جرمنی اور فرانس کا مشترکہ فائٹر جیٹ منصوبہ ختم، یورپ کی اسٹریٹجک خودمختاری کو بڑا دھچکا
فرانس(بولونیوز)جرمنی اور فرانس نے مؤثر طور پر مشترکہ نئے فائٹر جیٹ نیکسٹ جنریشن فائٹر (NGF) کا منصوبہ ختم کر دیا ہے، جو FCAS/SCAF پروگرام کا مرکزی حصہ تھا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب دفاعی کمپنیاں Dassault Aviation اور Airbus کام کی تقسیم (Workshare) اور دانشورانہ ملکیت (IP) کے معاملات پر کسی اتفاقِ رائے تک نہ پہنچ سکیں۔
ذرائع کے مطابق جرمن چانسلر اولاف شولز کے جانشین اور سی ڈی یو کے رہنما فریڈرک مرٹس سے توقع ہے کہ وہ اس فیصلے کی باضابطہ تصدیق اسی ہفتے ILA Berlin Air Show کے موقع پر کریں گے۔
€100 ارب یورو سے زائد لاگت والا یہ فلیگ شپ منصوبہ ایک انسان بردار (Manned) فائٹر جیٹ کی تیاری کے لیے شروع کیا گیا تھا، جسے یورپ کی دفاعی خودمختاری اور امریکی انحصار کم کرنے کی علامت سمجھا جا رہا تھا۔ تاہم موجودہ صورتِ حال میں یہ منصوبہ عملاً ختم ہو چکا ہے، جو یورپ کی所谓 “اسٹریٹجک خودمختاری” کی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق جرمنی اور فرانس کے درمیان صنعتی مفادات، اختیارات کی تقسیم اور ٹیکنالوجی پر کنٹرول جیسے حساس معاملات نے منصوبے کو شدید اختلافات کی نذر کر دیا۔ اب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یورپی دفاعی تعاون کے اس خواب کو یا تو نئے سرے سے ڈیزائن کیا جائے گا یا متبادل راستے اختیار کیے جائیں گے، تاہم موجودہ شکل میں FCAS/SCAF کا مستقبل ختم سمجھا جا رہا ہے۔


