Author: Nadeem Ahmed Jamal

  • انسانی حقوق کے محافظ یا رسمی ادارے؟ — پاکستان میں سرکاری انسانی حقوق کے اداروں کی حقیقت

    پاکستان کا آئین ہر شہری کو مساوی حقوق اور تحفظ فراہم کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب یہ حقوق پامال ہوں — تو انصاف کے متلاشی شہری کہاں جائیں؟ اسی مقصد کے لیے وفاق اور صوبائی سطح پر **انسانی حقوق کے سرکاری ادارے** قائم کیے گئے ہیں، جن کا بنیادی کام مظلوموں کو سہارا دینا اور انسانی وقار کی بحالی کو یقینی بنانا ہے۔

    وفاقی سطح — وزارتِ انسانی حقوق (Ministry of Human Rights)

    اسلام آباد میں موجود **وزارتِ انسانی حقوق** پورے ملک میں انسانی حقوق کے تحفظ کی مرکزی ذمہ دار ہے۔
    یہ وزارت مظلوموں کو قانونی مدد، مالی امداد، اور شکایات کے ازالے کا نظام فراہم کرتی ہے۔

    رابطہ کا طریقہ:
    متاثرہ افراد *ہیومن رائٹس کمپلینٹ سیل* یا وزارت کی ویب سائٹ پر آن لائن شکایت درج کر سکتے ہیں۔
    مزید براہِ راست رابطے کے لیے **051-9216620** پر کال کی جا سکتی ہے۔

    امداد کا معیار:

    * متاثرہ شخص کا کیس انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق ہو۔
    * تصدیق کے بعد کیس **ریلیف فنڈ** کو بھیجا جاتا ہے۔
    * مالی امداد **PKR 50,000 سے 500,000** روپے تک ہو سکتی ہے (نوعیت کے لحاظ سے)۔

    وفاقی بجٹ:
    سال **2024-25** میں وزارتِ انسانی حقوق کے لیے تقریباً **PKR 1.3 billion** مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے ایک بڑا حصہ *Human Rights Relief Fund* کے لیے مخصوص ہے۔

    پنجاب — پنجاب کمیشن برائے انسانی حقوق (PHRC)

    **پنجاب کمیشن برائے انسانی حقوق** 2012 میں قائم ہوا، جس کا مقصد صوبے میں انسانی حقوق کی نگرانی اور متاثرہ افراد کو فوری مدد فراہم کرنا ہے۔

    **رابطہ کا طریقہ:**
    لاہور دفتر میں ذاتی طور پر درخواست دی جا سکتی ہے یا ویب سائٹ کے ذریعے شکایت درج کی جا سکتی ہے۔
    فون نمبر: **042-99211035**

    **مدد کی نوعیت:**

    * متاثرہ کو **قانونی معاونت** اور **نفسیاتی مشاورت** فراہم کی جاتی ہے۔
    * سنگین کیسز میں مالی امداد **PKR 25,000 سے 300,000** روپے تک دی جاتی ہے۔

    **بجٹ:**
    سالانہ بجٹ **PKR 650 million** ہے، مگر عمل درآمد کے فقدان اور سست بیوروکریسی اکثر اس نظام کو غیر مؤثر بنا دیتی ہے۔

    سندھ — سندھ کمیشن برائے انسانی حقوق (SHRC)
    سندھ کمیشن برائے انسانی حقوق (Sindh Human Rights Commission) 2013 میں سندھ ہیومن رائٹس ایکٹ کے تحت قائم ہوا۔
    یہ صوبے کے تمام اضلاع میں انسانی حقوق کی نگرانی، تحقیقات، اور مظلوموں کو قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

    رابطہ کا طریقہ: کراچی میں مرکزی دفتر موجود ہے، جبکہ حیدرآباد، لاڑکانہ، اور سکھر میں ریجنل دفاتر بھی قائم ہیں۔ شکایت تحریری درخواست، ای میل، یا آن لائن فارم کے ذریعے دی جا سکتی ہے۔
    فون نمبر: 021-99201277

    امداد اور معیار: کمیشن انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی نوعیت کے مطابق کیس درج کرتا ہے۔ متاثرہ کو قانونی معاونت اور بعض کیسز میں PKR 20,000 سے 250,000 روپے تک مالی امداد** فراہم کی جاتی ہے۔ خواتین، اقلیتوں، اور بچوں کے کیسز میں فوری کارروائی کو ترجیح دی جاتی ہے۔

    بجٹ: مالی سال 2024-25 میں سندھ حکومت نے PKR 720 million مختص کیے ہیں، جن میں سے 30 فیصد عوامی شکایات کے ازالے کے لیے مخصوص ہے۔

    خیبرپختونخوا — ہیومن رائٹس ڈائریکٹوریٹ
    **خیبرپختونخوا ہیومن رائٹس ڈائریکٹوریٹ** پشاور میں قائم ہے۔ یہ ادارہ بنیادی طور پر خواتین، بچوں، اقلیتوں اور مزدوروں کے کیسز پر توجہ دیتا ہے۔

    **رابطہ کا طریقہ:**
    شہری *District Complaint Committees* کے ذریعے یا آن لائن فارم کے ذریعے درخواست جمع کر سکتے ہیں۔
    فون نمبر: **091-9210297**

    **امداد:**

    * متاثرین کو **PKR 20,000 سے 200,000** روپے تک امداد دی جاتی ہے۔
    * سنگین نوعیت کے کیسز وفاقی وزارت کو بھی ریفر کیے جاتے ہیں۔

    **بجٹ:**
    سال **2024-25** میں تقریباً **PKR 400 million** مختص کیا گیا ہے۔

    بلوچستان: **ڈائریکٹوریٹ آف ہیومن رائٹس**

    بلوچستان حکومت نے حالیہ برسوں میں انسانی حقوق کے فروغ کے لیے **ڈائریکٹوریٹ آف ہیومن رائٹس** تشکیل دیا ہے۔
    یہ ادارہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں کام کرنے والی مقامی تنظیموں کے ساتھ مل کر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹ تیار کرتا ہے۔

    **رابطہ کا طریقہ:**
    کوئٹہ اور خضدار دفاتر میں تحریری درخواست دی جا سکتی ہے یا متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے ذریعے کیس ریفر کرایا جا سکتا ہے۔

    **امداد:**

    * متاثرہ کو مالی مدد **PKR 15,000 سے 150,000** روپے تک۔
    * قانونی مدد اور پولیس انکوائری میں معاونت بھی فراہم کی جاتی ہے۔

    **بجٹ:**
    بلوچستان حکومت نے رواں مالی سال کے لیے تقریباً **PKR 300 million** مختص کیا ہے۔

    گلگت بلتستان — ہیومن رائٹس سیل

    گلگت بلتستان میں وفاقی وزارت کے تحت **ہیومن رائٹس سیل** کام کر رہا ہے۔
    یہ ادارہ خاص طور پر خواتین، مذہبی اقلیتوں، اور بے گھر افراد کے مسائل پر توجہ دیتا ہے۔

    **رابطہ کا طریقہ:**
    جی بی سیکریٹریٹ کے ذریعے تحریری درخواست یا ای میل کے ذریعے شکایت درج کی جا سکتی ہے۔

    **امداد:**

    * مالی امداد **PKR 10,000 سے 100,000** روپے تک۔
    * متاثرین کو وفاقی سطح پر مزید قانونی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

    **بجٹ:**
    وفاقی حکومت کی جانب سے **PKR 120 million** مختص کیے گئے ہیں۔

    تجزیہ — ادارے یا رسمی دکھاوا؟

    یہ تمام ادارے بظاہر انصاف کی فراہمی کے ضامن ہیں، مگر عملی سطح پر متاثرین کو درپیش مشکلات کم نہیں۔ کئی کیسزافسرشاہی رکاوٹوں میں اٹکے رہتے ہیں، اور اکثر متاثرین کو مالی امداد ملنے میں **طویل تاخیر** کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    یہ ادارے اگر واقعی انسانی حقوق کے محافظ بننا چاہتے ہیں، تو انہیں **شفافیت، فوری ردعمل، اور عوامی اعتماد** کی بنیاد پر اپنا نظام بہتر بنانا ہوگا۔ انسانی حقوق کے ادارے کسی ملک کے ضمیر کی علامت ہوتے ہیں۔ اگر وہ محض رسمی بن جائیں، تو ظلم کے شکار افراد کے لیے کوئی پناہ باقی نہیں رہتی۔ پاکستان کو ضرورت ہے ایسے نظام کی — جہاں **انسان کا حق، حکومت کی مہربانی نہیں بلکہ اس کا بنیادی حق** سمجھا جائے۔

  • 27 اکتوبر: تاریخ کا سیاہ دن کیوں؟ — انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی داستان

    27 اکتوبر 1947 جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ اسی روز بھارتی افواج نے ریاست جموں و کشمیر پر غیر قانونی طور پر قبضہ کر لیا۔
    یہ قبضہ نہ صرف اقوامِ متحدہ کے اصولوں بلکہ انسانی حقوق کے عالمی منشور کی صریح خلاف ورزی تھا۔
    ریاست کشمیر ایک مسلم اکثریتی علاقہ تھی جس کے عوام نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہش ظاہر کی تھی۔ تاہم، مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت سے فوجی مدد کے بدلے میں غیر قانونی الحاق کا معاہدہ کیا، جسے آج تک کشمیری عوام اور عالمی ماہرین تسلیم نہیں کرتے۔

    بھارتی فوجی تسلط اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں

    آج 78 سال بعد بھی مقبوضہ کشمیر دنیا کے سب سے زیادہ فوجی زیرِ تسلط علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ بھارت نے وادی میں تقریباً 10 لاکھ فوجی تعینات کر رکھے ہیں — یعنی ہر آٹھ شہریوں پر ایک بھارتی سپاہی۔

    ہیومن رائٹس میڈیا نیٹ ورک کی تحقیق کے مطابق:
    اب تک دو لاکھ سے زائد کشمیری شہید کیے جا چکے ہیں۔ ایک لاکھ سے زیادہ املاک کو نذرِ آتش کیا گیا۔ ایک لاکھ ستر ہزار سے زائد گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ ہزاروں خواتین بھارتی افواج کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہوئیں۔ ایک لاکھ سے زائد بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار محض اعداد نہیں بلکہ انسانی المیے کی وہ تصویر ہیں جو جدید دور میں بھی عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے میں ناکام رہی ہے۔

    آرٹیکل 370 کی منسوخی — خودمختاری کی آخری سانس

    5 اگست 2019 کو بھارت نے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔ اس اقدام کے بعد مقبوضہ وادی میں کرفیو، گرفتاریوں، اور انٹرنیٹ بندش کا طویل سلسلہ شروع ہوا۔ یہ بندش دنیا کی تاریخ میں سب سے طویل انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن قرار دی جا چکی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، اور جینوسائیڈ واچ جیسے اداروں نے بارہا خبردار کیا ہے کہ بھارت نسل کشی، مذہبی امتیاز، اور جبری آبادیاتی تبدیلی کی پالیسی پر گامزن ہے۔

    Youtube - Human Rights Media Network
    Youtube – Human Rights Media Network

    عالمی برادری کی خاموشی — انصاف کا قتل
    اقوامِ متحدہ اب تک پانچ قراردادیں منظور کر چکی ہے جن میں کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے پر زور دیا گیا، مگر کسی ایک پر بھی عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ عالمی طاقتوں کی سیاسی مصلحتیں اور معاشی مفادات انسانی حقوق پر غالب آچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی نسلیں اب بھی اپنے بنیادی حق — آزادی — کے لیے قربانیاں دے رہی ہیں۔

    اس دن کے موقع پر اگر دنیا میں پائیدار امن قائم رکھنا ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ

    1. اقوامِ متحدہ فوری طور پر ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے جو بھارتی مظالم کی تحقیقات کرے۔
    2. بھارتی حکومت سے تمام فوجی قوانین ختم کر کے عام شہریوں کے انسانی حقوق بحال کیے جائیں۔
    3. بین الاقوامی میڈیا کو کشمیر تک رسائی دی جائے تاکہ سچائی دنیا کے سامنے آسکے۔
    4. حقِ خودارادیت پر رائے شماری اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں کرائی جائے۔

    اور آخر لفظوں میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ محض زمین کا نہیں بلکہ انسانی ضمیر اور انصاف کا امتحان ہے۔
    27 اکتوبر کا یومِ سیاہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ طاقت کے بل پر قبضہ ممکن تو ہے، مگر دلوں پر حکومت نہیں۔ کشمیری عوام کی جدوجہد اس عزم کی علامت ہے کہ انسانی آزادی کو کبھی دبایا نہیں جا سکتا۔

  • کرپشن سے نہیں‌ لگن سے کھرب پتی بننے والا پاکستانی— ریحان جلیل

    کراچی کے نوجوان ریحان جلیل کی اے آئی سیکیورٹی کمپنی Securiti AI کو امریکی کمپنی Veeam Software نے 1.7 ارب ڈالر میں خرید لیا۔ خریداری کے بعد ریحان جلیل Veeam کے صدر برائے سیکیورٹی و اے آئی کا عہدہ سنبھالیں گے — ریحان جلیل کراچی کے معیاری فاؤنڈیشن پر آمادہ نوجوان نہیں بلکہ ایک محنتی سپاہی ہیں جنہوں نے اپنے یقین، جذبے اور جدت کے علاوہ کسی خاندانی سہولت یا سرکاری پشت پناہی پر انحصار نہیں کیا۔ وہ پاکستان کے شہر کراچی میں واقع NED University of Engineering & Technology سے اپنی بیچلرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد بیرونِ ملک تعلیم اور تجربے کے سفر پر روانہ ہوئے۔ انہوں نے اِس کے بعد امریکہ کے Purdue University سے ماسٹرز اور Harvard Business School کے ایڈوانس مینجمنٹ پروگرام سے فارغ التحصیل ہو کر ٹیکنالوجی کے میدان میں خود کو منوایا۔ حقیقت یہ یے کہ پاکستان میں وہ ماحول غالب ہے جہاں میرٹ کی قدر کم ہوتی جا رہی ہے، کرپشن روزمرہ کی کہانی بنتی جا رہی ہے، اور نوجوان ٹیلنٹ کو سرکاری سرپرستی تو کم، توجہ بھی کم ملتی ہے۔ ایسے وقت میں جب معاشرتی نظام خود ٹیلنٹ کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہو، ریحان نے عزم کے ساتھ کہا: “میں دکھاؤں گا کہ پاکستان کا نوجوان، پاکستان کا ٹیلنٹ عالمی سطح پر مقام بنا سکتا ہے۔” ان کی پہلی بڑی منزل تھی وائیکورس — ایک کمپنی جو انہوں نے قائم کی، جسے بعد میں امریکی کمپنی Tellabs نے خرید لیا۔ پھر انہوں نے Elastica نامی کلاؤڈ سیکیورٹی فرم بنائی، جسے امریکی کمپنی Blue Coat Systems نے تقریباً 280 ملین ڈالر میں خریدا۔ پھر اُن کی کمپنی Securiti AI نے جنم لیا — ایک ایسی ٹیکنالوجی کمپنی جو “ڈیٹا کمانڈ سینٹر” کی بنیاد پر کام کرتی ہے، یعنی اداروں کے حساس ڈیٹا، کلاؤڈ سروسز، SaaS ایپس اور مصنوعی ذہانت کے نظاموں میں ڈیٹا کی حفاظت، انضباط اور گورننس یقینی بناتی ہے۔ اکتوبر2025 میں امریکی کمپنی Veeam Software نے اس کمپنی کو تقریباً **1.7 ارب ڈالر** میں خریدا — ایک تاریخی کامیابی، جو پاکستانی ٹیک ماحول کے لیے روشن دن کا نشاں ہے۔ اس معاہدے کے بعد ریحان جلیل کو ویم میں صدر برائے سیکیورٹی و اے آئی کا عہدہ ملے گا — یعنی وہ نہ صرف کمپنی کے بانی ہیں بلکہ اب عالمی سطح پر ڈیٹا و اے آئی سیکیورٹی کے رہنما بن گئے ہیں۔ جہاں سے اٹھے خواب وہیں بآلاخر بنتی ہے حقیقت، یعنی ریحان کی کہانی دراصل پاکستانی نوجوانوں کے لیے ایک ایسا پیغام ہے کہ اگر آپ نے کبھی سوچا کہ کیوں میرٹ کم ہے، کیوں ملازمتیں تعلقات یا پیسوں کی بنیاد پر ملتی ہیں، اور کرپشن حکمرانی بن چکی ہے — تو ریحان جلیل ہمیں ایک راستہ دکھاتے ہیں۔

    Youtube - Human Rights Media Network
    Youtube – Human Rights Media Network

    * پہلا راستہ: **خواب دیکھو، ہمت کرو۔** ریحان نے کراچی سے اپنے سفر کا آغاز کیا، عالمی سطح پر جانے کا خواب دیکھا، اور اس کی تلاش میں نکلے۔

    * دوسرا راستہ: **عمل کرو، محنت کرو۔** وہ تعلیمی سہولتوں کے منتظر نہیں رہے، نہ حکومت کا انتظار کیا، نہ سلسلہ دراز کیا — انہوں نے خود قدم اٹھایا، علم حاصل کیا، کام کیا، اور جدت کی راہ پر چل پڑے۔ تیسرا راستہ: **جذبہ اور مستقل مزاجی۔** مشکلات، رکاوٹیں، ماحول کے اندر بغاوت — یہ سب آپ کا حصہ ہو سکتے ہیں، لیکن اگر عزم مضبوط ہو تو راستہ بنتا جاتا ہے۔ * چوتھا راستہ: **ملک کا نام روشن کرو۔** اپنی کامیابی صرف ذاتی نہیں بناؤ — اسے ملک کی پہچان بناؤ۔ ریحان نے یہ کر دکھایا: وہ پاکستان کے نوجوان ہیں، پاکستان کے ٹیلنٹ کی علامت ہیں۔ پانچواں راستہ: **آگے بڑھو، رہنما بنو۔** جب آپ کامیاب ہوں، تو خود ہی روشنائی بنیں — دوسرے نوجوانوں کو مثال بنائیں، ماحول بدلنے کی کوشش کریں، میرٹ کی بات کریں، کرپشن کے خلاف، ٹیلنٹ کی حمایت میں۔ یہ کہانی صرف ایک بزنس سنگ میل کی نہیں، بلکہ **امید، قابلیت، عزت اور عزیمت** کی ہے۔ ایک نوجوان نے کہا: “میرے ملک میں اگر راستے کم ہیں، تو میں راستہ خود بناؤں گا” — اور اس نے ایسا ہی کر دکھایا، اگر آپ کے اندر جنون ہے، اگر آپ نے سوچا ہے کہ آپ نے کچھ بننا ہے، دنیا کو کچھ کر دکھانا ہے تو یہ وقت ہے اپنے اندر کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کا۔ ریحان جلیل نے ثابت کیا ہے کہ **پاکستان کا نوجوان، پاکستان کا ٹیلنٹ، دنیا کے سامنے کم نہیں۔ اٹھو، محنت کرو، حکمت اختیار کرو، اور اپنے ملک کو وہ مقام دو جو اس کا حق ہے۔

  • ای چالان آیا، کیا موت رُک پائے گی؟

    کراچی… وہ شہر جو کبھی روشنیوں کا مرکز کہلاتا تھا، آج سڑکوں پر موت کے سائے لیے کھڑا ہے۔
    جنوری سے اکتوبر 2025 تک، صرف دس ماہ میں 720 شہری ٹریفک حادثات میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 10 ہزار سے زائد زخمی ہوئے، گزشتہ سال 771 ہلاکتوں کے بعد یہ اعداد اب خطرے کی گھنٹی بن چکے ہیں۔ ہر دن، اوسطاً دو شہری گھر سے نکلتے ہیں مگر واپس نہیں آتے — کیونکہ کراچی کی سڑکیں اب زندگی نہیں، حادثہ دینے لگی ہیں۔ ان حادثات کی سب سے بڑی قیمت وہ غریب طبقہ ادا کر رہا ہے جو موٹر سائیکل یا رکشے پر سفر کرتا ہے۔ ہیلمٹ کے بغیر، رفتار کی دوڑ میں، وہ اپنی زندگی کی بازی لگا دیتے ہیں۔ رکشہ ڈرائیور تین کی جگہ پانچ مسافر بٹھا لیتے ہیں، اور اکثر ان کی گاڑیاں تکنیکی طور پر ناقص ہوتی ہیں۔ سگنل توڑنا، غلط سائیڈ لینا، رونگ سائیڈ پر گاڑی چلانا یا موبائل فون پر بات کرتے ہوئے ڈرائیونگ کرنا اب عام بات ہے۔ نتیجہ — ایک لمحے کی غلطی، اور زندگی ختم۔ بھاری گاڑیوں کی صورتحال بھی کم خطرناک نہیں۔ ٹرک، ٹریلر، واٹر ٹینکر اور ڈمپر شہر کے رہائشی علاقوں میں دن رات دوڑتے ہیں۔ کئی حادثات میں یہ گاڑیاں چھوٹی موٹر سائیکلوں اور رکشوں کو کچل چکی ہیں۔ ڈرائیور اکثر تربیت یافتہ نہیں، نیند پوری نہیں کرتے، اور بعض اوقات نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کرتے ہیں۔ لیکن قانون خاموش ہے — اور حکومت کا ردِعمل اکثر حادثے کے بعد کی رسمی کارروائی تک محدود رہتا ہے۔ شہر کی سڑکیں خود بھی حادثات کی بڑی وجہ ہیں۔ ٹوٹے ہوئے فٹ پاتھ، خراب سگنلز، غائب لین مارکنگ، اور پیدل پار کرنے کے لیے کوئی سہولت نہیں۔ ایمرجنسی کے وقت ایمبولینسیں ٹریفک میں پھنسی رہتی ہیں۔ حادثے کے بعد انصاف کے بجائے کاغذی کارروائی شروع ہو جاتی ہے۔

    Youtube - Human Rights Media Network
    Youtube – Human Rights Media Network

    یوں لگتا ہے جیسے کراچی کی سڑکوں پر انسان کی نہیں، رفتار کی حکومت ہے۔ اب حکومتِ سندھ نے ایک نیا قدم اٹھایا ہے — **ای چالان سسٹم**۔

    یہ نظام شہر میں جدید کیمروں کے ذریعے خودکار طور پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ریکارڈ کرتا ہے، اور ڈرائیور کے گھر تک چالان بھیج دیتا ہے۔پہلے مرحلے میں کراچی کے مختلف مقامات پر سینکڑوں جدید کیمرے نصب کیے گئے ہیں جو رفتار، سگنل توڑنے، اور لین کی خلاف ورزی کو ریکارڈ کرتے ہیں۔ یہ نظام اگر مکمل شفافیت اور سختی سے نافذ رہا تو ماہرین کے مطابق ٹریفک حادثات میں **کم از کم 25 سے 30 فیصد** کمی ممکن ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ڈرائیور کو یہ احساس ہوگا کہ اب خلاف ورزی چھپ نہیں سکتی۔ نہ رشوت، نہ سفارش — کیمرہ ہر چیز محفوظ کر لیتا ہے۔ ای چالان سے پولیس پر دباؤ بھی کم ہوگا، کیونکہ اب نظام خود بخود فیصلہ کرے گا۔ تاہم یہ سسٹم تب ہی کامیاب ہوگا جب حکومت اسے محض نمائشی منصوبہ نہیں بلکہ حقیقی اصلاح کے طور پر اپنائے۔ شہریوں کے رویّے میں تبدیلی بھی لازمی ہے۔ اگر موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ نہ پہنے، یا رکشہ ڈرائیور اپنی جان اور دوسروں کی زندگی خطرے میں ڈالے، تو کوئی ای چالان بھی جانیں نہیں بچا سکتا۔ اصل تبدیلی تب آئے گی جب حکومت، پولیس اور عوام — تینوں اپنی ذمہ داری نبھائیں۔ کراچی کو صرف نئے قوانین نہیں، ایک نئی سوچ کی ضرورت ہے، کہ سڑک رفتار دکھانے کی نہیں، زندگی محفوظ رکھنے کی جگہ ہے۔ جب یہ سوچ بدل جائے گی، تب ہی کراچی کی سڑکیں موت کا راستہ نہیں بلکہ زندگی کا سفر بن سکیں گی۔

  • نیویارک کا نیا سویرا — ظہران ممدانی کی کہانی

    آج نیویارک کی فضاؤں میں ایک نیا باب لکھا گیا ہے — ایک ایسا باب جو صرف سیاست نہیں، بلکہ **ایمان، محنت اور امید** کی جیت ہے۔

    جی ہاں —**ظُہران ممدانی** — وہ نوجوان مسلمان، جسے اب نیویارک شہر کا نیا میئر منتخب کر لیا گیا ہے۔ یہ وہی شہر ہے جس نے صدیوں سے تارکین وطن کو گلے لگایا — اور اب ایک **تارکِ وطن مسلمان** اس کا میئر بن گیا ہے! ظہران ممدانی کے نیویارک کا مئیر بننے کے بعد لوگوں میں ان کے بارے میں جاننے کی جستجو اور شدید ہو گئی ہے، ممدانی کی ایک بہت بڑی شناخت ان کی بھارتی نژاد ماں ہیں، جنہیں کروڑوں فلم بین بہت اچھی طرح جانتے ہیں، آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں ظہران ممدانی کون ہیں. ظہران ممدانی کا تعلق کسی امیر سیاسی خاندان سے نہیں، بلکہ ایک ایسے گھر سے ہے جہاں **علم، فن اور انسانیت** سب سے بڑی دولت تھی۔
    وہ **یوگنڈا کے شہر کمپالا** میں پیدا ہوئے، اور صرف **سات سال کی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ نیویارک** منتقل ہو گئے۔ ان کے والد **پروفیسر محمود ممدانی** — یوگنڈا کے مشہور اسکالر، جو افریقہ اور ایشیا کی سماجی تاریخ کے ماہر ہیں۔ اور ان کی والدہ **میرا نائر** — ایک ایسی فلم ساز جنہوں نے “سلام بمبے” اور “مون سون ویڈنگ” جیسی فلموں سے دنیا کو بھارت کے کلچر، جذبات اور انسانی کہانیاں دکھائیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے **علم اور فن** دونوں کا خون ظہران کی رگوں میں دوڑتا ہے۔ ظہران نے اپنی تعلیم **Bowdoin College (امریکہ)** سے حاصل کی۔ یہاں انہوں نے سیاست، سماجیات اور معاشرتی انصاف پر گہری تحقیق کی۔ کالج کے دنوں میں ہی وہ انسانی حقوق، نسل پرستی کے خاتمے، اور تارکین وطن کے حقوق کے لیے سرگرم ہو گئے تھے۔ وہ ہمیشہ کہتے ہیں.

    Youtube - Human Rights Media Network
    Youtube – Human Rights Media Network

    “میں نے اپنی ماں سے کہانی سننا، اور اپنے باپ سے انصاف سمجھنا سیکھا ہے۔”

    ظہران نے اپنی سیاست کی شروعات “نیویارک اسٹیٹ اسمبلی” سے کی، جہاں انہوں نے عوامی خدمت، رہائشی مسائل، اور مزدور طبقے کے حقوق پر بے مثال کام کیا۔ پھر آہستہ آہستہ ان کی پہچان بڑھی۔ لوگوں نے کہا — “یہ سیاستدان نہیں، عوام کا بیٹا ہے۔” انہوں نے بڑے سرمایہ داروں کے اشتہارات کے بجائے عام عوام کی آواز کو اپنی طاقت بنایا۔ **یہی اخلاص، یہی سچائی، آج انہیں نیویارک کا میئر لے آئی۔ نتائج کا اعلان ہوا تو ہال خوشی سے گونج اٹھا۔ **ظہران ممدانی نے 56 فیصد ووٹوں کے ساتھ فتح حاصل کی۔** وہ نہ صرف نیویارک کے سب سے کم عمر میئر ہیں —بلکہ **پہلے جنوبی ایشیائی ورثے والے** اور**افریقہ میں پیدا ہونے والے پہلے میئر** بھی ہیں۔ یہ تاریخ کا وہ لمحہ تھا جب نیویارک کے مسلمان، بھارتی، بنگلہ دیشی، اور پاکستانی نژاد شہری ایک آواز میں بول اُٹھے — **“ہم سب ظہران ہیں!”

    جب ظہران ممدانی نے جیت کے بعد تقریر کی —تو یہ سیاست نہیں، **روح کی گہرائی سے نکلی ہوئی آواز** تھی۔ انہوں نے کہا:

    “میں اُس مذہب سے تعلق رکھتا ہوں، جو انصاف، محبت اور برابری کا درس دیتا ہے۔ میں ایک فخریہ مسلمان ہوں، اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ نیویارک میں ہر شہری خود کو محفوظ، محترم اور برابر محسوس کرے گا۔” پورا ہال کھڑا ہو گیا، نوجوانوں نے “Unity and Justice for All” کے نعرے لگائے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب صرف ایک شخص نہیں، بلکہ پوری کمیونٹی جیت گئی تھی۔ ظہران ممدانی نے کہا: “یہ شہر صرف امیروں یا طاقتوروں کا نہیں — یہ سب کا ہے۔ چاہے آپ مسلمان ہوں یا یہودی، سیاہ فام ہوں یا سفید، ہم سب ایک ہیں — نیویارک والے! ان کے یہ الفاظ صرف تقریر نہیں تھے، بلکہ ایک **وعدہ** تھے — انصاف، امن اور برابری کا وعدہ۔ اور آخر میں‌ ممدانی امریکا کے صدر ٹرمپ جو شروع ہی سے ان کی شدید مخالف گردانے جاتے ہیں‌ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ سن لیں، نیویارک تارکین وطن کا شہر ہے اور رہے گا۔ ظہران ممدانی نے نیویارک کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم نےنیویارک میں تاریخ رقم کردی، عوام نے ثابت کردیا پاور ان کے ہاتھ میں ہے، نیویارک میں موروثی سیاست کا خاتمہ کردیا۔ ظہران ممدانی کی جیت ہمیں یہ سکھاتی ہے — کہ اگر نیت صاف ہو، ایمان مضبوط ہو، اور خدمت کا جذبہ دل میں ہو، تو دنیا کا کوئی شہر، کوئی خواب، آپ سے دُور نہیں۔ یہ صرف نیویارک کی نہیں — پوری اُمت کی جیت ہے۔ “ظہران ممدانی — ایک نام نہیں، ایک عہد ہے۔ کہ ایمان اور انصاف ساتھ چل سکتے ہیں اور جب ساتھ چلیں تو تاریخ بدل جاتی ہے۔”

  • پاکستان کے پاس سب کچھ ہے… مگر ترقی کیوں نہیں؟

    نقارہ حق

    یہ سرزمین سونا اگلنے والی ہے…
    یہی زمین، جو دنیا کے نقشے پر قدرت کا شاہکار ہے۔ پہاڑوں کی برف، دریاؤں کا پانی، زرخیز کھیت، نیلے سمندر، اور ان سب کے درمیان ایک قوم — جو محنتی بھی ہے، باصلاحیت بھی۔

    پھر سوال یہی ہے:
    جب سب کچھ ہمارے پاس ہے…
    تو ترقی کیوں نہیں؟ غربت کیوں ہے؟ مایوسی کیوں ہے؟
    اور غلامی کے احساس سے ہم آج تک آزاد کیوں نہیں ہو سکے؟

    اس موضوع کی وضاحت ہم 8 حصوں میں کریں گے

    **حصہ 1: وسائل کا سمندر — مگر استعمال صفر**

    پاکستان کو قدرت نے بے شمار خزانے عطا کیے۔ مگر وہ خزانے آج بھی زمین میں مدفن ہیں — کیونکہ نیتیں دفن ہو چکی ہیں۔

    ہمارے پاس **Hydropower potential 60,000 megawatts** ہے،
    مگر ہم صرف **10,635 MW** ہی استعمال کر رہے ہیں۔

    ہم دنیا کے **Top 10 water-scarce countries** میں شامل ہیں، اور اپنے دستیاب پانی کا تقریباً **30%** پرانے نظام کے باعث ضائع کر دیتے ہیں۔

    زراعت ہمارا فخر ہے — یہ جی ڈی پی کا 23 فیصد بنتی ہے — مگر کسان آج بھی بیل اور پرانے اوزاروں کے سہارے ہیں۔

    تھر کے کوئلے کے ذخائر 175 ارب ٹن ہیں — جو **100,000 MW** بجلی **200 سال** تک پیدا کر سکتے ہیں — مگر ہمارے گھروں میں اندھیرا ہے۔

    یہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی ہم خاموش کیوں ہیں؟ یہ وسائل خاموش نہیں — ہم خاموش ہیں۔

    **حصہ 2: توانائی کا بحران — اندھیرے کا کاروبار**

    دنیا renewable energy کی طرف جا رہی ہے، اور ہم آج بھی دو کھرب ساٹھ ارب روپے کے گردشی قرضے (Circular Debt) کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔ ہم ڈیم نہیں بناتے، کیونکہ کمیشن وہاں نہیں ہوتا۔ ہم سستی بجلی نہیں دیتے، کیونکہ طاقتوروں کا منافع کم ہو جاتا ہے۔

    ایران سے سستا تیل اور گیس خریدنے کی گنجائش موجود ہے، مگر اجازت نہیں۔ تھر، ہوا، سورج — سب ہمارے پاس ہیں — مگر عوام کے حصے میں اندھیرا آتا ہے۔

    یہ ملک بجلی سے نہیں، پالیسی سے محروم ہے۔

    **حصہ 3: زراعت — وہ جو ہمیں زندہ رکھتی ہے**

    ایک کسان صبح سے شام تک پسینہ بہاتا ہے۔ زمین کو سیراب کرتا ہے، لیکن خود بھوکا سو جاتا ہے۔

    دنیا smart irrigation systems اور drone farming تک پہنچ گئی، مگر ہم آج بھی manually پانی چھوڑنے کے لیے نالوں میں کھڑے ہیں۔

    وہی کسان جو ہماری غذائی ریڑھ کی ہڈی ہے،
    قرضوں، مہنگائی، اور middlemen کے شکنجے میں پسا ہوا ہے۔

    یہ نظام کسان کو نہیں، بلکہ بھوک کو زندہ رکھتا ہے۔

     

    Youtube - Human Rights Media Network
    Youtube – Human Rights Media Network

    **حصہ 4: تعلیم — علم سے خوفزدہ نظام**

    وہ بہتر تعلیم دے سکتے تھے، مگر نہیں دی۔ کیونکہ تعلیم یافتہ قوم سوال کرتی ہے، اور سوال کرنے والی قوم کبھی غلام نہیں رہتی۔

    Pakistan کی literacy rate آج بھی **58%** ہے،
    جبکہ بنگلہ دیش **76%** پر پہنچ چکا ہے۔

    یہ نظام علم نہیں دیتا، یہ اطاعت سکھاتا ہے۔ یہ شعور نہیں جگاتا، یہ خاموشی پھیلاتا ہے۔

    اور جب قوم سوچنا چھوڑ دے — تو حکمران بادشاہ بن جاتے ہیں۔

    **حصہ 5: قانون، انصاف اور خوف**

    یہ وہ ملک ہے جہاں انصاف نایاب ہے۔ جہاں عدالتوں میں لاکھوں مقدمات برسوں سے لٹکے ہوئے ہیں۔
    جہاں امیر کا قانون الگ، اور غریب کے لیے صرف صبر۔

    یہاں جرم نہیں پکڑا جاتا — یہاں “کمزور” پکڑا جاتا ہے۔

    یہ نظام عوام کی حفاظت نہیں کرتا، بلکہ طاقتوروں کی دیواریں مضبوط کرتا ہے۔

    **حصہ 6: کرپشن — وہ ناسور جس نے جڑیں کھا لیں**

    دنیا کی کرپشن انڈیکس میں 180 ممالک میں پاکستان کا نمبر 133 ہے۔
    یہ اعداد و شمار نہیں، شرمندگی ہے۔

    یہ وہ “وہ” ہیں جنہوں نے وعدے کیے،
    مگر نیتیں بیچ دیں۔
    جنہوں نے ترقی کے نام پر قرض لیے،
    اور اپنے اکاؤنٹس بھرے۔

    یہ ملک کے خزانوں کو نہیں لوٹتے،
    یہ عوام کے خواب لوٹتے ہیں۔

    اور سب سے خطرناک چوری وہ ہے —
    جب امید چوری کر لی جائے۔

    **حصہ 7: غلامی کا نیا چہرہ**

    آج زنجیریں نہیں، بلکہ نظام غلام بناتا ہے۔

    جب آپ زیادہ محنت کرتے ہیں، وہ زیادہ ٹیکس لگا دیتے ہیں۔ جب آپ اپنی زندگی بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ مہنگائی کا ہتھوڑا گرا دیتے ہیں۔

    یہ غلامی اب جسم کی نہیں — ذہن کی ہے۔ یہ زنجیر اب لوہے کی نہیں — نظام کی ہے۔

    اور ہم سب…
    اس قید میں ہیں۔

    **حصہ 8: بیداری — وہ لمحہ جو سب بدل سکتا ہے**

    لیکن یاد رکھیں — یہ کہانی ختم نہیں ہوئی۔

    اب بھی وقت ہے،
    کہ ہم اپنی آنکھیں کھولیں، اور پہچانیں کہ دشمن کوئی باہر نہیں — دشمن وہ سوچ ہے جو ہمیں خاموش رکھتی ہے۔

    ہم سیاست کے غلام نہیں، ہم شعور کے سپاہی ہیں۔

    اگر ہم ایک قوم بن کر سوچیں —
    تو یہ زمین ایک بار پھر اُٹھ کھڑی ہوگی۔ پانی بہے گا، بجلی روشن ہوگی،
    اور کسان، مزدور، طالب علم — سب کا حق انہیں واپس ملے گا۔

    یاد رکھو — قومیں دولت سے نہیں، “آگہی” سے بنتی ہیں۔
    اور جب شعور جاگتا ہے، تو فرعون بھی کانپتا ہے۔

    اٹھو…
    اب خاموشی جرم ہے۔ٕ اب غلامی قبول کرنا گناہ ہے۔ اب بولنا فرض ہے۔

    یہ وطن تمہارا ہے — اس کی قسمت تمہارے قلم، تمہاری زبان اور تمہارے ضمیر سے بدلے گی۔ کیونکہ اب ہم وہ قوم نہیں رہے جو خواب دیکھتی ہے — اب ہم وہ قوم ہیں جو خواب پورے کرے گی۔

    مشہور شاعر عدم نے ایسی ہی قوم کے لئے ایک بار کہا تھا کہ
    عالمِ تخلیق کے اس حیرت کدے میں اے عدم
    جس کو جتنی آگہی تھی، اُس قدر خاموش تھا۔

    اور ظفر علی خان نے قیام پاکستان کے تناظر میں‌ ایک صدی پہلے کہا تھا

    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ جس کو خیال خود اپنی حالت بدلنے کا

    پھر قرآن نے بھی اپنے کلام میں یہ کہہ کر مہر ثبت کر دی ہے

    قرآن پاک کی سورہ الرعد کی آیت میں اللہ ہمیں آگاہ کرتا ہے:

    إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنفُسِهِمْ
    “بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔” — سورة الرعد 13:11

    یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تبدیلی کا آغاز خود سے ہوتا ہے۔ اب خاموشی جرم ہے، اب محنت فرض ہے، اب شعور اور آگہی لازم ہے۔

  • سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچز کا نیا روسٹر جاری کردیا گیا

    سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچز کا نیا روسٹر جاری کردیا گیا

    کراچی (بولو نیوز) سندھ ہائیکورٹ نے گورنر سندھ کے آرڈیننس 2025 کے تحت آئینی بینچز کا نیا روسٹر جاری کر دیا ہے۔ دو آئینی بینچز قائم کیے گئے ہیں جو آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت درخواستیں سنیں گے۔ پہلا بینچ جسٹس یوسف علی سعید اور جسٹس عبدالمبین لاکھو پر مشتمل ہوگا جبکہ دوسرا بینچ جسٹس عدنان اقبال چوہدری اور جسٹس جعفر رضا پر مشتمل ہوگا۔ تمام زیر التوا آئینی مقدمات ان بینچز کو منتقل ہوں گے اور الگ سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا۔