گل پلازا سانحے کے بعد شہر میں مایوسی کی کیفیت، حافظ نعیم الرحمٰن کا بیان
کراچی(بولونیوز)ادارۂ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے گل پلازا سانحے کے بعد کراچی میں پیدا ہونے والی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ گل پلازا میں آگ بجھانے کے لیے کوئی انتظام موجود نہیں تھا اور سندھ حکومت کی کارکردگی اس قدر ناقص ہے کہ بارش ہو تو پانی کا نکاس نہیں کر سکتے اور آگ لگ جائے تو اسے بجھانے میں ناکام ہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے مزید کہا کہ نہ صوبائی اور نہ وفاقی حکومت کے پاس کراچی کے مسائل کا حل ہے، بلکہ یہ کام صرف کراچی سٹی گورنمنٹ کے اختیار میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ شہری جسے منتخب کریں، اسے میئر بننا چاہیے، قبضہ میئر نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے گرین لائن منصوبے کی ناکامی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 10 سال گزرنے کے باوجود یہ منصوبہ مکمل نہیں ہوا، اور بدعنوانی اور کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریڈ لائن منصوبے کے لیے بنی ہوئی سڑک کو توڑ دیا گیا اور شہر کا انتظام برباد ہو رہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ گل پلازا سانحے کے بعد شہریوں میں بے بسی اور مایوسی کی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔ فائر فائٹرز کے پاس آگ سے بچاؤ کے لیے ضروری لباس اور ماسک بھی موجود نہیں ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ یکم فروری کو “جینے دو کراچی کو” مارچ ہوگا، جس کا مقصد شہر کو مافیا سے آزاد کرانا ہے۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے سابق میئر نعمت اللہ اور عبدالستار افغانی پر الزامات کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کو اپنی نااہلی کا اعتراف کرتے ہوئے فوری استعفیٰ دینا چاہیے۔


