واقعے کے وقت گاڑی شہر صور میں ہلالِ احمر کے دفتر کے قریب سے گزر رہی تھی۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے لبنان سے داغے گئے تین میزائلوں کو راستے میں ہی روک لیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے لبنان۔اسرائیل سرحد کے قریب میزائل دفاعی کارروائی کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔

    اے ایف پی سے وابستہ صحافی کے مطابق آسمان میں تین دھماکے دیکھے گئے، جبکہ اس سے قبل اسرائیلی علاقوں میں خطرے کی اطلاع دینے والے سائرن بھی بجائے گئے، جس کے بعد شہریوں کو بنکروں میں پناہ لینے کی ہدایت کی گئی۔

    اسرائیلی فوج نے مزید بتایا کہ لبنان سے فائر کیے گئے تین میزائلوں میں سے بعض کو سرحد عبور کرنے سے قبل ہی تباہ کر دیا گیا، جبکہ ایک میزائل اسرائیلی فوجیوں کے قریب گرا۔ تاہم اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔

    ادھر حملے کے ایک روز بعد شہر صور میں کارکن ملبہ صاف کرتے دکھائی دیے، جیسا کہ 8 جون 2026 کو رائٹرز اور اے ایف پی کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

  • یورپی یونین نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محدود،ایرانی شخصیات پرپابندیاں عائد

    برسلز(بولونیوز)یورپی یونین نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت متاثر کرنے کے الزام پر ایران سے تعلق رکھنے والے دو افراد اور اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نیوی کے ایک یونٹ پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    یورپی یونین کے مطابق ان افراد اور ادارے کی سرگرمیوں سے آبنائے ہرمز میں عالمی بحری تجارت کو مشکلات کا سامنا ہوا، جو بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔

    پابندیوں کا نشانہ بننے والی شخصیات:

    محمد اکبرزادہ — IRGC نیوی کے سیاسی امور کے نائب کمانڈر
    حمید حسینی — ایران کی آئل، گیس اور پیٹروکیمیکل برآمد کنندگان یونین کے نمائندہ

    آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے تقریباً 20 فیصد عالمی تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔

    یورپی حکام کے مطابق یہ پابندیاں پہلی بار نئے “Freedom of Navigation” فریم ورک کے تحت نافذ کی گئی ہیں، اور خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مستقبل میں سمندری راستوں کی آزادی کو خطرہ لاحق ہوا تو مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

    ایران کا ردِعمل:
    ایرانی حکام نے یورپی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں “سیاسی اور دوہرے معیار” پر مبنی قرار دیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی اور خودمختاری کے تحفظ کا حق اس کے پاس موجود ہے۔

    ممکنہ اثرات:

    عالمی تیل کی سپلائی پر دباؤ برقرار رہنے کا خدشہ
    یورپ اور ایران کے تعلقات میں مزید کشیدگی
    آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری سرگرمیوں کی نگرانی میں اضافہ

  • ایئرپورٹ پر طوفانی ہواؤں کے باعث سیڑھیاں طیاروں سے ٹکرا گئیں، تین جہاز متاثر

    نئی دہلی(بولونیوز)نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طوفانی ہواؤں کے باعث زمینی سہولیات کو نقصان پہنچا، جہاں ہوائی جہازوں پر چڑھنے اور اترنے کے لیے استعمال ہونے والی سیڑھیاں بے قابو ہو کر طیاروں سے ٹکرا گئیں۔

    ایئرپورٹ حکام کے مطابق اس واقعے میں کم از کم تین طیارے متاثر ہوئے، تاہم خوش قسمتی سے کسی مسافر یا عملے کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ واقعے کے فوراً بعد متاثرہ طیاروں کا معائنہ کیا گیا اور حفاظتی اقدامات کے تحت زمینی آپریشن عارضی طور پر محدود کر دیا گیا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ خراب موسم کے پیشِ نظر اضافی حفاظتی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں، جبکہ متاثرہ طیاروں کی مرمت اور پروازوں کے شیڈول پر نظرِ ثانی کا عمل جاری ہے۔

  • روسی فوج کے اعلیٰ افسر کو کار بم دھماکے میں قتل کر دیا گیا

    ماسکو(بولونیوز)ماسکو میں روسی فوج کے ایک اعلیٰ افسر کو کار بم دھماکے میں قتل کر دیا گیا۔روسی اعلیٰ تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق یہ واقعہ آج صبح مقامی وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے پانچ بجے پیش آیا۔

    تحقیقاتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت گاڑی کا ڈرائیور شدید زخمی ہوا اور دھماکے کی جگہ ہی دم توڑ گیا۔ واقعے کے بعد سکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ دھماکے کی نوعیت اور محرکات جاننے کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات جاری ہیں اور واقعے سے متعلق مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔