لیاقت آباد کے نجی اسپتال میں نوجوان کی ہلاکت، سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کا بڑا فیصلہ، غفلت ثابت

کراچی(بولونیوز)لیاقت آباد کے نجی اسپتال میں 14 ماہ قبل تین بچوں کے باپ کی ہلاکت کے معاملے پر سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے اپنی تحقیقاتی رپورٹ منظرِ عام پر لے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عبد الخالق عبد الرزاق اسپتال کراچی میں شدید طبی غفلت اور لاپروائی ثابت ہوئی ہے، جس پر اسپتال پر 1 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 32 سالہ نوجوان انیس متین کی موت ناقص نظامِ علاج اور ایمرجنسی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث ہوئی، جبکہ ماہرین کے مطابق یہ ایک قابلِ تدارک موت تھی۔ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اسپتال کے ایمرجنسی روم میں وینٹی لیٹر، کریش کارٹ اور دیگر بنیادی طبی آلات موجود نہیں تھے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ایمرجنسی میں تعینات ڈاکٹر کے پاس BLS اور ACLS جیسی بنیادی لائف سپورٹ تربیت موجود نہیں تھی، جبکہ دل کے دورے کی بروقت تشخیص نہ ہو سکی اور ECG کی سہولت بھی دستیاب نہیں تھی۔

سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے نجی اسپتال کو فوری طور پر SHCC میں رجسٹریشن کروانے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ اگر ایمرجنسی سروسز کو بہتر نہ بنایا گیا تو ایمرجنسی روم بند کر دیا جائے گا۔ کمیشن نے عوام کو بھی ہدایت کی ہے کہ صرف ایسے اسپتالوں کا انتخاب کریں جہاں مکمل طبی سہولیات اور تربیت یافتہ عملہ موجود ہو۔

دوسری جانب سپر مارکیٹ پولیس نے کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے کے باوجود مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس پر متاثرہ خاندان شدید پریشانی کا شکار ہے۔ رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاندان کو 30 دن کے اندر اپیل کا قانونی حق حاصل ہے۔

متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ وہ تاحال انصاف کے لیے دربدر ہیں اور اعلیٰ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ واقعے کا مقدمہ درج کر کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *