Author: Nadeem Ahmed Jamal

  • عدالت کے حکم کے باوجود مجھے عمرے پر نہیں جانے دیا گیا: شیخ رشید

    راولپنڈی (بولونیوز) سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ مجھے عدالت کے حکم کے باوجود عمرے پر نہیں جانے دیا گیا۔ شاید شیخ صاب کو پتہ نہیں ہے کہ پاکستان میں 78 سال سے فوج کا حکم چلتا ہے. یہ حکمران، پولیس، بیوروکریٹس اور ججز سارے کٹ پتلی ہیں-
    لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ کے باہر سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے بتایا کہ جسٹس صداقت علی خان کی عدالت میں ہتک عزت کی رٹ پٹیشن دائر کی، عدالت نے محکمہ پاسپورٹ، ایف آئی اے کو نوٹس جاری کیے۔

    شیخ رشید احمد نے یہ بھی بتایا کہ عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 25 نومبر تک ملتوی کر دی، آئینی مراحل کے تقاضے میرے وکیل سردار عبد الرازق نے پورے کئے ہیں۔

    انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ جج نے کہا ایک شخص سترہ دفعہ وزیر رہا اور اسے عمرے سے روکا جارہا ہے، اگلے منگل فائنل رپورٹ عدالت میں جمع کروائی جائے گئی-

  • کینسر کی کم عمر مریضہ مدیثہ بخاری ہرنائی کی اعزازی ڈپٹی کمشنر مقرر

    ہرنائی (بولونیوز) کینسر کی کم عمر مریضہ مدیثہ بخاری کو ڈپٹی کمشنر ارشد حسین جمالی نے اعزازی ڈپٹی کمشنر مقرر کیا ہے۔ مدیثہ نے ڈی سی آفس آکر سائلین کے مسائل سنے اور دستاویزات پر دستخط کیے۔ انہیں مکمل سرکاری پروٹوکول کے ساتھ ڈی سی کی گاڑی میں شہر کا گشت بھی کرایا گیا۔ ڈی سی کے اس اقدام نے نہ صرف مدیثہ کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیری بلکہ مقامی شہریوں نے بھی اسے سراہا۔ یہ اقدام ہمدردی اور حوصلہ افزائی کی ایک قابل تعریف مثال سمجھا جا رہا ہے۔

  • وزیراعلیٰ سندھ کا بچوں کے استحصال کے خلاف جنگ کا عزم

    کراچی (بولونیوز) بچوں کے جنسی استحصال، بدسلوکی اور تشدد سے بچاؤ کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بچوں کے تحفظ کو ریاست کی بنیادی ذمہ داری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بچے ہمارا مستقبل ہیں اور ان کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ وزیراعلیٰ نے بچوں کے استحصال کی روک تھام کے لیے مضبوط اقدامات اور سماجی شعور بیدار کرنے پر زور دیا۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے اور متاثرہ بچوں کے لیے انصاف تک رسائی یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے معاشرے کے ہر طبقے سے بچوں کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔

  • ڈاکٹر عشرت العباد خان نے قومی کرکٹ ٹیم کی کامیابی پر مبارکباد دی

    کراچی ( بولونیوز) سابق گورنر سندھ و میری پہچان پاکستان (ایم پی پی) کے سربراہ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے قومی کرکٹ ٹیم کی سری لنکا کے خلاف ٹی ٹونٹی اور ون ڈے سیریز میں کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے سہ فریقی سیریز میں پاکستان کی کامیابی کے لیے دعا بھی کی۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے نابینا کرکٹ ٹیم کی بھارت پر فتح کو بھی سراہا اور کھیلوں کے میدان میں پاکستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی کو “فتح بینان المرصوص” کا تسلسل قرار دیا۔ انہوں نے بھارت کی اسپورٹس مین شپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہندوتوا کی نفرت انگیز سوچ پوری دنیا میں عیاں ہو چکی ہے۔

  • افغانستان پر حملوں میں پاکستان کا کردار، تاریخی حقائق

    افغانستان (بولونیوز) نائن ایلیون کے بعد افغانستان پر ہونے والے پہلے فضائی حملے 7 اکتوبر 2001 کو عرب ممالک کے اڈوں اور بحر عرب میں موجود امریکی طیا بردارجہازوں سے کیے گئے۔ زمینی فوج نومبر 2001 میں عرب ہوائی اڈوں سے افغانستان میں اتاری گئی۔ پاکستان کےفوجی اڈے دسمبر 2001 کے بعد صرف ڈرون حملوں اور انٹیلیجنس مشنز کے لیے استعمال ہوئے، جب افغانستان پہلے ہی امریکی قبضے میں تھا۔ پاکستان نے طالبان کے ساتھ کھڑے نہ ہونے کی وجہ ان کی تیز شکست اور بین الاقوامی دباؤ کو بتایا، نیز پاکستان نے امریکہ کو محدود تعاون دے کر طالبان کی مکمل تباہی روکنے میں کردار ادا کیا۔ یہ حقائق افغان عوام تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

  • چین نے جاپان کو سخت وارننگ جاری کردی تائیوان میں مداخلت کا بھاری “خمیازہ” چکانا پڑے گا

    چین نے جاپان کو سخت وارننگ جاری کردی تائیوان میں مداخلت کا بھاری “خمیازہ” چکانا پڑے گا

    (بولو نیوز) چین اور جاپان کے مابین تناؤ اس وقت بڑھ گیا ہے جب چینی حکام نے جاپانی وزیراعظم سانائی تاکائیچی کے تائیوان کے حوالے سے بیان پر سخت ردعمل دیا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ اگر جاپان تائیوان میں فوجی مداخلت کرے گا تو اسے “بھاری قیمت” چکانا پڑے گی۔ چینی وزارت دفاع کے ترجمان سینئر کرنل جیانگ بن نے ایک نیوز بریفنگ میں کہا ہے کہ تائیوان کا معاملہ چین کا “داخلی معاملہ” ہے اور کسی بیرونی فوجی مداخلت کو چین برداشت نہیں کرے گا۔ مزید برآں، چینی وزارت خارجہ نے جاپان کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جاپانی لڈریڈر کو اپنے بیانات واپس لینے ہوں گے، ورنہ “تمام نتائج کی ذمہ داری جاپان پر ہوگی۔” اسی کشیدگی کے درمیان، چین نے اپنے شہریوں کو جاپان کا سفر مؤخر کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ اور چینی سفارت خانے نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ جاپان میں ان کی ذاتی حفاظت کے لیے خطرہ بڑھ گیا ہے۔ چین کے اعلان کے بعد، چند چینی ایئرلائنز نے جاپان کے لیے بک کیے گئے ٹکٹوں پر ریفنڈ اور تاریخ تبدیل کرنے کی سہولت مفت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

  • سعودی عرب نے حج 2026 کے لیے طبی شرائط سخت کر دیں: بعض عازمین پر پابندی

    سعودی عرب نے حج 2026 کے لیے طبی شرائط سخت کر دیں: بعض عازمین پر پابندی

    ریاض (بولو نیوز) سعودی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ **حج 2026** کے لیے طبی شرائط سخت کر دی گئی ہیں اور کچھ خطرناک بیماریوں کے شکار افراد حج نہیں کر سکیں گے۔ وزارت کے مطابق: گردوں کے مریض اور ڈائیلاسز کے مریض** حج کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔ پھیپھڑوں، جگر اور کینسر کے مریض** بھی حج نہیں کر سکیں گے۔ حاملہ خواتین** اور وہ افراد جو **کالی کھانسی، تپ دق یا وائرل ہیموریج بخار** میں مبتلا ہیں، ان پر بھی پابندی ہوگی۔ وزارت صحت نے خبردار کیا کہ **شرائط پوری نہ کرنے والے عازمین کو واپس بھیجا جائے گا** اور اس دوران ہونے والے تمام اخراجات خود ادا کرنا ہوں گے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ **جو ڈاکٹر فٹنس سرٹیفیکیٹ جاری کر کے غیر اہل عازمین کو حج کی اجازت دیں گے، ان کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔ یہ اقدام سعودی عرب کی جانب سے **عازمین کی صحت و سلامتی کو یقینی بنانے اور احتیاطی تدابیر مضبوط کرنے** کی کوششوں کا حصہ ہے۔

  • سعودی عرب نے حج 2026 کے لیے سخت طبی شرائط نافذ کر دیں

    سعودی عرب نے حج 2026 کے لیے سخت طبی شرائط نافذ کر دیں

    ریاض (بولو نیوز) سعودی حکومت نے حج 2026 کے لیے نئی طبی پالیسی جاری کرتے ہوئے کئی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے حج پر پابندی عائد کر دی ہے۔ نئی ہدایات کے مطابق دل، گردے، پھیپھڑوں، جگر کے شدید مریض، کینسر کے مریض، نفسیاتی امراض میں مبتلا افراد اور حاملہ خواتین حج نہیں کر سکیں گے۔ سعودی حکام دوران حج بیمار پائے جانے والے عازمین کو ڈیپورٹ کر سکیں گے، جس کا خرچہ عازمین خود ادا کریں گے۔ فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔

  • مدینہ میں بس حادثہ، 42 عمرہ زائرین ہلاک

    مدینہ میں بس حادثہ، 42 عمرہ زائرین ہلاک

    مدینہ منورہ (بولو نیوز) عمرہ زائرین کی بس اور ڈیزل ٹینکر کے تصادم کے نتیجے میں 42 افراد جاں بحق ہو گئے۔ حادثے میں 20 خواتین اور 11 بچے بھی شامل ہیں۔ تصادم کے بعد دونوں گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں صرف ایک مسافر زندہ بچ سکا۔

  • جمہوریت یا خوف؟ — تحریک لبیک پر پابندی یا سیاسی آزادی کا قتل

    اسلام آباد کی فضا میں آج پھر سیاست کی سنگین گونج سنائی دی — وفاقی کابینہ نے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں **تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی)** پر پابندی کی منظوری دے دی۔ ذرائع کے مطابق یہ سفارش **پنجاب حکومت** کی جانب سے کی گئی تھی، جس نے ٹی ایل پی پر “پرتشدد کارروائیوں اور ریاست مخالف سرگرمیوں” کے الزامات عائد کیے۔ مگر سیاسی و عوامی حلقے اس فیصلے کو کسی اور زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ اقدام دراصل **جمہوری اصولوں سے انحراف** اور **سیاسی آواز کو دبانے** کے مترادف ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق تحریک لبیک پاکستان نے حالیہ برسوں میں عوامی سطح پر اپنی ایک مضبوط پہچان قائم کی ہے۔ ان کے بڑھتے ہوئے ووٹ بینک نے حکومت کے ایوانوں میں بے چینی پیدا کر دی — اور یہی خوف اس فیصلے کی بنیاد بنا۔

    ایک مبصر نے کہا:
    “یہ صرف ایک جماعت پر پابندی نہیں، بلکہ عوامی نمائندگی کے حق پر وار ہے۔” یاد رہے کہ 2023 کے انتخابات میں بھی **تحریک انصاف** کے ووٹ بینک پر شب خون مارا گیا تھا۔ فارم 47 کے نام پر **”من پسند حکومت”** بنائی گئی — اور اب ایسا لگتا ہے کہ اسی کہانی کا نیا باب رقم کیا جا رہا ہے۔ جمہوریت کے علمبردار ملک میں اگر **سیاسی جماعتوں کو میدان سے ہٹانے** کا چلن رائج ہو جائے، تو پھر یہ جمہوریت نہیں، **آمریت کی جدید شکل** کہلائے گی۔ اسی حکومت نے **26ویں آئینی ترمیم** کے ذریعے پہلے ہی عدالتوں کو اپنی “پسند و ناپسند” کے مطابق فیصلے کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی تھی۔ اور اب ایک ایسی سیاسی جماعت کو، جو اپنے نظریے اور عوامی حمایت کے بل پر ابھری، **سیاسی صفحے سے مٹانے** کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 10 اکتوبر کو تحریک لبیک کا **سیاسی مارچ** — جو پُرامن طور پر اپنے حقوق کے اظہار کے لیے نکالا گیا — کو بہانہ بنا کر یہ پابندی عائد کر دینا، دراصل **جمہوری آزادی کے جنازے** کو کندھا دینے کے مترادف ہے۔ کیا حکومت یہ سمجھتی ہے کہ پابندیاں عوام کے دلوں سے سیاسی نظریات مٹا سکتی ہیں؟ تاریخ شاہد ہے کہ **جب بھی کسی آواز کو دبایا گیا، وہ گونج بن کر ابھری ہے۔** آج تحریک لبیک کے کارکن خاموش ہیں، مگر ان کی خاموشی آنے والے دنوں میں ایک **بلند سیاسی للکار** بن سکتی ہے —
    ایک ایسی للکار جو شاید اقتدار کے ایوانوں کو ہلا دے۔

    تحریک لبیک پر پابندی کا فیصلہ محض ایک حکومتی نوٹیفکیشن نہیں —
    یہ ایک خطرناک پیغام ہے کہ پاکستان میں سیاسی اختلاف، نظریاتی اظہار، اور عوامی آواز اب *ریاستی فیصلوں کی قید میں ہے۔* یہ فیصلہ صرف ایک جماعت کے خلاف نہیں، بلکہ **جمہوریت کے بنیادی فلسفے** کے خلاف ہے۔ اور شاید آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ یہ فیصلہ حکومت کے لیے ڈھال ثابت ہوگا — یا **جمہوری زوال کا آغاز**۔