سندھ سے تعلق رکھنے والے راؤ عبدالکلیم پنجاب پولیس کے نئے سربراہ مقرر
لاہور/کراچی(بولونیوز)پولیس سروس آف پاکستان کے گریڈ 21 کے سینئر افسر راؤ عبدالکلیم کو پنجاب پولیس کا نیا انسپکٹر جنرل مقرر کر دیا گیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ راؤ عبدالکلیم کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے اور ان کا آبائی ضلع نوابشاہ (موجودہ شہید بینظیر آباد) ہے، جو صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کا بھی آبائی شہر اور انتخابی حلقہ ہے۔
راؤ عبدالکلیم نے 1996 میں سی ایس ایس امتحان پاس کر کے پولیس سروس آف پاکستان جوائن کی۔ انہیں پولیسنگ کا تقریباً 30 سالہ وسیع تجربہ حاصل ہے۔ آئی جی پنجاب تعینات ہونے سے قبل وہ پولیس کے ایک نہایت اہم اور حساس عہدے ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
پنجاب پولیس کی سربراہی پر سندھ سے تعلق رکھنے والے افسر کی تعیناتی نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا سندھ میں بھی کسی دوسرے صوبے سے تعلق رکھنے والے افسر کو مستقل بنیادوں پر آئی جی سندھ مقرر کیا جا سکتا ہے یا پھر یہاں دیگر صوبوں سے صرف نگراں یا عارضی مدت کے لیے ہی آئی جی تعینات کیے جاتے رہیں گے۔
دوسری جانب سندھ پولیس کے رینکرز کی بڑی تعداد کا یہ تاثر ہے کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے آئی جیز کے دور میں نچلے درجے کے افسران اور اہلکاروں کے لیے خاطر خواہ فلاحی اور محکمانہ اقدامات نہیں کیے جاتے۔ رینکرز کا کہنا ہے کہ بروقت ترقیوں، مراعات اور دیگر سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث آئی جی سندھ کا عہدہ ان کے لیے “ملازم دشمن” تصور کیا جاتا ہے۔
اس کے برعکس، جب بھی پنجاب یا دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے افسران محدود مدت کے لیے آئی جی سندھ تعینات ہوئے، انہوں نے رینکرز کی فلاح و بہبود کے لیے نمایاں اقدامات کیے۔ پولیس حلقوں میں سابق آئی جی سندھ راجہ رفعت مختیار کا نام آج بھی بطور مثال لیا جاتا ہے، جن کے دور میں پولیس اہلکاروں کے لیے متعدد پولیس دوست اصلاحات کی گئیں۔
راؤ عبدالکلیم کی بطور آئی جی پنجاب تعیناتی کو پولیس سروس میں بین الصوبائی اعتماد اور پیشہ ورانہ قابلیت کی ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے۔


