امیگریشن چیکنگ کے دوران ہزاروں افراد آف لوڈ، بیرونِ ملک غیر قانونی قیام کے انکشافات
اسلام آباد(بولونیوز) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل نے انکشاف کیا ہے کہ امیگریشن چیکنگ کے سخت عمل کے باعث سال 2025 کے دوران مجموعی طور پر 39 ہزار 786 افراد کو سفری دستاویزات یا دیگر قانونی تقاضے پورے نہ ہونے پر آف لوڈ کیا گیا۔
ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق گجرات اور منڈی بہاؤالدین سے پہلی بار وزٹ ویزے پر بیرونِ ملک جانے والے متعدد مسافروں کو نہ غیر ملکی کرنسی کے قواعد کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی انہیں متعلقہ ملک کے دارالحکومت یا قیام کی جگہ سے آگاہی ہوتی ہے، جس کے باعث انہیں امیگریشن مراحل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 10 ہزار پاکستانی اسٹوڈنٹ ویزا پر برطانیہ گئے، جہاں پہنچنے کے بعد انہوں نے سیاسی پناہ کی درخواستیں دے دیں، جو تشویشناک رجحان ہے۔ اسی طرح 580 پاکستانی بیلاروس گئے مگر واپس نہیں آئے، جبکہ رواں سال 7 ہزار پاکستانی آذربائیجان وزٹ ویزے پر جا کر واپس نہ لوٹے۔
ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائی کے دوران لیبیا سے 175 پاکستانیوں کو گرفتار کر کے واپس پاکستان منتقل کیا گیا، جن میں بیشتر افراد غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے انسانی اسمگلنگ، جعلی دستاویزات اور غیر قانونی ہجرت کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ بیرونِ ملک سفر سے قبل ویزا شرائط، قیام، مالی وسائل اور متعلقہ قوانین کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل کریں تاکہ کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔


