ایک کلو ہیروئن اسمگلنگ کیس: سپریم کورٹ نے ملزم کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی
اسلام آباد(بولونیوز)سپریم کورٹ نےایک کلو ہیروئن اسمگلنگ کے مقدمے میں نامزد ملزم عبدالودود کی درخواستِ ضمانت مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو 60 روز کے اندر مقدمے کا فیصلہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر مقررہ مدت میں مقدمے کا فیصلہ نہ ہو سکا تو ملزم دوبارہ ضمانت کے لیے درخواست دائر کر سکتا ہے۔
سماعت کےدوران ملزم کےوکیل نےدلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا موکل ضمانت کا اہل ہے، کیونکہ مقدمے میں نہ کوئی ویڈیو ریکارڈنگ موجود ہے، نہ ٹھوس شواہد اور نہ ہی کوئی گواہ۔ وکیل نے کہا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کو ملک کی سپیریئر ایجنسی قرار دیا جاتا ہے، تاہم شواہد کے بغیر ملزم کو ملوث کیا گیا۔
اس پرجسٹس جمال مندوخیل نےریمارکس دیےکہ پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ سپیریئر ایجنسی کون سی ہے۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایک ٹرک سے مجموعی طور پر 10 کلو ہیروئن برآمد ہوئی، جبکہ ملزم کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ درخواست گزار صرف کنڈکٹر تھا اور اس پر ایک کلو ہیروئن ڈال دی گئی۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اے این ایف کا طریقۂ کار ماضی میں اچھا تھا، تاہم اب اس پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کے اصل مالکان آج تک نہیں پکڑے جاتے، مخبر گاڑی کے ذریعے اسمگلنگ کی اطلاع تو دیتے ہیں لیکن اصل مالکان کے بارے میں نہیں بتاتے، اور نہ ہی گاڑی لوڈ ہونے کے وقت اطلاع دی جاتی ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اے این ایف کو اصل ملزمان کا علم نہیں، تاہم عدالت جذبات کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرتی۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایک کلوگرام ہیروئن بھی بہت بڑی مقدار ہے۔
تمام دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے ملزم عبدالودود کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی۔


