اسرائیل نے پہلی بار 71 ہزار فلسطینیوں کے قتل کا اعتراف کرلیا

غزہ / تل ابیب(بولونیوز)صہیونی ریاست کی فوج نے اکتوبر 2023 سے جاری غزہ جنگ کے دوران 71 ہزار فلسطینیوں کے قتل کا پہلی بار اعتراف کر لیا ہے۔ یہ اعتراف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی ادارے گزشتہ دو برس سے زائد عرصے سے غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 71 ہزار سے تجاوز کر جانے کی تصدیق کرتے آ رہے تھے۔

ایک نجی اخبار نے آئی ڈی ایف کے اعتراف پر مبنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہ تعداد صرف ان افراد پر مشتمل ہے جو براہِ راست فوجی کارروائیوں میں مارے گئے، جبکہ ملبے تلے دبے لاپتہ افراد، بھوک اور بیماری کے باعث ہونے والی اموات اس میں شامل نہیں ہیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 71 ہزار 667 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں سے 90 فیصد سے زائد کی شناخت ناموں اور شناختی نمبرز کے ذریعے کی جا چکی ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی ان اعداد و شمار کو قابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ اس کے برعکس اسرائیل ماضی میں غزہ کی وزارتِ صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کو ناقابلِ اعتبار قرار دیتا رہا ہے۔

ادھر جنگ بندی معاہدے کے باوجود صہیونی ریاست کی جانب سے غزہ کے مظلوم مسلمانوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے، اور جنگ بندی کے دوران بھی کئی سو فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوجی حملوں میں شہید ہونے والوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ اس سے کہیں زیادہ افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ مسلسل فضائی اور زمینی حملوں کے باعث غزہ کا بڑا حصہ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے، اور انسانی بحران مزید سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *